آزادجموں وکشمیر قانون سازاسمبلی کا اجلاس جمعرات کے روز سپیکرقانون سازاسمبلی چوہدری لطیف اکبر کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا۔پاکستان پیپلز پارٹی کے صدر وممبر اسمبلی چوہدری محمد یاسین، وزیر اطلاعات پیر محمد مظہر سعید شاہ، وزیر سپورٹس یوتھ اینڈ کلچر عاصم شریف بٹ، وزیر مال چوہدری اخلاق،وزیر شہری دفاع عامر یاسین چوہدری کے حق میں رخصت اتفاق رائے سے منظور کر لی گئی۔ اجلاس میں سپیکر اسمبلی چوہدری لطیف اکبر نے ایوان کو 2021میں منتخب ہونے والے اراکین کی بائیو گرافی مرتب کرنے کی یاد دہانی کروائی۔ مسٹ یونیورسٹی میرپور کے طلبہ نے بھی ایوان کی کارروائی دیکھی۔سپیکر اسمبلی چوہدری لطیف اکبر نے مسٹ یونیورسٹی میرپو ر کے طلباء کی اسمبلی اجلاس کی کارروائی دیکھنے کو خوش آئیند قراردیا۔
مظفرآباد (پی آئی ڈی)2جنوری 2025
سپیکرقانون سازاسمبلی چوہدری لطیف اکبر کی زیر صدارت آزادجموں وکشمیر قانون سازاسمبلی کے اجلاس میں وقفہ سوالات کے دوران اپوزیشن لیڈر خواجہ فاروق احمد خان کے محکمہ وائلڈ لائف کے حوالہ سے سوال کے جواب میں وزیر وائلڈ لائف و فشریز سردار جاوید ایوب نے کہا کہ جنگلی سوروں کے خاتمہ کے حوالہ سے محکمہ کوشش کر رہا ہے اور اس حوالہ سے شہریوں کو آگاہی بھی دی جا رہی ہے۔ جنگلات کی کمی کی وجہ سے جنگلی حیات کے لیے خوراک کی کمی ہو گئی ہے جس کی وجہ جنگلی جانورشہری آبادی کا رخ کر رہے ہیں۔ یہ آزادکشمیر بھر میں پھیلے ہوئے ہیں۔ جنگلی سوروں کی ٹرافی ہنٹنگ سے اس مسئلہ سے نمٹا جا سکتا ہے۔ کوڑے کرکٹ کے پھیلاؤ کو روکنے کے حوالہ سے میونسپل کارپویشن سے میٹنگ کی گئی ہے۔ ایوان کو یقین دلاتا ہو ں کہ معاملہ کے سدباب کے لیے موثر اقدامات اٹھائے جائیں گے۔ سپیکر قانون ساز اسمبلی نے کہا کہ اس کے لیے موثر اقدامات اٹھائیں۔ اس حوالہ سے وزیر وائلڈ لائف و فشریز سردار جاوید ایوب کی سربراہی میں وزیر ماحولیات، وزیر زراعت، قائد حزب اختلاف اور میونسپل کارپوریشن سمیت ماہرین پر مشتمل کمیٹی بھی بنا دی گئی۔ وزیر ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن دیوان علی خان چغتائی نے کہا کہ یہ گرم علاقہ کا جانور ہے اب اس کا رخ سرد علاقوں کی جانب بھی ہے۔ اس کے خاتمے کے لیے اقدامات اٹھائے جائیں۔ وزیر خزانہ عبدالماجد خان نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ان کا گروتھ ریٹ بہت زیادہ ہے۔ اس کے موثر تدارک کے لیے سی ڈی اے اسلام آباد سے راہنمائی حاصل کی جائے۔سپیکر اسمبلی نے کہا کہ سی ڈی اے سے راہنمائی لے کر ایک ماہ کے اندر رپورٹ ایوان کے اندر پیش کی جائے۔ سابق وزیراعظم آزادکشمیر سردار محمد یعقوب خان کے ایک سوال کے جواب میں وزیر تعلیم سکولز دیوان علی خان چغتائی نے کہا کہ یہ درست نہیں ہے کہ بوائز ہائیر سیکنڈری سکول علی سوجل میں پرنسپل سمیت ماہر مضمون، اساتذہ کرام کی دس آسامیاں خالی ہیں ۰۔ متذکرہ ادارہ میں پرنسپل سمیت سینئر ماہر مضمون(بی۔18) اور ماہر مضمون(بی۔17) کی کل آسامیاں 10ہیں جن میں سے 07اسامیوں پر ماہر مضمون تعینات ہیں جبکہ صرف تین آسامیاں بوجہ بذیل خالی ہیں۔سینئر صدر معلمین/سینئر ماہرمضامین (سکیل بی۔18) کی بطور پرنسپل(سکیل بی۔