مرکزی علماء و مشائخ کونسل آزاد حکومت ریاست جموں کشمیراور محکمہ مذہبی امور و اوقاف کے زیر اہتمام عظیم الشان پیغام پاکستان و کشمیر قومی وحدت کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ کانفرنس کی میزبانی مرکزی علماء مشائخ کونسل مذہبی امور و اوقاف آزادکشمیر جموں کشمیر نے کی

مرکزی علماء و مشائخ کونسل آزاد حکومت ریاست جموں کشمیراور محکمہ مذہبی امور و اوقاف کے زیر اہتمام عظیم الشان پیغام پاکستان و کشمیر قومی وحدت کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ کانفرنس کی میزبانی مرکزی علماء مشائخ کونسل مذہبی امور و اوقاف آزادکشمیر جموں کشمیر نے کی۔ جس میں آزادکشمیر کے تمام مکاتب فکر کے جید علماء کرام،سربراہان، مذہبی سکالرز، دینی جماعتوں کے نمائندگان،معروف خانقاہوں کے گدی نشین اور عمائدین نے بھرپور شرکت کی۔ پیغام پاکستان و کشمیر قومی وحدت کانفرنس قومی بیانیہ تاریخ ساز فتوی پیغام پاکستان کے تسلسل میں منعقد کی گئی۔ علماء مشائخ کے اس اجتماع نے پاکستان کے جید علماء اور مقتدر علماء کرام کی طرف سے 2016 کے اندر دئیے گئے اس تاریخ ساز فتوی کی روشنی میں جس کو جامع اظہر اور تمام اسلامی ممالک کے اسکالرز نے سراہا تھا کی تائید و توثیق کی اور مملکت خداداد پاکستان کے مختلف حصوں میں پھر سے دہشت گردی کے واقعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے قرآن و سنت کی روشنی میں مسترد کیا اور اس بات کا عزم کیا کہ ریاست پاکستان جس کا دستور اسلامی و جمہوری ہے اور جس کا قانون قرآن و سنت سپریم لاء ہے اور جس کا سرکاری مذہب اسلام ہے اس ملک میں کسی بھی طرح کی خانہ ساز شریعت کے علمبرداروں کی طرف سے فتنہ و فساد کو مسترد کیا جاتا ہے اور اس سلسلے میں افواج پاکستان نے سیکورٹی کے اداروں نے جید علماء نے قومی شخصیات نے بہت قربانیاں دی ہیں۔ پاکستان کے اندر عقیدہ توحید عقیدہ ختم نبوت و ناموس رسالت باہم رواداری اخوت و پیار اتحاد و یکجہتی ہر صورت میں قائم رکھی جائے گی اور ہر وہ روش جس سے ملک کے امن کو خطرہ ہو جس کی وجہ سے ملک میں بد امنی ہو یا جو ملک دشمن ایجنٹوں کا کردار ادا کر رہے ہوں ملک میں افراتفری پھیلانا چاہتے ہوں قرآن و سنت کی روشنی میں ایک اسلامی ریاست کے اندر انکی اس کارستانی کو مسترد کیا جاتا ہے اور پیغام پاکستان کے قومی بیانیہ کی تائید و توثیق کرتے ہوئے آزادکشمیر کے علماء مشائخ کا یہ نمائندہ اجتماع اس بات کا عزم کرتا ہے کہ مسلح افواج پاکستان کی وہ قربانیاں اور جدوجہد جو ملک کی سرحدات کی حفاظت کے لئے ہے ملک کے اندر امن و امان قائم کرنے کے لئے ہے اور ملک کے اندر سے ہر طرح کا فساد ختم کرنے کے لیے ہے ان کاوشوں اور کوششوں کی بنیاد پر ہم اپنی پاک فوج کے شانہ بشانہ ہیں۔ اس بات کا عزم کیا گیا کہ استحکام پاکستان کے لیئے تحریک آزادی کشمیر کے لیئے اور اقامت دین کے لئے عقیدہ ختم نبوت و ناموس رسالت صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم ک لیئے امت کے اتحاد اور وحدت کے لیئے تمام دینی طبقات اپنا بھرپور کردار جاری رکھیں گے۔ کانفرنس کی میزبانی کرتے ہوئے مرکزی علماء و مشائخ کونسل کے چیئرمین علامہ امتیاز احمد صدیقی نے پوری ریاست سے آئے ہوے جید مقتدر علماء کرام مشائخ اور شخصیات کو خوش آمدید کہتے ہوئے انکا شکریہ ادا کیا۔ اس موقع پر مشیر مذہبی امور و اوقاف صاحبزاہ علامہ حافظ حامد رضا جانشین حضور محدث سیالکوٹی نے بحثیت مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم ہر صورت میں ملک کے اندر اتحاد اتفاق کی فضا کو قائم رکھیں گے۔انہوں نے کہا کہ آزادکشمیر کا خطہ پورے ملک کے لئے رول ماڈل کی حیثیت رکھتا ہے جو مذہبی ہم آہنگی اور باہم احترام اور تمام دینی طبقات کا ایک دوسرے سے رابطہ اس آزاد خطہ میں ہے یہ پورے ملک کے لیئے ایک بہترین مثال ہے اس کا بہترین مظہر آج کا علماء مشائخ کا یہ نمائندہ اجتماع ہے۔ انہوں نے کہا کہ قومی بیانیہ پیغام پاکستان کو دنیا بھر کے اندر سراہا گیا ہے۔ ہزاروں علماء کی محنت سیاس قومی بیانیہ کو تیار کیا گیا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس کو قومی نصاب کا حصہ بنایا جائے۔ الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا پر اس کی تشہیر کی جائے اور ملک کے اندر مساوات عدل و انصاف رواداری اور بھائی چارے کو فروغ دیا جائے ہم آزاد جموں کشمیر اس عظیم نمائندہ علماء مشائخ کے اجتماع کے ذریعے سے پیغام دینا چاہتے ہیں کہ ہم ہر طرح کی دہشت گردی کو فرقہ واریت کو ملک دشمن روش کو مسترد کرتے ہیں اور متحد اور متفق ہو کر یکجان ہو کر ملک کی سلامتی کے لیئے عوام کی بھلائی اور استحکام کے لئے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔انہوں نے تمام آنے والے شرکاء اور اظہار خیال کرنے والے اسکالرز سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ جس طرح آج آپ نے ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوے آزاد جموں کشمیر و تحریک آزادی کشمیر کا بیس کیمپ ہے مظفرآباد میں جمع ہو کر پیغام پاکستان کی تائید و توثیق کی ہے یہ آج ایک تاریخ ساز دن ہے اور اس پر میں آپکو مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ اس اجتماع میں تمام مکاتب فکر کے جید علماء کرام دینی جماعتوں کے سربراہان اور خانقاہوں پر مسند آراء مشائخ عظام اور قومی شخصیات نے بھرپور شرکت کی۔اس موقع پر ریاست کے علماء مشائخ نے وزیر اعظم آزاد حکومت ریاست جموں کشمیر اور ان کی حکومت کی طرف سے مساجد کے بلات سرکاری سطح پر ادا کرنے،محکمہ  زکوٰۃ کی جانب سے اقامتی طلباء کی اعانت بڑھانے،رحمت العلمین،خاتمنبین اتھارٹی کا قیام،ممبران علماء مشائخ کونسل،زکوۃ کونسل کے مشاہرہ میں اضافہ،محکمہ تعلیم کی طرف سے تعلیمی اداروں میں حجاب کا اہتمام کرنے جیسے اقدامات پر حکومت کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے شکریہ ادا کیا گیا۔بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کر کے اختیارات و اقتدار کو نچلی سطح منتقل کرنے پر بھی خراج تحسین پیش کیا گیا۔آخر میں شہداء زلزلہ،ترکیہ و شام کے لئے اور صاحبزادہ پیر سلیم چشتی،مفتی کشمیر مفتی محمد حسین چشتی کی اہلیہ کے درجات بلندی کے لیے فاتح خوانی کی گئی۔چیئرمین علماء مشائخ کونسل نے وائس چیئرمین علماء مشائخ کونسل،ممبران کونسل اور کونسل کے دفتر کے ذمہ داران،محکمہ  اوقاف کے ممبران،اہلکاران کی طرف سے اس کانفرنس کو کامیاب بنانے کے لیے بھرپور کردار ادا کرنے پر مبارکباد پیش کی۔

Share This Post

More To Explore