آزادجموں وکشمیر قانون سازاسمبلی کا اجلاس منگل کے روز سپیکراسمبلی چوہدری لطیف اکبر کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ سپیکر آزادجموں وکشمیر قانون ساز اسمبلی چوہدری لطیف اکبر نے اجلاس کے آغاز میں ایوان کو اسلام آباد میں ہونے والی اٹھارویں سپیکرز کانفرنس کی تفصیلات سے آگاہ کیا اور کہا کہ اٹھارویں سپیکرز کانفرنس 20- 19 دسمبر 2024 ء کو اسلام آباد میں منعقد ہوئی جس میں سپیکر، ڈپٹی سپیکرقومی اسمبلی، چیئر مین سینٹ، ڈپٹی چیئر مین سینٹ، سپیکرز صاحبان صوبائی اسمبلی پنجاب سندھ خیبر پختونخواہ بلوچستان گلگت بلتستان اورسپیکرآزادجموں وکشمیر قانون ساز اسمبلی کے علاوہ دیگر اسمبلیوں کے سیکرٹری صاحبان نے شرکت کی۔سپیکرآزادجموں وکشمیر اسمبلی نے بتایا کہ مختلف اسمبلیوں کی جانب سے ایجنڈا کے لئے پیش کیئے گئے points کو مد نظر رکھتے ہوئیپبلک اکونٹس کمیٹی کو مزید فعال کرنے اور ایک دوسرے کے تجربہ سے مستفید ہونے کے لئے مستقبل میں پبلک اکونٹس کمیٹی کی ایسوسی ایشن کے قیام کا فیصلہ کیا گیاہے۔ تمام اسمبلیوں کے سیکرٹری صاحبان کی ایک ایسوسی ایشن کے قیام کا فیصلہ کیا گیا۔مختلف پارلیمنٹرین فورم جس میں ویمن پارلیمنٹری کا کس (WPC)،SDGS اور ینگ پارلیمینٹرین فورم (YPF) کو با قاعدہ قواعد انضباط کار میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیا اور ان Caucuses کی ایسوسی ایشن بنانے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔سپیکر کانفرنس میں قانون سازی سے متعلق تحقیق، پالیسی رہنمائی اور استعداد کار بڑھانے کے لئے PIPS کو ایک امتیازی مرکز میں تبدیل کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے PIPS کے بورڈ آف گورنرز سے اس کا دائرہ آزاد کشمیر گلگت بلتستان کی قانون ساز اسمبلیوں کی معاونت کے لئے وسیع کئے جانے کے اقدامات کیئے جائیں۔مستقل میں آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی اور صوبائی اسمبلی گلگت بلتستان کو PIPS کا باقاعدہ ممبر بنانے کے لئے اقدامات کیئے جائیں۔ممبران قانون ساز اسمبلی و آفیسران کی Capicity building کے لئے PIPS میں خصوصی ٹریننگ سیشن منعقد کیئے جائیں۔مستقبل میں دیگر اسمبلیوں کے آفیسران کے لئے NMC, MCMC کی طرز پر Mandatory تربیتی کورس منعقد کیئے جائیں۔سپیکرکانفرنس میں پارلیمان کو مستحکم بنانے کے لئے بہترین بین الاقوامی طریقوں کے مطابق وہپ (WHIP) کے ادارے کو تقویت دینے کا فیصلہ کیا گیا تا کہ پارلیمانی جماعتوں میں ہم آہنگی اور نظم ونسق کو بہتر بنایا جا سکے۔ مستقبل میں وہپ (WHIP) ایسوسی ایشن قائم کی جائے گی۔پارلیمان کی بالا دستی، بنیادی حقوق کے تحفظ اور جمہوری اقدار کو طرز حکمرانی کی ہر سطح پر مستحکم بناتے ہوئے حکومتی قواعد و ضوابط پر نظر ثانی کی جائے۔ علاقائی اور بین الاقوامی امن، بین الاقوامی تعاون اور افہام وتفہیم میں پیش رفت کے لئے پارلیمانی سفارت کاری کی جائے۔ تعمیری مکالے،باہمی افہام و تفہیم اور احترام اختلاف رائے کی بنیادی پارلیمانی اقدار کی تجدیدنو کے لئے مل کر کام کیا جائے۔ کشمیر کے مسئلہ کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرار دادوں کے مطابق پر امن حل کو عالمی و علاقائی امن و استحکام کے لئے جز ولاینفق کے طور پر تسلیم کیا جائے نیز بھارتی قابض افواج کے ہاتھوں جاری بربریت، قتل عام دیگر جنگی جرائم سمیت ظالمانہ اقدامات کی پر زور مذمت کرتے ہوئے غیر قانونی طور پر پابند سلاسل کل جماعتی حریت کا نفرنس کے تمام رہنماؤں کو فوری رہا کیا جائے۔ مربوط قانون سازی اور پالیسی اقدامات کے ذریعے نوجوانوں اورخواتین کو بااختیاربنانے اور بچوں سے متعلقہ مسائل بشمول پولیو بچوں سے جبری مشقت اور غذائیت کی کمی جیسے مسائل سے نمٹنے کے لئے کوششیں تیز کی جائیں۔ تمام قانون ساز اداروں کی کار کردگی کو بہتر بنانے کے لئے معلومات کے تبادلے اور اشتراک وسائل کے لئے باہمی استعداد کار کو بڑھایا جائے۔پارلیمانی کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لئے IT اصلاحات کے ذریعے جدید ترین ٹیکنا لوجیز جیسے مصنوعی ذہانت اور ڈیجٹیلائزیشن کو اپنایا جائے گا۔ کشمیر کمیٹی اور قومی اسمبلی کے بین الاقوامی دورہ کے وفودمیں دیگر اسمبلیوں اور قانون ساز اسمبلی کو بھی شامل کیئے جانے کا فیصلہ کیا گیا۔پبلک اکونٹس کمیٹی کومزید فعال کرنے اور ایک دوسرے کے تجربہ سے مستفید ہونے کے لئے مستقبل میں پبلک اکونٹس کمیٹی کی ایسوسی ایشن کے قیام کا فیصلہ کیا گیا۔ اسمبلیوں میں طلبا کے لئے انٹرن شپ پروگرام شروع کیئے جانے کا فیصلہ کیا گیا۔ آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی اس بارے میں پہلے ہی فیصلہ کر چکی ہے۔ اسمبلیوں کی مالیاتی کمیٹی چونکہ ایک آئینی کمیٹی ہے اس لئے اس کے اختیارات کو چیلنج نہیں کیا جاسکتا اور اس سلسلہ میں کوئی بھی حکومتی فیصلہ اسمبلی پر لاگو نہیں ہوگا۔ سپیکر چوہدری لطیف اکبر نے کہا کہ میری دعوت پر سال 2025ء میں منعقد ہونے والی انیسویں سپیکر ز کانفرس مظفر آباد میں منعقد کیئے جانے سے اتفاق کیا گیا۔
سپیکر اسمبلی نے اٹھارویں سپیکر کانفرنس کے حوالہ سے کہا کہ وویمن کا سپیشل وفد بھی مسئلہ کشمیر کے حوالہ سے بیرونی دورہ جات پر جانا چاہیے۔وزیر حکومت پروفیسر تقدیس گیلانی کا مسئلہ کشمیر کے حوالہ سے سفارت کاری میں اہم کردار رہا ہے۔ قانون ساز اسمبلی کا ایک وفد کینیڈا اور امریکہ میں بھی جانا چاہیے۔ مجھے اس پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔ یہ عوام کے منتخب نمائندوں کا فورم ہے اسے حقیقی طور پر عوام کے مفاد کے لیے کام کرنا چاہیے۔ اس پر خصوصی دلچسپی سے کام کرنے کی ضرورت ہے۔ سپیکر نے کہا کہ قواعد انضباط کار میں ایسے ممبران ہونے چاہیے جو کہ قواعد و ضوابط کے بارے میں جانتے ہوں۔
