آزادجموں وکشمیر قانون سازاسمبلی میں نظرثانی میزانیہ 2023-24وتخمینہ میزانیہ2024-25پر عام بحث کے لیے قانون ساز اسمبلی کا اجلاس بدھ کے روز سپیکر چوہدری لطیف اکبر کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے قائد حزب اختلاف خواجہ فاروق احمد نے کہا کہ آزادکشمیرکی اسمبلی کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس نے 1985کے بعد ہر مرتبہ اپنی مدت مکمل کی ہے اور موجود اسمبلی بھی اپنی مدت کی تکمیل کی جانب گامزن ہے

آزادجموں وکشمیر قانون سازاسمبلی میں نظرثانی میزانیہ 2023-24وتخمینہ میزانیہ2024-25پر عام بحث کے لیے قانون ساز اسمبلی کا اجلاس بدھ کے روز سپیکر چوہدری لطیف اکبر کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے قائد حزب اختلاف خواجہ فاروق احمد نے کہا کہ آزادکشمیرکی اسمبلی کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس نے 1985کے بعد ہر مرتبہ اپنی مدت مکمل کی ہے اور موجود اسمبلی بھی اپنی مدت کی تکمیل کی جانب گامزن ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر کشمیری کی خواہش ہے کہ پاکستان سیاسی،سفارتی اور معاشی لحاظ سے مضبوط ومستحکم ہو۔ پوری دنیا کے مسلمان پاکستان کی طرف دیکھتے ہیں۔پاکستان میں اگر مسائل ہوں تو لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف کے کشمیریوں کو ان پر تشویش ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ آزادکشمیر کی حکومت کے قیام کا مقصد تحریک آزادکشمیر کے بیس کیمپ کی حکومت کے طور پر کردار ادا کرنا تھا، جو لوگ آزادکشمیر حکومت کے حجم کی بات کرتے ہیں ان کویہ واضح ہونا چاہیے کہ یہ حکومت ایک خاص مقصد کے تحت قائم کی گئی تھی۔ تحریک آزادی کشمیر اس حکومت کی اولین ترجیحی ہونی چاہیے۔ آزادکشمیر اسمبلی،سول سوسائٹی،وکلاء اور صحافیوں پر مشتمل نمائندہ وفد اسلام آباد میں قائم مختلف ممالک کے سفارتخانوں میں جا کر مسئلہ کشمیر پر بات کریں اور بیرون ملک بھی یہ نمائندہ وفود تحریک آزادی کشمیر کو اجاگر کرنے کے لیے بھیجے جائیں۔ قائد حزب اختلاف نے کہا کہ گزشتہ دنوں ہونے والی احتجاج تحریک کے دوران ہم نے اپنی پوری کوشش کی کہ حالات پرامن رہیں۔حکومت نے گزشتہ روز تحریک کے اسیران کو رہا کر کے ایک اچھا کام کیا۔ لیکن اس سے قبل بھی اگر حکومت احتجاج کرنے والوں سے سنجیدگی سے مذاکرات کرتی تو حالات خراب نہ ہوتے اور نہ ہی قیمتی جانوں کا ضیایع ہوتا۔انہوں نے کہا کہ ایف سی اور پی سی بلائے جانے کے موجود فیصلہ پر بھی حکومت نظر ثانی کرے اور اپنی پولیس کو سٹریٹجیک پوائنٹ پر تعینات کرے کیونکہ آزادکشمیر ایک پرامن خطہ ہے یہاں امن وامان کا کوئی مسئلہ نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے بجٹ میں مظفرآباد شہر کے ترقیاتی منصوبہ جات کے لیے فنڈز مختص نہیں کیے،دارالحکومت کے میگا پراجیکٹس کی تکمیل اور نئے منصوبہ جات کے لیے بجٹ میں فنڈز مختص کیے جائیں۔ آزادکشمیربھر میں جنگلات کے اسوقت 900بیلداران ہیں جن کو مستقل کرنے کا وزیراعظم نے اعلان بھی کر رکھا ہے لیکن انکو پانچ ماہ سے تنخواہیں نہیں ملیں۔ اس معاملہ کی طرف توجہ دی جائے۔ملازمین کی تنخواہوں میں مہنگائی کے تناسب سے اضافہ کیا جائے۔AKMIDCایک ٹیکنیکل محکمہ ہے اسکے ملازمین کی پنشن کے مسائل حل کرتے ہوئے اسکے ماہرین کی صلاحتوں سے استعفادہ حاصل کیا جائے۔کیونکہ آزادکشمیر میں معدنیات کے شعبہ میں وسیع پوٹینشل موجود ہے۔ملازمین کو دئیے جانے والی ہاؤس بلڈنگ فنانس کی چار ارب کی رقم جس میں سے بعد ازاں دو ارب روپے واپس کر لیے گئے دوبارہ فراہم کیے جائیں تاکہ ملازمین اپنے گھر تعمیر کر سکیں۔انہوں نے کہا کہ وزراء کو رولزآف بزنس کے تحت حاصل اختیارات استعمال کرنے کا اختیار دیا جائے تاکہ ترقیاتی منصوبہ جات بروقت مکمل ہوسکیں اور فنڈز ضائع نہ ہوں۔ اپوزیشن کے حلقوں کو بھی ترقیاتی منصوبہ جات برابری کی بنیاد پر دئیے جائیں اور اس میں ہماری رائے بھی لی جائے۔انہوں نے کہا کہ زلزلہ متاثرہ علاقوں کے سکولوں کی تعمیرنوکے لیے فنڈز فراہم کیے جائیں،پاور ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن کے فنڈز میں اضافہ کیا جائے تاکہ اس محکمہ سے انکم جنریشن میں اضافہ ہوسکے،بیروزگاری کے خاتمہ کے لیے ٹیکنیکل ایجوکیشن کے فروغ کے لیے فنڈز مختص کیے جائیں،سپورٹس یوتھ اینڈ کلچر اور ماحولیات کے بجٹ میں اضافہ کیا جائے،آئی ٹی کے شعبہ کو ترجیحی دی جائے،صنعتوں کے فروغ کی طرف توجہ دی جائے،اپر چھتر ہاؤسنگ سکیم کی سڑکوں کی تعمیر مکمل جائے،مظفرآباد میں سلاٹر ہاؤس کے قیام،جوڈیشنل کمپلیکس کے لیے سٹرک کی تعمیر،لوہارگلی بائی پاس روڈ کی تعمیر،نیلم پارک کی تعمیر،مظفرآباد شہر میں سیاحوں کے لیے بارہ دری فوڈ سٹریٹ،واک وے کے منصوبوں کے لیے فنڈز مخص کیے جائیں۔مظفرآزاد شہر میں جاری سی ایم ایچ فلائی اوورکا کام بروقت مکمل کیاجائے اور کارڈیک ہسپتال جو کہ ایک بہترین ہسپتال ہے اسے اپ گریڈ کیا جائے اور ایمز ہسپتال کو بھی اپ گریڈ کیا جائے۔اپوزیشن حلقوں کو ترقیاتی منصبوبہ جات میں شامل کیا جانا چاہیے۔ سیاحت کو مزید فروغ دینا چاہیے، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بارے ہم نے منصوبہ بنایا تھا،2022-23کی اے ڈی پی میں تمام منصوبہ جات ختم کر دیے گئے۔ نیلم جہلم پراجیکٹ کے بعد جھیلوں کی تعمیر کے حوالے سے واپڈا سے بات کریں۔انہوں نے کہاکہ آزادکشمیر میں صرف ایک پلاسٹک سرجن ہے پلاسٹک سرجری اور کینسرہسپتال کی تعمیر کے حوالے سے اقدامات کیے جائیں۔ عارضی ملازمین جوکہ پندرہ اور بیس بیس سال سے خدمات دے رہے ہیں ان کے حوالے سے لائحہ عمل بنایاجائے۔ مظفرآباد دارالحکومت ہونے کے ناطے سب کا شہر ہے اس کی تعمیروترقی یے منصوبوں کی جانب بھی توجہ دی جائے۔

