جموں وکشمیرلبریشن سیل لاء فیئرونگ اورپنجاب یونیورسٹی کے شعبہ کشمیریات کے اشتراک سے اورینٹل کالج اولڈ کیمپس میں سیمنیار بعنوان”اقوام متحدہ کی مسئلہ کشمیر کے حوالے سے قراردادیں، رکاوٹیں اور آئندہ کا لائحہ عمل“ کاانعقاد کیاگیا۔

جموں وکشمیرلبریشن سیل لاء فیئرونگ اورپنجاب یونیورسٹی کے شعبہ کشمیریات کے اشتراک سے اورینٹل کالج اولڈ کیمپس میں سیمنیار بعنوان”اقوام متحدہ کی مسئلہ کشمیر کے حوالے سے قراردادیں، رکاوٹیں اور آئندہ کا لائحہ عمل“ کاانعقاد کیاگیا۔وزیرآزاد حکومت ریاست جموں وکشمیرمحترمہ امتیازنسیم سیمینار کی مہمان خصوصی تھیں۔سیمینار سے ڈاکٹرمحمدکامران ڈین فیکلٹی آف اورینئٹل کالج، سیکرٹری جموں وکشمیرلبریشن سیل مرزا وجاہت رشید بیگ، چیئرمین شعبہ کشمیریات پنجاب یونیورسٹی پروفیسرڈاکٹر خواجہ زاہدعزیز،ڈائریکٹرکشمیر پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ ڈاکٹرراجہ سجاد خان،پروفیسرشعبہ کشمیریات ڈاکٹرسرداراصغر اقبال نے خطاب کیا۔ سیمینارمیں مختلف سیاسی،سماجی، مذہبی جماعتوں کے نمائندگان، لاہور میں مقیم کشمیری کمیونٹی، سول سوسائٹی، وکلا اورطلبہ کی بڑی تعدادنے شرکت کی۔ سیمینارکاباقاعدہ آغاز تلاوت کلام الہٰی سے کیاگیا جس کی سعادت علامہ قاری محمدمشتاق قادری نے حاصل کی۔ ڈپٹی ڈائریکٹروانچارج لاء فیئرونگ سردار ساجدمحمودنے نظامت کے فرائض انجام دیے۔محترمہ امتیا زنسیم وزیرحکومت آزادریاست جموں وکشمیر نے کہا کہ یونیورسٹیز ِ اکیڈیمیا اور نوجوان نسل کو جب تک بطور کیمپین مسئلہ کشمیر کے ساتھ انگیج نہیں کیا جاتا اس وقت تک مطلوبہ مقاصد اور نتائج حاصل نہیں ہوسکتے۔ مسئلہ کشمیر کا حل پاکستان کے شاندار اور روشن مستقبل کے لیے بے حد ضروری ہے۔ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور جو اس وقت دشمن کے قبضے میں ہے۔جب تک یہ شہ رگ دشمن کے قبضے سے آزاد نہیں کروالی جاتی تب تک معاشی ترقی ممکن نہیں۔جامعات کو چاہیے کہ وہ اپنے ہاں کشمیرچیئرقائم کرتے ہوئے طلباء کو مسئلہ کشمیر اور تحریک آزادی کے مختلف پہلوؤں پر ریسرچ کروائیں اور تحقیقی بنیادوں پر بھارتی پروپیگنڈے اور بھارتی بیانیے کا توڑ کریں۔ریسرچ کے ذریعے کشمیر کی پاکستان کے لیے دفاعی، جغرافیائی، معاشی اہمیت کو اجاگر کریں اور دنیا کو بتائیں کہ کشمیر پاکستان کی شہہ رگ کیوں ہے اور یہ کہ بھارت نے کن غیرآئینی، غیرقانونی اور غیراخلاقی عوامل کی بنیاد پر کشمیر پر قبضہ کررکھا ہے۔ پروفیسر ڈاکٹرکامران ڈین اورنٹیل کالج نے کہا کہ مسئلہ کشمیر تین بڑی ایٹمی طاقتوں کے درمیان ایک بڑایشو ہے۔ صرف استصواب رائے ہی سے اس مسئلے کا حل ممکن ہے۔ بھارت اپنا قبضہ مستحکم کررہاہے اور ایسا لگ رہاہے کہ وہ کشمیر چھوڑنے والا نہیں۔معاشی طور پر مضبوط پاکستان ہی کشمیر کی آزادی کا ضامن ہے۔

