آزاد جموں وکشمیر کلچرل اکیڈمی کے زیر اہتمام آزاد کشمیر حکومت کے 76ویں یوم تاسیس کی مناسبت سے جموں کشمیر میڈیکل کالج میں ”کشمیر کلچرل ایوننگ“ کا انعقاد کیا گیا۔ تقریب میں جموں و کشمیر کی علاقائی ثقافت کو اجاگر کرنے کے لیےسٹالز لگائے گے،لوکل فنکاروں نے ملی نغمے اور لوگ گیت بھی پیش کیے گئے۔ اس موقع پرتقریب کے مہمان خصوصی وزیر حکومت دیوان علی خان چغتائی نے اپنے خطاب میں کہا کہ آزاد کشمیر کا 76ویں یوم تاسیس منانا خوش آئند بات ہے ۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے عوام آج بھی آزاد فضائوں میں سانس لینے کے لیے ترس رہے ہیں، انھوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کو آزاد کروا کر پاکستان کا حصہ بنائیں گے۔ کشمیر کی آزادی اس وقت تک ادھوری ہے جب تک مقبوضہ کشمیر کے مظلوم نہتے بہن بھائیوں کو آزادی کی نعمت نصیب نہیں ہو جاتی۔ پاک فوج بھرپور انداز میں آزادکشمیرکے دفاع کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ کشمیر کی آزادی ہماری بقاء کی ضمانت اور ”کشمیر بنے گا پاکستان“ کا ماٹو تکمیل پاکستان کی علامت ہے۔ 9لاکھ سے زائد بھارتی فوج کشمیریوں کے جذبہ حریت کو ایک پل کے لئے بھی سرد نہیں کرسکی۔ انھوں نے کہا کہ کشمیر مذہبی‘ تاریخی اور جغرافیائی لحاظ سے پاکستان کا حصہ ہے۔ کشمیر کلچرل اکیڈمی آزاد کشمیر کی شناخت کو قائم رکھے ہوئے ہے ۔ انھوں نےکہاکہ کلچرل اکیڈمی کی جانب سے اس رنگارنگ تقریب کے انعقاد پر انتظامیہ مبارکباد کی مستحق ہے- جبکہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سیکرٹری کشمیر کلچرل اکیڈمی مرزا وجاہت رشید بیگ نے کہا کہ یوم تاسیس کے سلسلے میں یہ پروگرام ریاست کی ثقافت،ادب اور فن کے ذریعے ریاستی تشخص کو برقرار رکھنے اور بھارتی ثقافت کے وار کو روکنے کے لیے منعقد کیاگیا ہے۔ کشمیرکلچرل اکیڈمی مختلف تہذیبوں اور علاقائی زبانوں کے فروغ کے لیےعملی اقدامات اٹھا رہی ہے۔ انھوں نے کامیاب تقریب کے انعقاد پر انتظامیہ کلچرل اکیڈمی کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ کشمیرکی ثقافت کو اجاگر کرنے کے حوالے سے کلچرل اکیڈمی کی کارگاردگی قابل ستائش ہے۔ جبکہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل کشمیر کلچرل اکیڈمی فیضان مغل نے کہا کہ ریاست جموں و کشمیر کے عوام کو استصواب رائے کے حق سے محروم نہیں کیا جاسکتا۔ ہماری یہ قومی ذمہ داری ہے کہ اپنی تہذیب و ثقافت،ادب اور فن کی بقاء اور فروغ کے لیے تمام وسائل کو برؤے کار لاتے ہوئے جامع حکمت عملی کے ذریعے اپنے تشخص اور ملی یکجہتی کو قائم رکھنے کے لیے ٹھوس اقدامات اٹھائیں۔ انھوں نے افواج پاکستان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ مسلح افواج نے ہر مشکل میں کشمیر ی عوام کا ساتھ دیا۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کلچرل اکیڈمی حکومتی سطح پر قائم ہونے والا ایک ادبی و ثقافتی ادارہ ہے۔یہ ادارہ آزاد کشمیر کے تمام اضلاع میں، وفاقی سطح پر لو ک ورثہ،PNCA اور اکادمی ادبیات پاکستان کے تعاون سے ریاست جموں و کشمیر کے ادب،ثقافت اور فنون کے فروغ کے لیے ادبی ثقافتی سرگرمیاں سرانجام دے رہا ہے۔ تقریب میں سیکرٹری صاحبان،سیاسی و سماجی رہنماؤں،اہل قلم،وکلاء،نمائندگان پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا،محکمہ سیاحت،ٹیوٹا اور سمال انڈسٹریز کے افسران و عملہ اور سول سوسائٹی سے تعلق رکھنے والےخواتین و حضرات نے شرکت کی۔

سپیکر قانون ساز اسمبلی چوہدری طارق فاروق کی زیر صدارت آزادجموں وکشمیر قانو ن ساز اسمبلی کے اجلاس میں سابق وزیرا عظم و ممبر اسمبلی فیصل ممتاز راٹھور،اپوزیشن لیڈر و ممبر اسمبلی چوہدری محمد یاسین،ممبر اسمبلی چوہدری محمد اسماعیل،ممبر اسمبلی سید بازل علی نقوی،ممبر اسمبلی محترمہ سحرش قمر،ممبر اسمبلی چوہدری محمد رخسار،ممبر اسمبلی محترمہ فرزانہ یعقوب کی جانب سے قراردادیں پیش کیں گئیں۔جنہیں متفقہ طور منظور کر لیا گیا۔
سپیکر قانون ساز اسمبلی چوہدری طارق فاروق کی زیر صدارت آزادجموں وکشمیر قانو ن ساز اسمبلی کے اجلاس میں سابق وزیرا عظم و ممبر اسمبلی