ممبر اسمبلی وصدر پاکستان پیپلزپارٹی آزادکشمیر چوہدری محمد یاسین نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہاکہ بھارت اور اسرائیل کا گٹھ جوڑ ہے۔ایک اسرائیلی اخبار کے مطابق ہندستان غزہ کے مسلمانوں پر مظالم ڈھانے کیلئے اسرائیل کو اسلحہ فراہم کررہاہے۔ اس پر دنیا باالخصوص مسلم امہ کی خاموشی قابل افسوس ہے۔ پانچ اگست2019کے بعد کی صورتحال تیزی سے تبدیل ہورہی ہے اس کے بعد ہندستان مقبوضہ کشمیر کی ڈیمو گرافی تبدیل کرنے کی کوشش کررہا ہے۔انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی کی بنیاد ہی مسئلہ کشمیر رکھی گئی تھی، ذوالفقار علی بھٹو نے کشمیر کیلئے ایک ہزار سال تک جدوجہد کرنے کے عزم کا اعادہ کیا تھا۔ ان کے دورمیں پاکستان کی خارجہ پالیسی کا محور ومرکز مسئلہ کشمیر تھا۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ جائنٹ ایکشن کمیٹی کی ہڑتال کے دوران ہماری پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں صدر پاکستان آصف علی زرداری کے نوٹس میں معاملہ لانے کا فیصلہ کیا اور جب ہم نے انکو اس حوالہ سے آگاہ کیا تو انہوں نے ان مطالبات کو جائز قراردیتے ہوے وزیراعظم پاکستان کو فون کر کے معاملہ حل کرنے کی بات کی۔جس پر وزیراعظم پاکستان نے 23ارب روپے کے فنڈز جاری کیے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے پہلے دن سے حکومت کو اس معاملہ کو سنجیدگی سے حل کرنے کے لیے کہا لیکن حکومت نے میری تجویز کو زیرغور نہیں لایا۔حکومت ایکشن کمیٹی کو دھمکیاں دیتی رہی جسکی وجہ سے حکومتی رٹ متاثر ہوئی اور لوگوں کے دلوں سے انتظامیہ اور پولیس کا ڈر بھی ختم ہوگیا۔انہوں نے کہاکے بجٹ کے حوالہ سے بھی اتحادی جماعتوں سے مشاورت کا فقدان رہا۔ جس کیوجہ سے پاکستان اور کشمیریوں کے رشتے میں غلط فہمیاں پیدا ہوئیں۔آج بجٹ پر بحث بھی تمام اتحادی جماعتوں کے اصرار پر ہوا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اسوقت تاریخ کے مشکل ترین حالات سے گزر رہا ہے۔معاشی مشکلات اوردہشتگردی کے خطرات نے ملک کو گھیرا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج جمہورے معاشروں میں ہر شہری کا حق ہے۔میں اس موقع پر اپنی بہادر افواج پاکستان کو بھی خراج تحسین پیش کرتاہوں جنکی وجہ سے ہم سکون کی نیند سوتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اسوقت سیاسی جماعتوں کو غیر فعال کیا جا رہا ہے۔میں نے ہمیشہ لوگوں کے جائز مطالبات کی حمایت کی ہے۔سستاآٹا اور بجلی لوگوں کا حق تھا جو انہیں ملنا چاہیے۔میں صدر پاکستان آصف علی زرداری اور وزیراعظم پاکستان میاں شہبازشریف کا شکرگزارہوں کے ان کی ذاتی دلچسپی کے باعث یہ معاملہ حل ہوا۔ انہوں نے کہا کہ اس بجٹ میں بڑے عوامی منصوبے شامل نہیں کیے گئے۔ لیپہ ٹنل،لوات ٹنل، مظفرآبادکوٹلی رنگ روڈزکے منصوبے بجٹ میں شامل ہونے چاہیے تھے۔اس بجٹ میں سڑکوں کی تقسیم بھی انصاف کے تقاضے پورے نہیں کرتی۔انہوں نے کہا کہ میرے گاؤں میں تارکین وطن نے اپنے فنڈز سے رورل ہیلتھ سینٹر کی عمارت تعمیر کی ہے جس سے بیس ہزار آبادی مستفید ہوگی لیکن مالیاتی رضامندی کے باوجود اس کے سٹاف کے لیے انتظامی منظوری نہیں ہوسکی۔مختلف منصوبوں پر کامکمل کرنے والے ٹھیکیداروں کو ادائیگیاں نہیں کی گئیں۔انہوں نے کہا کہ بیروگاری کے خاتمہ کے لیے بجٹ میں کوئی تجاویز شامل نہیں کی گئیں۔ہائیڈرل،سیاحت،آئی ٹی اور ٹیکنکل سینٹرز کے قیام کے حوالہ سے کوئی خاص تجاویز بجٹ میں شامل نہیں۔ ہمارے نوجوان بیروزگار ہیں جن کو روزگار کی فراہمی کے لیے فنی تربیت پر فوکس کیا جانا چاہیے۔ اسوقت پاکستان میں بارہ فیصد پراپرٹی ٹیکس نافذ ہے جبکہ آزادکشمیر میں اڑتیس فیصد پراپرٹی ٹیکس نافذ ہے جس کو کم کر کے پاکستان کے دیگر صوبوں کے برابر کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ میں تمام تر تحفظات کے باوجود اپنی جماعت کی ہدایت پر بجٹ کی تائید کرتا ہوں۔