مرزاوجاہت رشید بیگ سیکرٹری جموں وکشمیرلبریشن سیل نے کہا کہ آج کی نوجوان نسل، طلباء وطالبات کو ریاست جموں وکشمیرکی پاکستان کے لیے دفاعی و جغرافیائی اہمیت وحیثیت کے بارے میں آگاہ ہونا چاہیے۔ انھیں اس ریاست پر بھارت کے ظالمانہ وغاصبانہ قبضہ کے عوامل اور اس کے مقاصد سے بھرپور آگہی رکھنا وقت کا اہم تقاضا ہے۔انھوں نے مزید کہا کہ بھارت نے ایک جانب تمام آئینی، اخلاقی اور قانونی اصولوں کی دھجیاں اڑاتے ہوئے ریاست جموں وکشمیر پر قبضہ کیا اور جب مجاہدین مقابلہ کرتے ہوئے سرینگر کے قریب پہنچ گئے تو وہ انتہائی شرمناک شکست سے بچنے کے لیے اس معاملے کو اقوام متحدہ میں لے گیا لیکن اب خود ہی اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد سے انکاری ہے۔ اقوام متحدہ میں مسئلہ کشمیر کے حل کے سلسلے میں منظور ہونے والی دودرجن کے لگ بھگ قراردادوں میں ایک مشترک حل پیش کیا گیا ہے اور وہ ہے استصواب رائے۔ یعنی کشمیری عوام کے مطالبہ حق خودارادیت کو تسلیم کیا گیا ہے اور حصول آزادی کے لیے ان کی خواہشات کے احترام کرنے کا عہد کیا گیا ہے۔ کشمیری عوام کا یہی وہ پیدائشی حق ہے جسے تسلیم کرنے اور اس کو عملی جامہ پہنائے جانے ہی سے نہ صرف پون صدی سے جاری مسئلہ کشمیر حل ہوگا بلکہ جنگ کے دہانے پر بیٹھے جنوبی ایشیا کو بھی اس سے محفوظ رکھتے ہوئے بھارت اور پاکستان ترقی کی شاہراہ پرتیزی سے آگے بڑھ سکتے ہیں۔ ڈاکٹرراجہ سجاد خان ڈائریکٹرکشمیر پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ نے کہا کہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر پر غیر قانونی قبضہ جما رکھا ہے اور کشمیری عوام پر مظالم کی ایک سیاہ تاریخ رقم کی ہے۔ بے گناہ کشمیریوں کی شہادت، خواتین کی بے حرمتی، بچوں کو یتیم بنانا، اور آزادی کی آواز کو دبانے کیلئے طاقت کا بے دریغ استعمال انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیوں کی مثالیں ہیں۔ بھارتی حکومت نے 5 اگست 2019 کو آرٹیکل 370 اور 35-اے کی منسوخی کے ذریعے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرکے اقوام متحدہ کی قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی کی۔ انہون نے کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے18ایسی قراردادیں منظورکی جن میں کشمیر کاذکر ہے۔کئی قراردادوں میں مکمل طور پر مسئلہ کشمیر اور چند ایک میں جزوی طور پر مسئلہ کشمیر کا ذکرکیا گیا ہے۔ ہندوستان یکم جنوری 1948کو مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ میں لے گیااورہندوستان نے دعویٰ کیا کہ معاہدہ الحاق ہندوستان کے تحت ریاست جموں و کشمیر اس کا لازمی حصہ ہے۔ بھارت نے آرٹیکل35کے چیپٹر6کے تحت اقوام متحدہ میں شکایت کی۔ یہی وہ چیپٹر ہے جس کے تحت کوئی بھی ممبرونان ممبر ریاست اقوام متحدہ میں شکایت کرسکتی ہے۔ اس لیے یہ کہنا کہ چیپٹر7کے تحت شکایت نہ ہونے کی وجہ سے مسئلہ کشمیر حل نہیں ہورہا، درست نہ ہے۔پاکستان نے15جنوری1948کوہندوستان کے الزامات کا جواب سلامتی کونسل میں جمع کرایا۔پاکستان نے واضح طور پر مطالبہ کیا کہ ریاست جموں وکشمیر سے تمام غیرریاستی افراد خواہ وہ ہندوستان کے ہوں یا پاکستان کے انھیں باہرنکلنے کی ہدایت کی جائے۔ 15اگست کے بعد سے ریاست سے باہرجانے والے کشمیریوں کو واپس لایاجائے اور ریاست کے مستقبل کے فیصلے کا اختیار انھیں ہی دیاجائے۔ انھوں نے مزید کہاکہ اپریل، اگست اور جنوری اور کی قراردادوں میں دو ہی آپشنز یعنی پاکستان یا ہندوستان کے ساتھ الحاق پر غور کیا گیا۔ کسی قرارداد میں تیسرآپشن زیرغور نہین لایاگیا۔ 5جنوری1949ء کی قرارداد میں دوبارہ وہی 2آپشن زیرغور لاتے ہوئے راے شماری کے لیے ایک مکمل منصوبہ پیش کیا گیا۔ چنانچہ اسی قرارداد پر عمل درآمد سے کشمیریوں کو ان کا حق مل سکتا ہے۔اقوام متحدہ کی قراردادیں ہی مسئلہ کشمیر کے قانونی ہونے کی بنیاد ہیں۔ بھارت کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ قراردیتا ہے لیکن پاکستان نے کبھی ایسا دعوی نہیں کیا بلکہ اس مسئلے کے حل کے لیے استصواب رائے پر زور دیا۔ چین بھی اس قضیے کا اہم فریق بن چکا ہے۔ ہمارے لیے لازم ہے کہ ہم کشمیر ایشو کو ایک تنازع کے طور پر زندہ رکھیں اور جب کبھی موقع ملے تو اس کے حل کی جانب پیش رفت کریں۔ انھوں نے کہا کہ محققین کو چاہیے کہ وہ اس موضوع پر بھی ریسرچ کریں کہ اگر قبائلی کشمیر میں داخل نہ ہوتے تو کیا تب بھارت کشمیر پر قبضہ کرنے کی کوشش نہ کرتا؟پروفیسر ڈاکٹرخواجہ زاہدعزیز چیئرمین شعبہ کشمیریات نے شرکاء کی آمد پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ آج کے سیمینار میں پروفسیرز صاحبان، ریسرچ سکالرز، طلباء وطالبات کی بڑی تعداد میں شرکت اور دلچسپی سے ظاہر ہوتاہے کہ نوجوان نسل مسئلہ کشمیر میں دلچسپی رکھتی ہے۔ طلباء کو چاہیے کہ وہ مسئلہ کشمیر کے مختلف پہلوؤں پر تحقیق کریں۔ مجھے یقین ہے کہ ہم جلد ہی کشمیر میں آزادی کاسورج طلوع ہوتا دیکھیں گے۔ انھوں نے مزید کہا کہ آئندہ پر کشمیرایشو پر جموں وکشمیرلبریشن سیل کے ساتھ مل کر اس طرح کے سیمیناروں کا انعقاد عمل میں لائیں گے۔ ڈپٹی ڈائریکٹروانچارج لاء فیئرونگ سردار ساجدمحمودنے کہا کہ5جنوری 1949کومنظور ہونے والی قرارداد میں بھارت نے کشمیر کے بنیادی حق ”حق رائے شماری”کوتسلیم کیا لیکن بعد میں اپنے ہی وعدوں سے منحرف ھوگیا۔ صرف اقوام متحدہ کی قراردادیں ہی مسئلہ کشمیر کے حل کا حقیقی روڈ میپ مہیا کرتی ہیں۔ بھارت ان قراردادوں پر عمل درآمد کے بجائے مقبوضہ جموں وکشمیر پر اپنا تسلط روز بروز مضبوط کرتا چلاجارہاہے بھارتی مزموم عزایم کو ناکام بنانے کیلئے نوجوان نسل ریسرچرز کا کلیدی کردار ہے۔

Share This Post

More To Explore