صدر آزاد جموں وکشمیر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری اور برطانوی ممبر پارلیمنٹ مرزا خالد محمود نے کہا ہے کہ بھارت کی طرف سے سرینگر میں ہونے والی G-20کانفرنس ناکام ہو گئی ہے کیونکہ چین نے واضح اور دوٹوک الفاظ میں اس کانفرنس کا بائیکاٹ کر دیا ہے جبکہ دیگر ممالک بھی اس میں شرکت نہ کرنے کا سوچ رہے ہیں کیونکہ بھارت سرینگر میں G-20کانفرنس کے انعقاد سے دنیا کو یہ تاثر دینا چاہتا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں حالات معمول کے مطابق ہیں جبکہ حقیقت اس کے مغائر ہے


صدر آزاد جموں وکشمیر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری اور برطانوی ممبر پارلیمنٹ مرزا خالد محمود نے کہا ہے کہ بھارت کی طرف سے سرینگر میں ہونے والی G-20کانفرنس ناکام ہو گئی ہے کیونکہ چین نے واضح اور دوٹوک الفاظ میں اس کانفرنس کا بائیکاٹ کر دیا ہے جبکہ دیگر ممالک بھی اس میں شرکت نہ کرنے کا سوچ رہے ہیں کیونکہ بھارت سرینگر میں G-20کانفرنس کے انعقاد سے دنیا کو یہ تاثر دینا چاہتا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں حالات معمول کے مطابق ہیں جبکہ حقیقت اس کے مغائر ہے۔ 05اگست 2019ء کے بعد سے بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں بڑے پیمانے پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں شروع کی ہوئی ہیں اور مقبوضہ کشمیر کی ڈیمو گرافی اور حلقہ بندیاں تبدیل کی جا رہی ہیں جس سے بھارت آبادی کا تناسب اپنے حق میں کرنا چاہتا ہے، جس سے وہ مسئلہ کشمیر کو ختم اور مقبوضہ کشمیر کو ہڑپ کرنا چاہتا ہے۔ لہذا انٹرنیشنل کمیونٹی مقبوضہ کشمیر میں جاری مظالم بند کرانے کے لئے بھارت پر زور دے۔ عالمی برادری مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی کا نوٹس لے۔ مقبوضہ کشمیر کی صورتحال اس وقت انتہائی مخدوش ہے اور کشمیری عوام مسئلہ کشمیر کے حل اور اپنے حق خودارادیت کے لئے انٹرنیشنل کمیونٹی کی جانب دیکھ رہے ہیں۔ صدر آزاد جموں وکشمیر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے مزید کہا کہ میری کال پر آج نیویارک میں اقوام متحدہ کے دفتر کے سامنے، واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کے سامنے، لندن میں برطانوی وزیر اعظم کی رہائش گاہ کے سامنے، جنیوا میں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن کے دفتر کے سامنے جبکہ برسلز میں یورپی پارلیمنٹ کے سامنے اسی طرح پیرس میں ایفل ٹاور کے سامنے جبکہ ا سپین کے دارالحکومت بارسلونا سمیت دنیا بھر میں مقیم کشمیری آج سرینگر میں G-20کانفرنس کے انعقاد کے خلاف احتجاجی مظاہرے کر رہے ہیں اور عالمی برادری سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی طرف سے جاری انسانی حقوق کی پامالی بندکرانے کے لئے اپنا رول ادا کرے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے آج یہاں ملٹی پرپز ہال کشمیر ہاؤس اسلام آباد میں پہلے کشمیری نژاد برطانوی ممبر پارلیمنٹ مرزا خالد محمود کے ہمراہ مقامی، قومی، بین الاقوامی پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا کی ایک پر ہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر برطانوی ممبر پارلیمنٹ مرزا خالد محمود نے کہا کہ ہم برطانوی پارلیمنٹ اور حکومت کے سامنے مسئلہ کشمیر کو اُٹھانے کے لئے اپنی تمام کوششیں جاری رکھیں گے اس کے علاوہ دیگر فورمز پر بھی مقبوضہ کشمیر میں جاری مظالم اور کشمیری عوام کے حق خودارادیت کے لئے آواز بلند کریں گے۔ صدر ریاست آزادجموں وکشمیر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے مزید کہا کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں G-20کانفرنس کے انعقاد میں بری طرح سے ناکام ہو گیا ہے اور اس میں خطے کے ایک اہم ملک چین نے اس کانفرنس کا بائیکاٹ کیا ہے۔ لہذا اب انٹرنیشنل کمیونٹی کو یہ باور کروانے کی ضرورت ہے کہ خطے میں قیام امن کی کنجی مسئلہ کشمیر کے حل میں مضمر ہے۔ بھارت G-20کانفرنس کا انعقاد کر کے دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنا چاہتا تھا اور یہ تاثر دینا چاہتا تھا کہ مقبوضہ کشمیر ایک پرامن علاقہ ہے جبکہ اصل صورتحال اس برعکس ہے کیونکہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی میں بے انتہاء اضافہ کر دیا ہے اور کشمیری عوام پر عرصہ حیات تنگ کر دیا گیا ہے۔ اقوام متحدہ کے کمیشن برائے انسانی حقوق نے مقبوضہ کشمیر میں جاری ظلم و بربریت پر 2018-19میں ایک مفصل رپورٹ پیش کی تھی جس میں اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی پامالی کی تحقیقات کے لئے ایک کمیشن تشکیل دیا جائے جو اپنی غیر جانبدارانہ تحقیقات کر کے رپورٹ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو پیش کرے۔ لہذا انٹرنیشنل کمیونٹی کشمیری عوام کو اُن کا حق خودارادیت دلوانے اور مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی بند کرانے کے لئے اپنا کردار ادا کرے۔
٭٭٭٭٭

Share This Post

More To Explore