ممبر اسمبلی وصدر مسلم لیگ(ن) شاہ غلام قادر نے کہاکہ میں چھ مرتبہ اس اسمبلی کا رکن رہا اور کبھی نہیں دیکھا کہ بجٹ پر بحث کروانے کیلئے ممبران اسمبلی کو اتنی جدوجہد کرنی پڑی ہو۔ ہم نے چوہدری انوارالحق کو بطور آزاد امیدوار ووٹ دیاتھا نہ کہ کسی جماعت کے امیدوار کے طور پر۔آزادکشمیر تحریک آزادی کا بیس کیمپ ہے اور تحریک آزادی کے حوالے سے بجٹ میں صرف8سطریں لکھی گئی ہیں۔ تحریک آزادی کشمیر،کشمیر ی حریت رہنماوں کی قربانیوں اور اسیران مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے بجٹ میں تجاویز شامل ہونے چاہیے۔ہندوستان کی اسمبلی کے حالیہ انتخابات میں مقبوضہ کشمیر کے عوام نے ان لوگوں کو ووٹ دیے جنہوں نے کہاکہ ہم 35اے اور 370بحال کروائیں گے۔مودی کے اربوں کے پیکج کو مقبوضہ کشمیر کے لوگوں نے مستردکردیا۔انہوں نے کہا کہ اس بجٹ میں افواج پاکستان کے حوالے سے صرف 06سطریں شامل کی گئی ہیں۔اس تقریرمیں اس سپاہی کی تعریف میں کیا حرج ہے جو لائن آف کنٹرول پر کھڑا ہے اور اسکی وجہ سے ہم سکون کی نیند سوتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ اگر ہم نے اس ایوان کی توقیر کا خیال نہ کیا تو کل ہمیں پچھتانا پڑیگا۔ ایکشن کمیٹی کی حالیہ دنوں کی تحریک کے دوران مظاہرین کے مطالبات پورے کرنے کے لیے وزیراعظم شہباز شریف نے 23ارب روپے دینے پر ان کے شکرگزارہیں۔ حکومت سے مطالبہ کرنا ہر شہری کا حق ہے۔لیکن مطالبہ حکومت آزادکشمیر سے اورگالیاں پاکستان کو اس کی منتق سمجھ سے بالاتر ہے۔ آزادکشمیر کی شہیدوں اور غازیوں کی سرزمین پر پاک فوج کے خلاف نعرے لگانا انہتائی افسوسناک ہے۔ کیا ہم نے19جولائی 1947کو قراردادالحاق پاکستان اس لیے منظور کی تھی۔اسوقت دنیا میں پاکستان ہی ہمارا واحد وکیل ہے اس کے بغیر ہمارے پاس کوئی دوسراآپشن نہیں۔ انہوں نے کہاکہ تارکین وطن بینکوں کو سرمایہ بھیجتے ہیں لیکن بینک ہمارے شہریوں کو قرضہ نہیں دیتے اس حوالہ سے حکومت اقدامات کرے اور کشمیر بینک کو شیڈول بینک بنانے کے لیے اقدمات کرے۔ انہوں نے کہا کہ آزادکشمیر باالخصوص نیلم میں گرین ٹورازم کے حوالے سے میرے شدید تحفظات ہیں۔ہم سیاحت کے فروغ کے خلاف نہیں لیکن کسی بھی ایسے منصوبے کی حمایت نہیں کر سکتے جس سے ہمارا کلچر،روایات اور ہمارے قیمتی جنگلات متاثر ہوں۔حکومت ایسے منصوبوں پر کام کرے جن سے مسائل حل ہوں اور لوگ متاثر نہ ہوں۔پھلاوائی ہائیڈل پراجیکٹ کی پچھلے ایک سال سے ڈی ڈبلیو پی نہیں ہوسکی، ایسے ہائیڈل منصوبوں سے جنگلات کی بھی بچت ہوگی۔ شاردہ میں پرانی آثار قدیمہ کے طور پر یونیورسٹی بحال کی جائے۔اگراس بجٹ سے ایک ماہ پہلے سکیمیں لی جاتیں تو تماممبران تسلی سے اپنے اپنے حلقہ کے لوگوں کے لیے منصوبے تجویز کر سکتے۔ کابینہ اجلاس تواتر سے ہونے چاہیے یہ جمہوریت کاحسن ہے۔ لیپہ ٹنل کو بجٹ میں شامل کیاجائے۔ تین دانش سکول دینے پر وزیراعظم پاکستان کا شکرگزارہوں۔ فنڈز کی فراہمی کے حوالے سے حکومت کے ساتھ ہیں لیکن آزادکشمیر کی سیاسی فضاکو بھی ٹھیک کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا بدقستمی سے آزادکشمیر میں آج کل سیاسی فضا ٹھیک نہیں۔ لیکن ہم اب خاموش نہیں رہیں گے اورکسی کو پاکستان کا جھنڈا اتارنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ پاکستان کے ساتھ لازوال رشتے کو کسی صورت کمزور نہیں ہونے دیں گے، یہ ہمارا وعدہ ہے۔ انہوں نے کہاکہ فنی تعلیم کو فروغ دیا جائے ٹیوٹا کو فعال کریں بیروزگاری اسی صورت ختم ہوگی۔ وزیراعظم پاکستان نے بارشوں سے متاثرہ خاندانوں کو معاوضہ دیا لیکن تحقیقات ہونی چاہیے کہ جن کو معاوضہ دیا گیا کیا واقعی ان کے مکان بارشوں سے متاثر ہوئے تھے۔

