آزادحکومت ریاست جموں وکشمیر کے سیکرٹری خوراک منصور قادر ڈار نے کہا ہے کہ وزیراعظم چوہدری انوار الحق کی ہدایت کے مطابق عوام الناس کو آٹا کی قیمتوں کے حوالہ سے اصل صورتحال سے آگا ہ کرنا چاہتا ہوں۔ عوام الناس کو بلاتخصیص سستے آٹاکی فراہمی یقینی بنانے کیلئے حکومت آزادکشمیر کی جانب سے سالانہ تقریباً15 ارب کی سبسڈی دی جارہی ہے۔ حکومت آٹا کی قیمتوں کا تعین لوکل گندم کے ریٹ کے مطابق کرتی ہے جبکہ آٹاپسوائی، ٹرانسپورٹیشن اور انسی ڈینٹل چارجز پر سبسڈی دی جاتی ہے۔ فصلی سال کا تعین گندم کے لوکل ریٹ کے مطابق ہوتا ہے۔حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ فوڈ سیکورٹی کو یقینی بنائے۔آزادکشمیر کی عوام کی آٹے کی ضرورت تقریباً 5 لاکھ 60 ہزار ٹن بنتی ہے۔ حکومت نے یہ تعین کیا ہوا ہے کہ آٹے کی کل ضرور ت کا 60 فیصد حکومت مہیا کرے گی،30 فیصد پرائیویٹ سیکٹر سے حاصل کیا جائے گا اور 10 فیصد جو عوام خود پیدا کرتے ہیں۔ اگر ان میں سے ایک سٹیک ہولڈر بھی اپنے ذمہ کی گندم کم مہیا کرتا ہے تو دوسرے سٹیک ہولڈر پر بوجھ پڑتا ہے اور مسائل پیداہوتے ہیں۔ فصلی سال2022-23میں لوکل گندم کی قیمت خرید 3900روپے ہے جس کے مطابق آٹے کے بیس کلو بیگ کی قیمت 1200سے بڑھا کر 2200کرنی تھی لیکن وزیراعظم آزادکشمیر کی ہدایات کی روشنی میں صرف 1500 روپے 20 کلو آٹے کی قیمت مختص کی گئی اور اس وجہ سے حکومت کو ماہانہ1ارب روپے مزید برداشت کرنا پڑیں گے اور مزید سالانہ12ارب روپے کا بوجھ پڑے گا۔ عوام کو سمجھنا چاہیے کہ حکومت کو لوکل گندم کو قیمت خرید عوام سے وصول کرنی چاہیے تھی لیکن ہم وہ بھی عوام سے وصول نہیں کر رہے ہیں سارا بوجھ حکومت خود برداشت کررہی ہے۔ اس وقت محکمہ خوراک کی جانب سے تین ارب روپے پاسکو کو ادائیگی،ڈھائی ارب روپے ٹرانسپورٹیشن و انسیڈینٹل چارجز اور 1ارب روپے گندم پسوائی پر دیے جارے ہیں۔ مارکیٹ میں اس وقت20 کلو پرائیویٹ آٹے کی قیمت 3000 روپے ہے جبکہ حکومت آزادکشمیر نے 1500سو روپے بیس کلو بیک کی قیمت مقرر کی ہے۔حکومت آزادکشمیر کی جانب سے آٹے کی قیمت میں 300 روپے اضافہ کرنے سے ماہانہ 40 کروڑ روپے عوام سے حاصل کر کے لوکل گندم کی قیمت بھی پوری نہیں ہوگی اور باقی اخراجات بھی حکومت برداشت کرئے گی۔آزادکشمیر حکومت کی جانب سے آٹا کی قیمت میں فی بیس کلو300اضافے کے بعد آٹا کی فی بیگ1500روپے قیمت مقرر کی گئی ہے جبکہ اس اضافے کے بعد بھی مارکیٹ میں پرائیویٹ آٹے کی قیمت اس سے دوگنا تین ہزار روپے ہے۔ آزادکشمیر کے موجودہ اعدادو شمار کے مطابق 42 سے 45 فیصد لوگ غربت کی لکیر سے نیچے ہیں جن کو ٹارگٹ سبسڈی فراہم کرنے کیلئے وزیراعظم آزادکشمیر نے سینئر وزیرکرنل ریٹائرڈ وقار احمد نور کی سربراہی میں حکومتی کمیٹی بنادی ہے،یہ کمیٹی مستحقین کو ریلیف کی فراہمی یقینی بنائے گی۔ پی آئی ڈی ڈیجیٹل فورم کے پروگرام میں اظہار خیال کرتے ہوئے آزادکشمیر حکومت کے سیکرٹری خوراک و فوڈ اتھارٹی منصور قادر ڈار نے کہاکہ پچھلے 3سالوں سے پاکستان میں Bumper Cropکے نہ ہونے کی وجہ سے گندم Import ہورہی ہے اور پورے ملک میں 50 فیصد لوکل اور50 فیصد امپورٹڈ گندم فراہم کی جا رہی ہے۔پچھلے سال لوکل گندم 55000 روپے ٹن تھی اور امپورٹڈ گندم کی ایورج قیمت 1,05,000روپے ٹن تھی۔لوکل اور امپورٹڈ گندم کی قیمتوں میں فی ٹن 50,000 روپے کا فرق بھی حکومت برداشت کرتی ہے جو کہ ہر مہینہ 70کروڑ روپے بنتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ گندم کی پسوائی کے بعد 90فیصد آٹا اور 10 فیصد چوکر نکلتا ہے۔ آٹے اور چوکر کی قیمت میں آنے والا فرق بھی حکومت برداشت کرتی ہے۔ حکومت عوام کو Fortifiedآٹا فراہم کر رہی ہے اس میں آئرن اور وٹامن کی موجود ہیں اور حکومت اس آٹے میں Primixشامل کرتی ہے۔منصور قادر ڈار نے کہاکہ آٹے یا گندم کی ضرورت کو یقینی بنانا ریاست کی ذمہ داری ہے۔آزادکشمیر میں زرعی زمین بہت کم ہے اور آزادکشمیر میں گندم، چاول اور سبزیوں کو زیادہ مقدار میں حاصل کرنے کے لیے مواقع موجود نہ ہیں۔انہوں نے کہاکہ حکومت گزشتہ کئی سالوں سے 3لاکھ ٹن کے قریب گندم مہیاکرتی ہے جو پاسکوسے خریدی جاتی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ محکمہ خوراک آزادکشمیر پاسکو سے گندم خرید کر پنجا ب کے مختلف شہروں سے آزادکشمیر میں فلور ملز کو گندم فراہم کرتا ہے اور اس کی ٹرانسپورٹیشن کے اخراجات حکومت برداشت کرتی ہے جو کہ تقریبا اڑھائی سے 3 ارب روپے بنتے ہیں۔ ہر سال پاسکوگندم کی قیمت خرید کا تعین کرتی ہے جو گندم کی پیداوارکی وجہ سے مختلف ہوتی ہے۔فصلی سال 2021-22میں گندم کی قیمت خرید 2200من اور55000 ٹن تھی۔ سیلاب کے وجہ سے کسانوں کو Incentiveدینے کے لیے قیمت خرید کو 3900 روپے من اور97000 روپے ٹن کر دیا گیا۔انہوں نے کہاکہ ہر سال آٹے کی قیمت کا تعین گندم کی قیمت خریدکے مطابق کیا جاتا ہے۔ پاسکو حکومت سے incidental چارجزبھی لیتا ہے جو حکومت کبھی بھی آٹے کی قیمت میں شامل نہیں کرتی اور خود برداشت کرتی ہے۔انہوں نے کہاکہ ایک سال کے انسیڈنٹل چارجز کم از کم 2 سے 3 ارب روپے بنتے ہیں جو حکومت برداشت کرتی ہے۔ فلور ملز میں گندم کی پسوائی پر تقریبا سالانہ 1ارب روپے کے اخراجات آتے ہیں جو حکومت برداشت کرتی ہے۔انہوں نے کہاکہ آزادکشمیر کی فوڈ پالیسی کے مطابق سیکرٹری خوراک کو اختیار دیا گیا ہے کہ پرائیویٹ اور سرکاری آٹے کی قیمت میں 20 فیصد سے زیادہ فرق نہ رکھا جائے لیکن عوام کو زیادہ سے زیادہ سہولت دینے کیلئے حکومت نے گزشتہ کئی سالوں سے اس فرق کو کم نہ کیا ہے تا کہ عوام پر زیادہ بوجھ نہ پڑے۔ حکومت آزادکشمیر 2023 تک Passcoکے تمام اخراجات دے رہا ہے لیکن لوکل اور امپورٹڈ گندم کے درمیان کا فرق ہم انہیں نہیں دے پا رہے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ آزادکشمیر میں سرکاری آٹا کی قیمت پرائیویٹ آٹا سے نصف ہے جس کی وجہ سے آٹے کی شارٹیج اور سمگلنگ ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ آٹے کی سمگلنگ کو روکنے کے لیے ہم روزانہ کی بنیاد پر کارروائی کر رہے ہیں۔ محکمہ خوراک مستحقین تک آٹے کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے BISPکے ذریعے انہیں نقد روپے مہیا کرنے جا رہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہمارے کچھ ایسے علاقے جوLOCکے قریب واقع ہیں اور وہاں پرائیویٹ آٹا نہیں پہنچ سکتا۔وہاں سرکاری آٹا پہنچانا حکومت کی ذمہ داری ہے جو حکومت بخوبی نبھا رہی ہے۔ذخیرہ اندوزی کرنے والوں کو بالکل نہیں چھوڑا جائے گا۔ ایسے سے لوگوں سے اپیل سے کہ مہربانی کر کے غریب کا حق نہ مارا جائے۔ منصورقادر ڈار نے کہاکہ مجھے یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ پی آئی ڈی ایکFully Equipedادارہ بن چکا ہے، بطور سیکرٹری اطلاعات اس محکمہ میں ہم نے ڈیجیٹل سیکشن کی بنیاد رکھی آج یہاں پر اس سیکشن کی کامیابی دیکھ کر خوشی ہورہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ پی آئی ڈی میں ڈیجیٹل ٹی وی کی شروعات ایک بہت بڑی جدت ہے۔
٭٭٭٭٭٭٭
–

