حکومت آزادکشمیر اور پاک فوج کے اشتراک سے کشمیر انسٹیٹیوٹ آف مینجمنٹ میں تین روزہ یوتھ اینڈ میڈیا ورکشاپ کا آغاز کر دیا گیا۔ اس ورکشاپ کا مقصد نوجوانوں کی استعداد کار کو بڑھانا اور میڈیا کے مثبت کردار کو اجاگر کرنا ہے۔ جامعہ کشمیر کے طلبہ، مختلف مکاتب فکر کے نوجوانوں اور صحافیوں کی بڑی تعداد نے اس اہم ایونٹ میں شرکت کی۔ورکشاپ کے پہلے روز سابق صدر ریاست آزاد جموں و کشمیر اور امریکا میں پاکستانی سفارت خانے کے سابق سفیر سردار مسعود خان اور نامور صحافی اسلم میر نے خصوصی طور پر شرکت کی اور اہم موضوعات پر شرکاء کو آگاہی فراہم کی۔سابق صدر سردار مسعود خان نے ”عالمی اور علاقائی نظام میں بدلتے ہوئے حالات اور ان کے پاکستان کی قومی سلامتی پر اثرات” کے موضوع پر تفصیلی بریفنگ دی۔ انہوں نے شرکاء کو بدلتی ہوئی عالمی سیاست، خطے میں طاقت کے توازن، اور ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے نوجوانوں اور میڈیا کے کردار پر روشنی ڈالی۔ سابق صدر آزاد کشمیر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ سی پیک ہماری لائف لائن اور پاکستان کی معاشی ترقی و خوشحالی کی ضمانت ہے چین کی حکومت اور عوام نے مشترکہ محنت لگن کی بدولت ترقی کی اور دنیا کی سب سے بڑی اور مضبوط معیشت بن گیا جہاد کی اہمیت اسلام سے واضح ہے مسلمانوں کو جہاد سے الگ نہیں کیا جا سکتا تاہم اسلام میں از خود جہاد کا تصور نہیں جہاد کے اعلان کا اختیار اسلامی ریاست کو حاصل ہے دنیا کا مزاج بدل چکا ہمیں ترقی کے لیے جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کرنا ہوگا کشمیر بینک کو شیڈول ہو جانا چاہیے۔ آزاد کشمیر میں اس وقت 3400 میگا واٹ بجلی پیدا ہو رہی ہے جبکہ آئندہ 10 سال میں یہاں سے 10 ہزار میگا واٹ بجلی پیدا ہو سکتی ہے۔پاک فوج اور حکومت آزاد کشمیر کے اشتراک سے منعقد ہونے والی میڈیا اینڈ یوتھ ورکشاپ کشمیر کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے ازاد کشمیر کے سابق صدر اور معروف سفارت کار کا کہنا تھا کہ پاکستان اور چین کی دوستی کسی تعارف کی محتاج نہیں پاکستان کا چین کے ساتھ بہترین فوجی سیاسی اور معاشی تعلق ہے مشترکہ فوجی مشقیں اس کا واضح ثبوت ہے چین زندگی کے ہر شعبہ میں بہت اگے ہے اور اس وقت 140 ممالک کے ساتھ سرمایہ کاری کر رہا ہے چین نے ترقی سخت محنت اور عوامی لگن سے کی بھارت دنیا کے سامنے دو چہرے رکھتا ہے وہ ایک طرف تو امریکہ کے ساتھ ہے جبکہ دوسری جانب اس کی نظریں روس سے تعلقات پر ہیں اور وہ بیک وقت برکس اور ایس سی او کا ممبر ہے ان کا کہنا تھا کہ کشمیر میں عملا جہاد کا اغاز 1832 میں مہا راجہ کے خلاف بغاوت سے ہوا اور اس کے بعد یہ سلسلہ چلتا گیا ہندوستان اپنے ائین میں جتنی بھی تبدیلیاں کر لے وہ بین الاقوامی برادری کے لیے اقوام متحدہ کی قراردادوں کا متبادل نہیں ہو سکتیں ان کا کہنا تھا کہ ازاد کشمیر میں بجلی پیدا کرنے کے ذرائع موجود ہیں اس شعبے پر مزید توجہ دینا ہوگی جبکہ کشمیر بینک کو اگر شیڈول کر دیا جائے اور ازاد کشمیر کی یونیورسٹیوں میں نوجوانوں کو جدید ٹیکنالوجی بالخصوص سافٹ ویئر اور اے ائی کی طرف راغب کیا جائے تو ہم مستقل میں بھتریں معاشی ترقی کر سکتے ہیں انہوں نے کہا کہ سچ کو تقویت دیں مسلمان اور جہاد کو الگ نہیں کیا جا سکتا تاہم جہاد کے لیے ضروری ہے کہ اس کا اعلان ریاست کرے کوئی شخص از خود جہاد کا فیصلہ نہیں کر سکتا سابق سفیر نے بتایا کہ پاکستان ایک پرامن ملک ہے لیکن اگر کوئی پاکستان پر جنگ مسلط کرتا ہے تو اس سے بھرپور جواب دینے کے لیے اپنی تیاری کرنے کا پورا حق حاصل ہے۔