ممبر اسمبلی وسابق وزیراعظم راجہ محمد فاروق حیدرخان نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہاکہ بجٹ آمدن اور اخراجات کے اعداد وشمار کا مجموعہ ہوتاہے۔اس حکومت کے قیام کا مقصد تحریک آزادی کشمیر کو اجاگر کرنا تھا۔ جوبھی حکومت آتی ہے وہ اپنے اہداف مقرر کرتی ہے لیکن اس حکومت نے اپنے کوئی اہداف نہیں مقرر کیے۔ جب مسلم لیگ ن کی حکومت قائم ہوئی تھی تو ہم نے اپنے ترجیحات کا تعین کیا تھا جس میں تحریک آزادی کشمیر سرفہرست تھی۔ہم نے وفاقی حکومت کو وزرات خارجہ میں کشمیر کے حوالہ سے ایک سیل قائم کرنے کی تجویز دی تھی۔ عمران خان جب وزیراعظم تھے تو ان کی زیر صدارت میٹنگ میں فیصلہ ہواتھاکہ حریت قیادت اور حکومت آزادکشمیر مل کر تجاویز تیار کرے گی لیکن اس میٹنگ کے بعد معاملات کو سنجیدگی سے نہیں لیا گیااور وفاقی حکومت نے اپنا موثر کردار ادا نہیں کیا۔انہوں نے کہا کہ کشمیر کمیٹی کو فعال کیا جائے اور اس میں ایسے