سپیکرز کانفرنس کے حوالہ سے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر خزانہ عبدالماجد خان نے کہا کہ اٹھارویں سپیکر کانفرنس کے بعد چیزیں مزید ٹھیک ہو جانی چاہیے اس سے قانون ساز اسمبلی کا وقار مزید بلند ہو گا۔ اٹھارویں سپیکر کانفرنس کے معروضات میں چیف وہپ کے عہدے پر بات انتہائی ضروری ہے۔جنوری میں قومی اسمبلی کے وہپ کے وفد کے دورہ جرمنی اور یوکے موقع آزادکشمیر قانون ساز اسمبلی کی نمائندگی بھی ہونی چاہیے۔ سپیکر اسمبلی نے کہا کہ اس حوالہ متعلقہ فورم سے بات کی جائے گی۔ وزیر حکومت نے کہا کہ پبلک اکونٹس کمیٹی کی تشکیل نو کا معاملہ حل کر لیں گے۔ Pips کے دائرہ اختیار کو آزادکشمیر تک وسیع کیے جانے پر سپیکر قانون ساز کو مبارکباد پیش کر تے ہیں۔ عبدالماجد خان نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ قومی کشمیر کمیٹی میں آزادکشمیر کے ممبران کی شمولیت کا مطالبہ تھا جسے اٹھارویں سپیکر کانفرنس میں تسلیم کر لیا گیا ہے۔مسئلہ کشمیر پر ڈائیسپورہ کا ایک کردار رہا ہے۔ جب تک ہمارے اپنے وفود باہر نہیں جائیں گے تو کشمیر کے حوالہ سے بہتر طور پر آگاہی مہم کا حصہ نہیں بن سکیں گے۔
مظفرآباد (پی آئی ڈی)24دسمبر2024
آزادجموں وکشمیر قانون سازاسمبلی کے اجلاس میں اپوزیشن لیڈر خواجہ فاروق احمد نے پوائنٹ آف آرڈر پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ 19دسمبر کو 11ممبران کے دستخط کے ساتھ ریکوزیشن مسترد ہونے کے باوجود حکومت کی جانب سے اجلاس بلانا اچھی بات ہے۔
سپیکر اسمبلی چوہدری لطیف اکبر نے کہا کہ قانون میں اجلاس بلانے کا طریقہ کار واضح ہے۔جس طریقہ سے اپوزیشن کی جانب سے ریکوزیشن جمع کروانے کی کوشش کی گئی یہ ایوان کی تضحیک ہے۔ریکوزیشن پر ایک ایک ممبر کے دو دو سائن تھے۔ فوٹو کاپیز پر اجلاس نہیں کروا سکتے۔ وزیر حکومت احمد رضا قادری نے پوائنٹ آف آرڈ ر پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اجلاس کسی کی ڈکٹیشن پر نہیں ایوان قانون کے مطابق چلے گا۔ فوٹو سٹیٹ مستند ثبوت نہیں ہے۔ بھونڈے انداز سے اجلاس بلانے کی کوشش کی گئی حکومت نے ان کی خواہش کو پورا کر تے ہوئے اجلاس بلایا ہے۔
قائد حزب اختلاف خواجہ فاروق احمد نے کہا کہ میری ریکوزیشن پر جعل سازی ثابت ہو جائے تو استفعیٰ دے دوں گا۔
وزیر خزانہ عبدالماجد خان نے کہا کہ ایسے اقدامات جو باعث تمسخر بنیں اس سے بچنا چاہیے۔ قانون سازا سمبلی کا نظام ایک قانون کے تحت چلتا ہے۔ اپوزیشن لیڈر قابل احترام ہیں انہیں یہ ایشو اسمبلی میں لانا ہی نہیں چاہیے تھا۔
مظفرآباد (پی آئی ڈی)24دسمبر2024
آزادجموں وکشمیر قانون سازاسمبلی کا اجلاس منگل کے روز سپیکراسمبلی چوہدری لطیف اکبر کی زیر صدارت منعقد ہوا۔اجلاس کے آغاز میں پیپلزپارٹی کے رہنماء محمد بشیر اعوان،مسلم لیگ ن کے رہنما سردار عبدالخالق وصی کے والد محترم کی وفات، لیپہ کے دو طالب علموں، کی حادثاتی اموات، شہدائے افواج پاکستان اور دیگر فوت شدگان کے ایصا ل ثواب کے لیے ایوان میں وزیر اوقاف احمد رضا قادری نے فاتحہ خوانی کروائی۔
مظفرآباد (پی آئی ڈی)24دسمبر2024
آزادجموں وکشمیر قانون سازاسمبلی کا اجلاس ڈپٹی سپیکر چوہدری ریاض احمد نے 26دسمبر2024 بروز جمعرات دن 02:00بجے تک ملتوی کر دیا