19) ترقیابی کا معاملہ زیر کار ہونے کی بناء پر پرنسپل کی اسامی تاحال خالی ہے جو جلد ہی نئی پرنسپل کی ترقیابی پر فل کی جائے گی۔ نیز سینئر ماہرمضمون ریاضی (بی۔18) کی سنیارٹی عدالتی حکم امتناعی کی وجہ سے التواء میں ہے جس کی وجہ سے ماہر مضامین (بی۔17)سے سینئر ماہر ین مضامین (بی۔18)ترقیابی نہیں ہورہی اور ماہر مضمون سیاسیات(بی۔17) کی اسامی کے خلاف جلد ہی تعیناتی عمل میں لائی جائے گی۔ سکیل بی۔18سے سکیل بی۔19میں ترقیابی کا معاملہ زیر کار ہے۔ جلد ہی بوائز ہائیر سیکنڈری سکول علی سوجل میں مستقل پرنسپل(بی۔19) کی تعیناتی عمل میں لائی جائے گی۔اس طرح دیگر خالی دو آسامیوں پر بھی بعد از سلیکشن بورڈ تعیناتی عمل میں لائی جائے گی۔ سال2021-22کا رزلٹ صفر تھا۔ صفر فیصد نتائج دکھانے والے سربراہان ادارہ جات کے خلاف تادیتی کارروائی عمل میں لائی جاچکی ہے۔ تا ہم ان اسامیوں کو جلد پرُ کردیا جائے گا اور طلباء کو مطلوبہ سہولیات ہر ممکن مہیا کی جائیں گی۔ صفر فیصد نتائج دکھانے والے سربراہان ادارہ جات کے خلاف تادیبی کارروائی عمل میں لائی جاچکی ہے۔ آئندہ اس طرح کے رزلٹ دکھانے والے سربراہان ادارہ جات کے خلاف آزادجموں وکشمیر سول سرونٹس (ایفشنسی اینڈ ڈسپلن) رولز1977ء کے تحت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
قائد حزب اختلاف خواجہ فاروق احمد کے ایک سوال کے جواب میں وزیر آبپاشی و سمال ڈیمز سردار محمد حسین نے کہا کہ یہ درست ہے کہ وفاقی حکومت کے مالی تعاون سے محکمہ آبپاشی و سمال ڈیمز کے زیر انتظام ترقیاتی منصوبہ National Programme for Improvement of Water Courses in Pakistan Phase-IIکو وفاقی حکومت کی جانب سے مالی سال 2024-25کے لیے پیش کردہ بجٹ(PSDP)سے حذف کر دیا گیا ہے۔ جس کی وجہ سے نہ صرف آزاد کشمیر میں زمینداران کو آبپاشی سکیم ہا کے حوالے سے مشکلات کا سامنا ہے بلکہ پراجیکٹ کے خلاف تعینات شدہ99ملازمین کو عارضی طور پر کنٹریکٹ ملازمت سے فارغی کے نوٹسز جاری کیے گئے ہیں۔ دیگر صوبہ جات اور گلگت بلتستان کی طرز پر ان ملازمین کو نارمل میزانیہ پر منتقلی کے حوالہ سے محکمہ مالیات کو تحریک کی گئی ہے۔ترقیاتی منصوبہ نیشنل پروگرام فیزII-تمام صوبہ جات، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں جاری تھا، جس کو جون 2024ء میں پیش کردہ بجٹ سے حذف کر دیا گیا۔ پراجیکٹ کی بحالی کے سلسلہ میں وفاقی حکومت کو تحریری و زبانی استدعا کی گئی ہے کہ اس طرح اچانک پراجیکٹ کی بندش سے آزاد کشمیر بھر میں جاریہ و تکمیل شدہ سکیموں کی ادائیگی کا مسئلہ درپیش ہے۔ کیونکہ زمینداروں کو کیے گئے اور جاریہ کام کی ادائیگی ممکن نہ ہو گی۔ ان سکیم ہا کے متاثر ہونے سے نہ صرف زمینداروں کو مشکلا ت پیش آئیں گی بلکہ زرعی امور بھی متاثر ہونگے۔ نیز اس پراجیکٹ میں تعینات ملازمین بھی فارغ ہو جائیں گے۔جن کی ایڈجسٹمنٹ ممکن نہ گی۔پراجیکٹ کو وفاق کی سطح سے بحال کیے جانے کی کوشش جاری ہے۔ وفاق کی سطح سے پراجیکٹ بحال نہ ہونے کی صورت میں محکمہ کی سطح پر ADPسے منصوبہ کی تکمیل کے لیے ایک ترقیاتی منصوبہ” Continuation of National Programme for improvement of Water Courses Phase-II Targets and Payments of Liabilities in AJK”کے عنوان سےPC-Iمرتب کیا جارہا ہے تا کہ آبپاشی سکیم ہا کی عدم تکمیل کے باعث زرعی نقصانات کا تدراک ممکن ہونے کے ساتھ ساتھ پراجیکٹ میں تعینات ملازمین کی بحالی بھی ممکن ہو سکے۔