لوگوں کو شامل کیا جائے جو کشمیر کے حوالہ سے حکومت پاکستان کی رہنمائی کر سکیں۔بدقسمتی سے اسوقت پاکستان کے عوام کو کشمیریوں سے بد ظن کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ہندوستان کے انتخابات میں مودی کو اکثریت نہیں مل سکی وہ اپنی ساکھ برقرار رکھنے کیلئے کوئی بھیایڈونچر کر سکتاہے ہمیں اس کے لیے تیار رہنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ میں پورے یقین سے کہہ سکتا ہوں کے حالیہ تحریک کے دوران پاکستان کا جھنڈا کسی نے نہیں اتارا یہ محض پروپیگنڈاتھا۔کشمیریوں کی منزل پاکستان ہے۔ انہوں نے کہاکہ حکومت اپنی سول ایڈمنسٹریشن پر اعتبارکرے اور ان سے کام لے۔ میں یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ رینجرز فوج کا حصہ نہیں بلکہ یہ سول آرمڈفورسز میں آتی ہے۔ انہوں نے کہا جولوگ آزادکشمیر سے پاکستانی فوج کے نکلنے کی بات کرتے ہیں انکو معلوم ہونا چاہیے کہ فوج کا مقابلہ فوج ہی کر سکتی ہے۔ پاکستان کی فوج آزادکشمیر میں ہماری آزادی کا دفاع کرتی ہے۔ پاکستان کو کبھی ہندوستان کے برابر نہ کریں۔ ہندوستان کی فوج نے مقبوضہ کشمیر میں جو کیا وہ سب کے سامنے ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہمارے مستقبل کا فیصلہ رائے شماری سے ہونا ہے۔اس کے علاوہ اس مسئلہ کا کوئی حل نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے مجھے آزادکشمیر حکومت کی سمت نظر نہیں آرہی۔ ماضی میں بھی ہمارے اختلافات حکومت پاکستان سے ہوتے رہے ہیں اور آئندہ بھی ہوتے رہیں گے، یہ ہمارے گھر کا معاملہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے اپنے گھر سے زیادہ راولاکوٹ کی دھرتی عزیز ہے۔ پونچھ عظیم لوگوں کی دھرتی ہے۔اس سرزمین کے لوگوں کے ذہنوں میں زہر بھر دینا میرے لیے تشویش کا باعث ہے۔ انہوں نے کہاکہ ایکشن کمیٹی سے مذاکرات کے عمل کو ایوان کے سامنے رکھنا چاہیے تھا۔ وزیراعظم کا کام پالیسی دینا ہوتا ہے،ہمارے وزیراعظم خود مائیکرو مینجمنٹ کرتے ہیں جس کی وجہ سے ان کو بڑے معاملات کے لیے وقت نہیں ملتا۔حکومت ٹیم ورک ہوتا ہے وزراء اور بیووکریسی نے کام کرنا ہوتا ہے۔سابق وزیراعظم نے کہا کہ یواین ڈی پی کی رپورٹ کے مطابق 2016سے2021میں آزادکشمیر صوبوں سے ہیومن انڈکس میں آگے رہا جو مسلم لیگ کی اس وقت کی حکومت کامجموعی کریڈٹ ہے۔ انہوں نے کہاکہ بین الااضلاعی سڑکوں پر توجہ دی جائے،سی ایم ایچ فلائی اوور کاکام مکمل کیاجائے، سکیل سات سے پندرہ تک این ٹی ایس بحال کیاجائے، پی ایس ڈی پی کے منصوبہ جات اسمبلی بلڈنگ، میڈیکل کالج،رٹھوعہ ہریام پل کا کام مکمل کیاجائے۔انہوں نے کہا کہ سیکرٹریٹ ملازمین کے الاؤنسز کے مسائل اور آزادکشمیر یونیورسٹی کے ٹرانسپورٹ کے مسائل حل کیے جائیں۔ بکروال کمیونٹی کے مسائل پر توجہ دئیے جانے کی ضرورت ہے۔ کنٹیجنٹ ملازمین کی وفاقی حکومت کے برابر37ہزارروپے ماہانہ تنخواہ بڑھائی جائے۔ بیلدارن اور ایم این سی ایچ کے مسائل حل کیے جائیں۔ انہوں نے کہاکہ ہائیڈل پوٹینشل، سیاحتی مقامات پر سہولیات کی فراہمی، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بارے کام کیاجائے۔ موسمیاتی تبدیلیوں پر توجہ دی جائے۔لیپہ میں لکڑی کے پرانے مکان کو بطور آثار قدیمہ محفوظ کرنے کے لیے فنڈز فراہم کیے جائیں۔

