صدر آزادجموں و کشمیر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے سویڈن میں قرآن پاک کی بے حرمتی کے افسوسناک واقعے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہاہے کہ اسلاموفوبیا پر مبنی اس نفرت پر مبنی اشتعال انگیز کام کے باعث دنیا بھر کے ڈیڑھ ارب مسلمانوں کے احساسات اور جذبات شدید مجروح ہوئے ہیں

صدر آزادجموں و کشمیر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے سویڈن میں قرآن پاک کی بے حرمتی کے افسوسناک واقعے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہاہے کہ اسلاموفوبیا پر مبنی اس نفرت پر مبنی اشتعال انگیز کام کے باعث دنیا بھر کے ڈیڑھ ارب مسلمانوں کے احساسات اور جذبات شدید مجروح ہوئے ہیں۔ اپنے خصوصی بیان میں صدر ریاست آزاد جموں وکشمیر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے کہا کہ بین الاقوامی قانون تمام ریاستوں کو پابند کرتا ہے کہ وہ مذہبی منافرت کی حمایت کرنے والے ایسے کسی بھی عمل کی روک تھام کریں جواظہار رائے کی آزادی کے نام پر تشدد کو بھڑکانے کا باعث بن سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اسلامی تعاون تنظیم کوہر فورم پر ایسے افسوسناک واقعات کی روک تھام کے لیے عملی اقدامات اٹھانا ہوں گے تاکہ مستقبل میں ایسے افسوسناک واقعات سے بچا جا سکے۔کیونکہ اس سے قبل پیرس اور ڈنمارک میں بھی اس طرح کے واقعات رونما ہو چکے ہیں جن سے پوری دنیا کے مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچی ہے۔لہذا ایسے مذہبی منافرت پھیلانے والے عناصراور واقعات کی روک تھام کے لئے موثراقدامات اُٹھانے چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ مذہبی منافرت پھیلانے کی کوئی بھی بین الاقوامی قانون اجازت نہیں دیتا اس افسوسناک واقعہ نے مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کیا ہے۔صدر آزاد جموں وکشمیر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے کہا کہ اس طرح کے ذہنی مریضوں کو قانونی طور پر روکا جانا چاہیے جو مذہبی ہم آہنگی کو شدید نقصان پہنچاتے ہیں۔انہوں نے اس بات کی ضرورت پر زور دیا کہ ذمہ داری کے ساتھ اور متعلقہ بین الاقوامی انسانی حقوق کے قوانین کے مطابق آزادی اظہار کے حق کا استعمال کیا جائے۔انہوں نے عالمی امن اور ہم آہنگی کے لیے مذاہب، ثقافتوں اور تہذیبوں کے درمیان مکالمے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ افہام و تفہیم اور تعاون کو فروغ دے کر ہی ہم عالمی امن کی منزل حاصل کر سکتے ہیں۔ صدر ریاست آزاد جموں وکشمیر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے مزید کہا کہ اگرچہ یورپی یونین اور او آئی سی نے سویڈن میں قرآن پاک کی بے حرمتی کے اس واقعہ کی بھرپور مذمت کی ہے لیکن انٹرنیشنل کمیونٹی کو یہ بات ذہن نشین رکھنی چاہیے کہ آزادی اظہار رائے کے نام پر اس طرح کے واقعات کے وقوع پذیر ہونے کی اجازت نہیں دی جا سکتی اور ہم اس واقعہ کی بھرپور مذمت کرتے ہیں اور ذمہ داروں کو قرار واقعی سزا کا مطالبہ کرتے ہیں۔

٭٭٭٭٭

Share This Post

More To Explore