بحث میں حصہ لیتے ہوئے صدر مسلم لیگ ن و ممبرقانون ساز اسمبلی شاہ غلام قادر نے کہا کہ ترقیاتی منصوبہ کے حوالہ سے وفاقی وزیر منصوبہ بندی سے بات کی ہے۔حکومت آزادکشمیر نظر ثانی ترقیاتی منصوبہ وفاقی حکومت کودوبارہ ارسال کرے۔ وفاقی وزیر نے مذکورہ منصوبہ میں توسیع کی یقین دہانی کروائی ہے۔ قائد حزب اختلاف خواجہ فاروق احمد نے کہا کہ معاملہ اہمیت کا حامل ہے اس کا جلد از جلد حل نکالا جائے۔بحث میں حصہ لیتے ہوئے وزیر قانون میاں عبدالوحید نے کہا کہ آبپاشی کا مسئلہ آزادکشمیر کا دیرینہ مسئلہ ہے۔ زرعی اراضی کو سیراب کرنے کے لیے آزادکشمیر میں مستقل بنیادوں پر آبپاشی کا محکمہ قائم کرنے کی ضرورت ہے۔ وزیر سمال انڈسٹریز کارپوریشن پروفیسر تقدیس گیلانی نے کہا کہ بدقسمتی سے سیاسی بنیادوں پر فیصلے کیے جاتے ہیں اور اسی بنیاد پر ملازمین کو توسیع ملتی رہی ہے۔ آزادکشمیر کی معیشت کا انحصار زراعت پر ہے اور آبپاشی زراعت کے ساتھ لازم و ملزوم ہے۔ اگر ہم آزادکشمیر کو زرعی خطہ بنانا چاہتے ہیں تو آبپاشی کا محکمہ مستقل بنیادوں پر قائم کرنا ضروری ہے۔ سابق وزیراعظم راجہ محمد فاروق حیدر خان نے کہا کہ اس وقت سب سے بڑا مسئلہ فوڈ سیکیورٹی کاہے۔ پینے کے پانی کی طرح زمینوں کی سیرابی کے لیے آبپاشی بھی انتہائی ضروری ہے۔ وزیر زراعت سردار میراکبر خان نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ آزادکشمیر کی زرعی زمینیں واٹر چینلز پر چل رہی ہیں۔ زرعی زمینوں کو باقاعدگی کے ساتھ سیراب کرنے کے لیے مستقل بنیادوں پر آبپاشی کا محکمہ قائم کرنے کی ضرورت ہے۔ سپیکر اسمبلی چوہدری لطیف اکبر نے اس حوالہ سے کمیٹی تشکیل دیتے ہوئے 15ایام کے اندر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔
مظفرآباد (پی آئی ڈی)2جنوری 2025
سپیکرقانون سازاسمبلی چوہدری لطیف اکبر کی زیر صدارت آزادجموں وکشمیر قانون سازاسمبلی کے اجلاس میں صدر مسلم لیگ ن و ممبرا سمبلی شاہ ؔغلام قادر کی جانب سے نیلم میں آئے روز رونما ہونے والے حادثات اور ان کے تدراک کے حوالہ سے توجہ دلاؤ نوٹس پرموسٹ سینئر وزیر کرنل (ر) وقار احمد نور نے کہا کہ پورے آزادکشمیر میں موسم سرما کے دوران حادثات رونما ہو رہے ہیں۔ جن کا تدارک از حد ضروری ہے۔ نیلم میں موسم سرما کے دوران مخصوص اوقات کار کے دوران کہر پڑنے کی وجہ سے پھسلن کے باعث حادثات رونما ہوتے ہیں۔ حکومت ان اوقات کار کے دوران سیاحوں کو کہر پڑنے والے مقامات کے بارے سفر ایڈوائزری جاری کر ے گی اور انتظامیہ کو اس حوالہ سے ہدایات جاری کر دی جائیں گی۔ اس کے علاوہ جن مقامات پر کہر پڑتی ہے وہاں پر نمک کا چھڑکاؤ کیا جائے گا۔ وزیر قانو ن وزیر عبدالوحید نے کہا کہ نوسیری سے چلہیانہ اور دواریاں سے چانگن انتہائی خطرناک ٹریک ہے جہاں حفاظتی اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔ اسی طرح کیل سے آگے بھی موسم سرماکے دوران بالخصوص برف باری میں سڑک سفر کے لیے موزوں نہیں ہے۔ روڈ سیفٹی کے اقدامات کی ضرورت ہے۔ سابق وزیراعظم راجہ محمد فاروق حیدر خان نے کہا کہ روڈ جیو میٹری پر نظر ثانی کی ضرورت ہے۔ سڑک تعمیر کرتے وقت سپر ایلوویشن کو مدنظر رکھنے کی ضرورت ہے۔