سابق وزیراعظم وصدر تحریک انصاف آزادکشمیر سردار عبدالقیوم نیازی نے کہاکہ یہ حکومت مقبوضہ کشمیر کے لوگوں کی بھی نمائندہ حکومت ہے، یہاں حالات خراب نہیں ہونے چاہیں۔حالیہ تحریک میں حکومت نے بروقت لوگوں کے ساتھ مذاکرات نہیں کیے جس کیوجہ سے لوگوں کی جانیں ضائع ہوئیں۔ انہوں نے کہاکہ یہاں سیاسی جماعتوں کو غیر موثر کیا جا رہا ہے جب سیاسی جماعتیں بے اثر ہوجائیں گی تو یہ اسمبلی بھی بے اثرہوجائیگی اور لوگ اسی طرح حق کے لیے نکلیں گے جس سے حالات خراب ہونگے۔ حکومت کو احساس ہونا چاہیے تھاکہ اس طرح کے حالات کے خلاف ہندوستان کس طرح کا پروپیگنڈ ا کریگا۔ انہوں نے کہا کہ بلدیاتی نمائندں کو فنڈز دیے جائیں یہ انکا حق ہے۔ حکومت کو اپنا رویہ تبدیل کرنا ہوگاتب جا کراس ایوان کا بھی تقدس بحال ہوگا۔ اگر ہم نے اپنی اصلاح نہ کی تو لوگ گندے انڈوں اور ٹماٹروں سے ہمارا استقبال کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اسوقت ہمارا لیڈر اس قوم اور ملک کی بقا کیلئے کھڑا ہے۔ اگر پاکستان مشکل میں ہے تو اسکا اثر آزادکشمیر میں لازمی پڑتاہے۔آزادکشمیر میں بیروزگاری میں اضافہ ہورہاہے۔ انہوں نے کہاکہ ایل او سی کے لوگوں کے مسائل کی طرف توجہ دی جائے۔ سیاحتی مقامات کی صفائی کیلئے اقدامات کیے جائیں۔ مظفرآبامیں لوہارگلی ٹنل کے منصوبے کو بجٹ میں شامل کیا جائے۔پاکستان ہماری منزل ہے، یہ خطہ کسی اور نظریے کی آبیاری کا متحمل نہیں ہوسکتا۔

بجٹ پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے ممبر اسمبلی وصدر جموں وکشمیر پیپلز پارٹی سردارحسن ابراہیم خان نے کہاکہ حکومت آزادکشمیر کے قیام کا مقصد تحریک آزادی کشمیر کو اجاگر کرنا اور ہمارے ادھورے سفرکو پایہ تکمیل تک پہنچانا تھا۔ میرے آباؤ اجداد نے ہمیشہ لوگوں کو باور کروایا کہ پاکستان ہماری منزل ہے۔ حالیہ احتجاج کے دوران ہم نے حکومت کو بارہاباور کروایا ہے کہ اس احتجاج سے ہمارے نظریے کو نقصان ہورہا ہے اسکو سنجیدگی سے لیا جائے لیکن حکومت نے اس پر سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا۔حکومت نے لوگوں کے جذبات کو بروقت کنٹرول کرنے کی کوشش نہیں کی۔ہم پر بھی لوگوں کا دباؤ تھا کہ اس تحریک میں شامل ہوں لیکن ہم نے اپنے اسلاف کے نظریے سے انحراف نہ کرتے ہوئے اس میں شمولیت اختیار نہیں کی۔ اس۔ ہم ریاست کے تشخص پر کوئی کمپرومائز نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہاکہ آج تک اس ہاوس کی کمیٹیاں تشکیل نہیں دی جا سکیں، ہاؤس کے تقدس کو بحال رکھنا ہے اور اسے اسکا کردار ادا کرنے کا اختیار دیاجانا چاہیے۔ جو ادارے ہمارے اسلاف نے بنائے انکے تقدس کا خیال رکھنا بھی ہمارا فرض ہے۔ انہوں نے کہاکہ اس طرح کے احتجاج کے پیچھے بیروزگاری کا بھی بڑاکردارہے،نوجوانوں کو فنی تربیت دے کر ان کے لیے روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں اور انکے لیے کھلیوں کی سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ وہ منفی سرگرمیوں سے دور رہیں۔انہوں نے کہاکہ سیاحت کی ترقی، صحت کی سہولیات کہ فراہمی اور نظام کی بہتری ضروری ہے۔ آئین و قانو ن کے مغائر کسی بھی عمل کو قبول نہیں کریں گے۔ سیاحت کو فروغ دیں، تاؤبٹ سے بھمبر تک سڑک بنائیں، سیاحتی مقاما ت پر سہولیات فراہم کریں۔ سیاحت پر فوکس کیا جائے س سے ریاست کی معیشت میں بھی بہتری آئیگی۔ بلدیاتی نظام کو فعال کیا جائے اور بلدیاتی نمائندوں کو انکا اختیار دیا جائے۔ انہوں نے کہاکہ یونیورسٹیوں کی حالت بہتر کی جائے اور کوالٹی آف ایجوکیشن پر فوکس کیاجائے اگراس بارے میں قانون سازی درکار ہے تو وہ کی جائے۔ سپورٹس کی طرف توجہ دی جائے، منشیات کی روک تھام کیلئے کام کیا جائے۔ہر اچھے کام میں حکومت سے مکمل تعاون کرنے کو تیارہیں۔ حکومت نے ہیلتھ کارڈ کی بحالی، سوشل پروٹیکشن فنڈاوراے جے بینک کو شیڈول بنانے کی طرف پیش رفت کیلئے اقدام اٹھائے ہیں لیکن ہماری بنیادی ذمہ داری تحریک آزادی کشمیر ہے اس پر ہمارا فوکس ہونا چاہیے یہ ہم سب کی ترجیح ہے۔

