زادکشمیر کی وزیرسمال انڈسٹریز وٹریڈ اینڈ ٹریول پروفیسر تقدیس گیلانی کی زیر صدارت سمال انڈسٹریز کارپوریشن، ٹیکنیکل ایجوکیشن اینڈ ووکیشنل ٹریننگ اتھارٹی، سماجی بہبود وترقی نسواں، ایگریکلچر ایکسٹینشن اکیڈمی اور ٹیچرز فاونڈیشن کا اجلاس منعقد ہوا۔

زادکشمیر کی وزیرسمال انڈسٹریز وٹریڈ اینڈ ٹریول پروفیسر تقدیس گیلانی کی زیر صدارت سمال انڈسٹریز کارپوریشن، ٹیکنیکل ایجوکیشن اینڈ ووکیشنل ٹریننگ اتھارٹی، سماجی بہبود وترقی نسواں، ایگریکلچر ایکسٹینشن اکیڈمی اور ٹیچرز فاونڈیشن کا اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں محکمہ جات کے مینڈیٹ کا جائزہ لیا گیا اور ان محکمہ جات کی Overlapping ختم کرنے کے لیے جامع رپورٹ تیار کرتے ہوئے وزیراعظم آزادکشمیر کو ارسال کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اجلاس میں سیکرٹری انڈسٹریز خالد محمود مرزا، چئیرمین ٹیوٹا چوہدری محمد فرید، ایڈیشنل سیکرٹری مالیات سرفراز اعوان، ڈائریکٹر سماجی بہبود عبدلواحد خان، ڈائریکٹر وویمن ڈویلپمنٹ اکرام الحق، ڈائریکٹر سمال انڈسٹریز خالق عباسی، ڈائریکٹر اسماء اکیڈمی کبیر احمد، ڈائریکٹر ٹیکنیکل ایجوکیشن سلیم خان، ڈپٹی سیکرٹری انڈسٹریز راجہ ظہیر مختار اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔ اس موقع پر گزشتہ اجلاس میں کیے گئے فیصلوں کی پراگرس کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کے دوران گفتگو کرتے ہوئے وزیرسمال انڈسٹریز پروفیسر تقدیس گیلانی کہا کے مختلف محکمہ جات ایک جیسے مینڈیٹ کے ساتھ اپنے اپنے طور پر ایک جیسا کام کر رہے ہیں۔ اس طرح اوورلیپنگ ہو رہی ہے جسکو ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے لیے محکمہ جات کو کوآرڈینیشن سے کام کرنا ہو گا تاکہ ہر محکمہ ایک جیسا کام کرنے کے بجائے مختلف کام کریں اور ان سے جہاں وسائل کی بچت ہو گی وہیں پرفارمنس میں بھی بہتری آئے گی۔ انہوں نے کہا ٹریننگ اور قرضوں کی فراہمی کے لیے الگ الگ محکموں کومینڈیٹ دیا جائے۔ قرضوں کی فراہمی سمال انڈسٹریز کا مینڈنٹ ہے اسی طرح ٹریننگ کا مینڈیٹ صرف ٹیوٹا کے پاس ہونا چاہیے۔ ہمارے مختلف محکمے ایک ہی جیسا کام کر رہے ہوتے ہیں جسکی وجہ سے ایک طرف تو انکی کارکردگی کا اندازہ نہیں ہوتا جبکہ دوسری جانب سرکاری فنڈز بھی ایک ہی مقصد کے لیے مختلف محکمہ جات استعمال کر رہے ہوتے ہیں۔ ان مسائل کے حل کے لیے ایک جامع رپورٹ مرتب کی جائے جو وزیراعظم آزادکشمیر کو ارسال کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ رپورٹ کی تیاری میں تمام محکمہ جات کوآرڈینیشن سے کام کریں اور اپنی اپنی تجاویز کو حتمی شکل دیں تاکہ بروقت رپورٹ تیار کرتے ہوئے وزیراعظم سے منظوری حاصل کی جا سکے۔

Share This Post

More To Explore