سابق وزیر اعظم و ممبر اسمبلی سردار یعقوب خان نے کہا کہ تولی پیر روڈ،لسڈنہ بھی ایسے ہی مسائل کا شکا ر ہے۔ وہاں پر بھی حفاظتی اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے تاکہ حادثات سے بچا جا سکے۔ وزیر حکومت سردار جاوید ایوب نے کہا کہ میرے حلقہ میں سب سے زیادہ اموات حادثات کی وجہ سے ہوتی ہیں۔ راجہ محمد فاروق حیدر خان کے موقف کی تائید کرتے ہوئے وزیر حکومت نے کہا کہ روڈ کے ٹیکنیکل فالٹس کو درست کرنے کی ضرورت ہے۔
ممبر اسمبلی سردار حسن ابراہیم کی جانب سے آفات سماوی کے معاوضہ جات کی عدم ادائیگی کے حوالہ سے توجہ دلاؤ نوٹس پراظہار خیال کرتے ہوئے
موسٹ سینئر وزیر کرنل (ر) وقار احمد نور نے کہا کہ حکومت آزادکشمیر نے اگست 2024کے دوران سو ملین روپے جبکہ نومبر 2024کے دوران بھی سو مین روپے ریلیز کیے ہیں۔ اسی طرح مکانات کے لیے بھی 2کروڑ ریلیز کر دیے گئے ہیں باقی 2کروڑ بھی ریلیز کر دیے جائیں گے۔
قائد حزب اختلاف خواجہ فاروق احمد کی جانب سیقرآن پاک کے مقدس اوراق کی حرمت کے حوالہ سے توجہ دلاؤ نوٹس پراظہار خیال کرتے ہوئے وزیر مذہبی امور احمد رضا قادری نے کہا کہ عمومی طور پر دیگر صوبوں میں این جی او ز اور مذہبی تنظیمیں قرآن پاک کے مقدس اوراق کی حفاظت کا فریضہ سرانجام دیتی ہیں۔ حکومت نہ صرف ان کی سرپرستی کرے گی بلکہ حکومتی سطح پر قرآن محل بنانے کے لیے اقدامات اٹھائے جائیں گے۔ وزیر حکومت سردار جاوید ایوب نے کہا کہ مظفرآباد 6کنال اراضی کو قرآن محل کے لیے مختص کریں گے۔
مظفرآباد (پی آئی ڈی)2جنوری 2025
سپیکرقانون سازاسمبلی چوہدری لطیف اکبر کی زیر صدارت آزادجموں وکشمیر قانون سازاسمبلیکے اجلاس میں وزیر مذہبی امور احمد رضا قادری نے آزادکشمیر سے تعلق رکھنے والے محنت کش کی بلوچستان میں دہشت گردوں کے ہاتھوں شہادت پر فاتحہ خوانی کروائی۔ اس موقع پر سپیکر قانون سازاسمبلی نے کہا کہ بلوچستان کی صوبائی حکومت کے سامنے اس معاملہ کو اٹھایا جائے اس کا جواب قانون ساز اسمبلی میں پیش کیا جائے۔ موسٹ سینئر وزیر کرنل ر وقار احمد نور نے کہا کہ اس معاملہ پر بلوچستان کی صوبائی حکومت کو خط لکھیں گے، متعلقہ حکام سے رابطہ میں ہیں۔ سابق وزیراعظم راجہ محمد فاروق حیدر خان نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی قیادت سے درخواست ہے کہ وہ اپنے چیئرمین سے اس معاملہ پر بات کریں کیونکہ بلوچستان میں پیپلز پارٹی کی حکومت ہے۔وزیر لوکل گورنمنٹ ودیہی ترقی راجہ فیصل ممتاز راٹھور نے کہا کہ اس حوالہ سے ہم چیئرمین پیپلزپارٹی اور دیگرمتعلقہ حکام سے بات کریں گے۔
مظفرآباد (پی آئی ڈی)2جنوری 2025
سپیکرقانون سازاسمبلی چوہدری لطیف اکبر کی زیر صدارت آزادجموں وکشمیر قانون سازاسمبلی کا اجلاس3 جنوری 2025 دن 11 بجے تک ملتوی کیا گیا تھا کو قواعد انضباط کار قانون ساز اسمبلی کے قاعدہ 20 کے تحت حاصل شدہ اختیارات کو بروئے کار لاتے ہوئے 5 جنوری 2025 بوقت 11 بجے دن تک ملتوی کردیا گیا۔