بحث میں حصہ لیتے ہوئے ممبر اسمبلی چوہدری محمد اسماعیل گجر نے کہاکہ25جولائی2021 کو میرا الیکشن چوری ہوالیکن مجھے عدالتوں سے انصاف ملا جس کی وجہ سے آج میں یہاں اپنے لوگوں کی نمائندگی کر رہا ہوں۔ مہاجرین کے کوٹہپر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے۔ 22فیصد کل کوٹہ تھا جس میں سے 06فیصد89کے مہاجرین کو دیدیا گیا باقی پر عملدرآمد نہیں ہوتا،حکومت اس پر عملدرآمد کروائے۔ انہوں نے کہاکہ پورے ملک میں مہاجرین آباد ہیں،ہمیں زمینیں الاٹ ہوئیں لیکن مالکانہ حقوق نہیں مل سکے اب ان زمینوں کی نیلامی کے آرڈر ہو چکے ہیں، یہ ایک سنجیدہ معاملہ ہے جس کو وزیراعظم وفاق سے مل کر حل کریں۔ ہمیں دوبارہ مہاجر نہ کیاجائے۔ انہوں نے کہاکہ ذوالفقار علی بھٹو نے ہمیں مالکانہ حقوق دیے،سٹیٹ سبجیکٹ کی واضح پالیسی نہ ہے جس کی وجہ سے مسائل کا سامنا ہے۔ جہیزفنڈ اور مالی امدادمیں اضافہ کیاجائے۔انہوں نے کہاکہ جیسے آزادکشمیر کی قانون ساز اسمبلی کیلئے مختص سیٹوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا ہے ایسے ہی مہاجرین کی نشستوں میں بھی اضافہ کیاجائے۔پاکستان کے عوام اور پاک فوج کے حوالہ سے مناسب رویہ اختیار کیا جائے اور نامناسب رویوں کو روکا جائے۔ انہوں نے کہاکہ بھمبرمیں پورے آزادکشمیر کیلئے گندم پیدا کی جاسکتی ہے، اگر ہم ترجیحی بنیادوں پر وہاں سہولیات دیں۔ وزیراعظم اور انکی ٹیم کو اچھا بجٹ بنانے پر مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ وزیرخزانہ کی بجٹ تقریر کی مکمل حمایت کرتاہوں۔

اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے ممبر اسمبلی چوہدری محمد رفیق نیئر نے کہاکہ پاکستان کی سلامتی ریاست جموں وکشمیر کے عوام کے ایمان کا حصہ ہے پاکستان کی سلامتی آزادکشمیر اور پوری مسلم امہ کی سلامتی ہے۔ انہوں نے کہا کہا کہ ہم سب کو مل کر غلط پاکستان کے بارہ میں غط تاثر کو دور کرنا ہوگا۔ یہاں سے فنڈز بڑھانے کا مطالبہ کیا جاتا ہے، سٹیٹ بینک میں آج بھی 26ارب روپے ڈویلپمنٹ کے موجود ہیں بتایاجائے وہ کیوں بروقت استعمال نہیں ہوئے۔ ترقیاتی فنڈز کا استعمال تب ہوتا ہے جب وزراء کو اختیارات حاصل ہوتے ہیں۔ سیکرٹری جوکہ پرنسپل اکاؤنٹنگ افسر ہوتا ہے اس سے بھی اختیارات لے لیے گئے ہیں۔ محکمہ کمیونیکیشن اینڈ ورکس کے 06ارب کے بقایا جات ہیں، ٹھیکیداروں کو ادائیگی نہیں ہوئی جس وجہ سے کام متاثرہورہاہے۔ آزادکشمیر کی تمام بڑی شاہرائیں کھنڈرات کا منظر پیش کررہی ہیں۔ مکینیکل غلطی پر ڈسپلنری ایکشن لیاجاناچاہیے۔ منصوبوں کی انکوائری ہونی چاہیے اوربدعنوانی کرنیوالوں کی صرف گرفتاری نہیں بلکہ ریمول فرام سروس کی کارروائی ہونی چاہیے۔ احتساب سب کیلئے ہونا چاہیے۔ مریضوں کو زکوٰۃ منافع فنڈ سے علاج معالجہ کی سہولت بحال کیاجائے۔ مظفرآباداورمیرپور کارڈیک سینٹرز سے مفت علاج کی سہولت دی جائے۔