سینئرصحافی اسلم میر نے ”پاکستان اور آزادکشمیر کے میڈیا لینڈ اسکیپ، اس سے جڑے ضوابط و اخلاقیات، سوشل میڈیا کے اثرات” کے موضوع پر جامع بریفنگ دی۔ انہوں نے میڈیا کے مختلف پہلوؤں اور سوشل میڈیا کی بڑھتی ہوئی اہمیت پر زور دیتے ہوئے نوجوانوں کو حقائق پر مبنی اور ذمہ دارانہ صحافت کے اصولوں سے آگاہ کیا۔
سینئر صحافی محمد اسلم میر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میڈیا میں کسی چیز کو بغیر ثبوت کے پیش نہیں کیا جانا چاہیے اور لوگوں کو چاہیے کہ وہ ثبوت کے بغیر کسی چیز پر یقین نہ کریں انہوں نے کہا کہ ماضی میں پرنٹ میڈیا کو اہمیت حاصل تھی اور ڈیکلریشن حاصل کرنے کے لیے بہت سے مراحل سے گزرنا پڑتا تھا بعد ازاں الیکٹرانک میڈیا میں بھی چینل کے لائسنس حدود و قیود مقرر کر کے دیے جاتے تھے مگر موجودہ سٹیزن جرنلزم یا سوشل میڈیا چونکہ مادر پدر ازاد ہے اس لیے فیک نیوز سب سے بڑا چیلنج ہے غلط معلومات تباہی پھیلانے کا باعث بنتی ہیں ائین پاکستان کے تحت معلومات تک رسائی کا حق دیا گیا ہے مگر ان معلومات کا غلط استعمال قابل گرفت ہے سوشل میڈیا کے سٹریکچر کو ری ڈیزائن کرنے کی ضرورت ہے میڈیا کو قواعد و ضوابط کی پابندی کرنی چاہیے الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کے لیے ضروری ہے کہ وہ سچائی غیر جانبداری ازادی اپنے محاسبہ اور اعتماد کی فضا کو فروغ دیں ان کا کہنا تھا کہ منفی ذہن صرف تنقید کرتا ہے ذمہ دار صحافی کا کام ہے کہ وہ معاملہ کی تحقیق کرے اور سنی سنائی بات اور خواہش کو خبر نہ بنائے انہوں نے کہا کہ دو سوال ایک شخص کے ذہن میں ہونا ضروری ہے کہ اپ کیا جاننا چاہتے ہیں اور اپ کو کیا جاننا چاہیے رائے عامہ کو سچائی کے ساتھ تبدیل کیا جانا چاہیے نہ کہ رائے عامہ کو پراپیگنڈے کے طور پر غلط استعمال کیا جائے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے مخالف ممالک بالخصوص ہمارا پڑوسی ملک بھارت پاکستان کے اندر افرا تفری پیدا کر کے پاکستان کی معیشت کو کمزور رکھنا چاہتا ہے اور اس مقصد کے لیے اس نے بہت سارے پلیٹ فارم ترتیب دیے ہیں ہمیں ان کا الہ کار نہیں بننا چاہیے ان کا کہنا تھا کہ صحافت ذمہ داری کے ساتھ ہونا چاہیے اور سوشل میڈیا پر انے والی کسی بھی چیز کو جانچ پرکھ کر اگے بھیجنا چاہیے انہوں نے کہا کہ میڈیا کا کام صرف منفی چیزوں کو اجاگر کرنا نہیں بلکہ میڈیا کی ذمہ داری میں اچھائیوں کو سامنے لانا بھی ہے۔
یوتھ اینڈ میڈیا کشمیر ورکشاپ میں آزاد کشمیر کے سینیئر صحافیوں نوجوانوں یونیورسٹی کے طلبہ و طالبات اور دیگر افراد نے شرکت کی۔شرکاء نے اس موقع پر ورکشاپ کو معلوماتی اور تربیتی لحاظ سے انتہائی مفید قرار دیا۔شرکاء نے حکومت آزادکشمیر اور پاک فوج کے اس اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایسی ورکشاپس نوجوانوں میں مثبت سوچ اور معاشرتی بہتری کے لیے ان کے کردار کو نکھارنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ نوجوانوں نے مطالبہ کیا کہ مستقبل میں بھی ایسے پروگرامز کا انعقاد جاری رکھا جائے تاکہ نئی نسل دشمن عناصر کے منفی پروپیگنڈے سے محفوظ رہ سکے۔ورکشاپ کے کامیاب انعقاد پر شرکاء نے منتظمین کو مبارکباد دی اور اس امید کا اظہار کیا کہ یہ اقدامات نوجوان نسل کی تربیت اور میڈیا کے مثبت کردار کے فروغ میں معاون ثابت ہوں گے۔یہ ورکشاپ نوجوانوں کی صلاحیتوں کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ میڈیا کی ذمہ داریوں اور اخلاقیات کے شعور کو اجاگر کرنے کے لیے ایک اہم پیش رفت ہے۔ تقریب کے اختتام پر مقررین کو شیلڈز بھی پیش کی گئیں۔

