کشمیر پالیسی ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے زیر اہتمام اتوار کے روز ڈویژنل انتظامیہ اور پاک فوج کے تعاون سے ”یوم حق خود ارادیت“کی مناسبت سے ”حق خود ارادیت اوراقوام متحدہ کی کشمیر پر قراردادیں“ کے موضوع پر کشمیر انسٹیٹیوٹ آف مینجمنٹ میں سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔ سیمینار میں اعلی عسکری حکام کے علاوہ جامعہ کشمیر کے طلبا و طالبات، ہر مکتبہ فکر کے افراد،سول سوسائٹی اور خواتین کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ سیمینار سے مسئلہ کشمیر اور اقوام متحدہ کے عنوان سے سینئر ڈرافٹس مین محکمہ قانون، انصاف و پارلیمانی امور زاہد محمود، ڈائریکٹر کشمیر پالیسی ریسرچ انسٹیٹیوٹ راجہ سجاد خان،ڈائریکٹر انسٹیٹیوٹ آف منجمنٹ طارق محمود بٹ اور لیکچرر جامعہ کشمیر شعبہ آئی آر محترمہ مدیحہ شکیل نے خصوصی سیشنز کے ذریعے مسئلہ کشمیر کے پس منظر اور اس کے حل کیلئے پاکستان کی کوششوں سمیت اقوام متحدہ کی قراردادوں پر تفصیلی روشنی ڈالی۔سیمینار سے کمشنر مظفرآباد ڈویژن مسعود الرحمن نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تحریک آزادی کشمیر میں ہمارے اسلاف کی لازوال قربانیاں ہیں جنہیں ہم کسی صورت ضائع نہیں ہونے دیں گے۔ ہمیں اپنے اسلاف کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے کیلئے جاندار کردار ادا کرنا ہوگا۔بھارت ہمیں طاقت کے بل بوتے پر مرعوب نہیں کر سکتا کشمیری اپنے خون کے آخری قطرے تک اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ مسئلہ کشمیر پر اقوام متحدہ کی قرار دادوں پر نوجوانوں کو روشناس کرنا ہو گا۔ پاک فوج اور تحریک آزادی کے شہداء کوخراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کی کوئی بھی نعمت آزادی کا نعم البدل نہیں ہو سکتی، بھارت میڈیا وار فئیر کے ذریعے پروپیگنڈہ کر رہا ہے۔ نوجوان بھارت کے پروپیگنڈے کا بھرپور جواب دیں اور افواہ سازی اور انتشار سے دور رہیں۔موجودہ دورڈیجیٹل میڈیا کا دور ہے صحیح اور غلط کے درمیان فرق کرکے دشمن اور دوست کو پہچاننا ہو گا۔مقبوضہ کشمیر میں سوشل میڈیا کے بھرپور استعمال سے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کو بے نقاب کرنا ہو گا۔ ہم سب کو سمجھنا ہو گا ہماری تقسیم سے بھارت کو اگست 2019جیسے غیر قانونی اقدامات کی جرات ہوئی ہے۔ سیمینار سے مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آزاد فضاوں میں رہنے والوں پر فرض ہےکہ وہ مقبوضہ کشمیر کے عوام کی آواز بنیں۔ اس وقت دنیا میں پاکستان واحد ملک ہے جو کشمیریوں کی وکالت کر رہاہے۔ پاکستان نے کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کی ہمیشہ ہر سطح پر بھرپور حمایت کی ہے۔ بھارت سے آزادی کے نقطہ اور حق خود ارادیت کے مطالبے پر ساری قوم یک جان ہے۔بیس کیمپ کے عوام کی ذمہ داری ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر کے عوام کی آواز بنیں اور ان کی آواز کو دنیا تک پہنچائیں۔ جب تک کشمیری منظم و متحد ہیں ا نہیں دنیا کی کوئی طاقت شکست نہیں دے سکتی۔ مقررین نے کہا کہ آزادی کی تحریکوں میں اتار چڑھاو آتے رہتے ہیں لیکن حق پر چلنے والی تحریک کی ہمیشہ فتح ہوتی ہے۔ دشمن کشمیریوں کی صفوں میں تفریق اور انتشار پیدا کرنا چاہتا ہے، اگر آج ہم دشمن کی چال کو نہیں سمجھ سکے تو اپنا نا قابل تلافی نقصان کر بیٹھیں گے۔اپنے حصے کی ذمہ داریاں پوری نہ کیں تو خسارے کی طرف جائیں گے۔اتحاد اور اتفاق کی طاقت سے ہم اپنی منزل کے قریب پہنچ سکتے ہیں۔ آزاد فضاوں میں سانسیں لینے والوں پر قرض ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر کے عوام کی توانا آواز بنیں۔ کشمیریوں نے آزادی کی تحریک کیلئے لازوال قربانیاں دی ہیں کشمیری ان کی قربانیوں کوکسی صورت رائیگاں نہیں ہونے دں گے۔ مقررین نے کہا کہ جب تک کشمیر پر اقوام متحدہ کی قراردادیں موجود ہیں مسئلہ کشمیر کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔ اقوام متحدہ کی قراردادوں کی موجودگی میں کوئی بھی ملک اپنے طور پر اس کا فیصلہ نہیں کر سکتا۔ پاکستان دنیا میں واحد ملک ہے جو کشمیریوں کے حق خود ارادیت کی حمایت کرتا ہے۔بھارت کشمیریوں کی جدو جہد آزادی کو دبانے میں مکمل طور پر ناکام ہو گیا ہے۔ اب کشمیریوں کے اندر تفریق اور تقسیم پیدا کرنا چاہتا ہے، ہمیں اپنے اندر اتفاق اور اتحاد پیدا کر کے دشمن کی چال کو ناکام بنانا ہے۔سیمینار سے اسسٹنٹ ڈائریکٹر کشمیر پالیسی ریسرچ انسٹیٹیوٹ خواجہ ہارون الرشید و دیگر نے بھی خطاب کیا۔

سپیکر قانون ساز اسمبلی چوہدری طارق فاروق کی زیر صدارت آزادجموں وکشمیر قانو ن ساز اسمبلی کے اجلاس میں سابق وزیرا عظم و ممبر اسمبلی فیصل ممتاز راٹھور،اپوزیشن لیڈر و ممبر اسمبلی چوہدری محمد یاسین،ممبر اسمبلی چوہدری محمد اسماعیل،ممبر اسمبلی سید بازل علی نقوی،ممبر اسمبلی محترمہ سحرش قمر،ممبر اسمبلی چوہدری محمد رخسار،ممبر اسمبلی محترمہ فرزانہ یعقوب کی جانب سے قراردادیں پیش کیں گئیں۔جنہیں متفقہ طور منظور کر لیا گیا۔
سپیکر قانون ساز اسمبلی چوہدری طارق فاروق کی زیر صدارت آزادجموں وکشمیر قانو ن ساز اسمبلی کے اجلاس میں سابق وزیرا عظم و ممبر اسمبلی