بحث میں حصہ لیتے ہوئے ممبر اسمبلی حافظ حامد رضا نے کہاکہ وزیرخزانہ کو بجٹ پیش کرنے پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے دعا گو ہوں کہ اللہ ہمیں عوام کی خدمت کی توفیق عطا فرمائے اور دیانتداری سے فنڈز خرچ کی بھی توفیق دے۔ انہوں نے کہاکہ آئی ٹی کے حوالے سے بجٹ میں کم رقم رکھی گئی ہے۔ موجودہ دور آئی ٹی کا ہے اور دنیا اس سے استفادہ کررہی ہے۔ بڑے شہروں میں لوگ ای کامرس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنا کاروبار آگے بڑھارہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ نصاب میں ٹیکنیکل سکلز کو شامل کیا جائے اور فنی تعلیم کو فروغ دیاجائے۔ ہم نے اپنے دور میں سو کے افراد کو سیالکوٹ لیکر گئے تاکہ اہیں ہنرمندبناسکیں۔انہوں نے کہاکہ مہاجرین کے آج بھی بہت مسائل ہیں، ابھی تک مہاجرین کو مالکانہ حقوق نہیں مل سکے۔ سیالکوٹ میں بہت بڑی تعداد میں مہاجرین مقیم ہیں اور وہاں قبرستان کا بڑا مسئلہ ہے۔کشمیر کمیونٹی سینٹر سیالکوٹ کو بجٹ میں شامل کیا جائے۔ مساجد کو بجلی بلات میں چھوٹ دینے کے اعلان پر عمل درآمد کیاجائے۔ خاتم النبینؐ اتھارٹی کے قیام کا اعلان ہواتھا اس پر بھی عملدرآمد کیا جائے۔ تجوید القرآن ٹرسٹ میں اضافہ کیاجائے۔

اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے ممبر اسمبلی علی شان سونی نے کہاکہ حکومت نے میرے ساتھ امتیاز ی سلوک روا رکھاہے۔ میرے حلقہ کی 26کلو میٹر سڑکات من پسند لوگوں کو دی گئیں، میرے حلقہ کی تمام سڑکوں پر کام شروع نہیں کیا جاسکا۔ تمام ممبران اسمبلی کی عزت و احترام کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت میرے ساتھ بے شک زیادتی کرے لیکن میرے حلقہ کے لوگوں کو انکا حق دے۔ مختلف منصوبوں پر ورک آرڈر کے مطابق جن لوگوں نے کام مکمل کر لیے ہیں ان کو ادائیگیاں کی جائیں۔

٭٭٭٭٭٭٭

مظفرآباد(پی آئی ڈی)26جون2024

آزادجموں وکشمیر قانون ساز اسمبل کے بجٹ اجلاس میں عام بحث کے بعد وزیر خزانہ عبدالماجد خان کی جانب سے پیش کردہ مطالبات زر نظر ثانی میزانیہ2023-24 ترقیاتی وغیر ترقیاتی کل رقمی1کھرب 90ارب93کروڑ 50لاکھ روپے جبکہ ترقیاتی وجاریہ میزانیہ مالی سال2024-25کل رقمی 2کھرب 64ارب 3کروڑ30لاکھ روپے متفقہ طور پر منظور کر لیے گئے۔

٭٭٭٭٭٭

مظفرآباد(پی آئی ڈی)26جون2024

آزادجموں وکشمیر قانون ساز اسمبل کے بجٹ اجلاس میں وزیر خزانہ عبدالماجد خان نے”آزادجموں وکشمیر فنانس ایکٹ 2024 “کو ایوان میں پیش کیاجسے ایوان نے متفقہ طور پر مجلس منتخبہ کے سپرد کر دیا۔

٭٭٭٭٭٭

مظفرآباد(پی آئی ڈی)26جون2024

سپیکر آزادجموں وکشمیر قانون ساز اسمبلی نے آزادجموں وکشمیر قانون ساز اسمبل کا بجٹ اجلاس کل بروز جمعرات دن 2:00بجے تک ملتوی کر دیا

Share This Post

More To Explore