صدر آزاد جموں و کشمیر ڈاکٹر محمد نجیب خان نے کہا ہے کہ سول سروس ریاست کا ایک اہم ستون ہے جو حکومتی نظام میں تسلسل برقرار رکھنے، عوامی پالیسیوں کو عملی اقدامات میں ڈھالنے اور حکومتی سہولیات و ثمرات شہریوں تک پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ معیاری طرزِ حکمرانی کا انحصار نہ صرف حکومت کی درست پالیسی سازی بلکہ ان پالیسیوں پر مؤثر عملدرآمد پر بھی ہوتا ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ میں منعقدہ چوتھے سینئر مینجمنٹ کورس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔تقریب میں ایڈیشنل چیف سیکرٹری جنرل، سیکرٹری سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن/ ڈائریکٹر جنرل KIM، افسران، ادارے کی فیکلٹی اور سینئر مینجمنٹ کورس میں شریک افسران نے شرکت کی۔صدر آزاد کشمیر ڈاکٹر محمد نجیب خان نے کہا کہ سرکاری افسران اہم انتظامی اور فیصلہ سازی کے عہدوں پر فائز ہوتے ہیں، جہاں ان کے فیصلوں کے دور رس اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ ان کی ذمہ داریاں محض روزمرہ انتظامی امور کی انجام دہی تک محدود نہیں بلکہ انہیں ابھرتے ہوئے چیلنجز کی نشاندہی، مؤثر حکمت عملیوں کی تیاری اور دستیاب وسائل کے بہترین استعمال کے ذریعے عوامی مسائل کا حل یقینی بنانا ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر کے جغرافیائی حالات، پہاڑی خطہ، موسمیاتی حساسیت اور محدود مالی وسائل ترقیاتی عمل میں بیک وقت چیلنجز اور مواقع فراہم کرتے ہیں۔ ایسے حالات میں تعلیم اور صحت کی سہولیات تک رسائی بہتر بنانا، بنیادی ڈھانچے کو ترقی دینا، سیاحت کو فروغ دینا اور جنگلات سمیت قدرتی وسائل کا تحفظ یقینی بنانا ہماری اہم ترجیحات ہونی چاہئیں۔صدر آزاد جموں و کشمیر نے کہا کہ سرکاری اداروں میں کارکردگی اور نتائج کے حصول کے لیے مضبوط عزم ناگزیر ہے۔ عوامی خدمت کے نظام کو محض قواعد و ضوابط کی پابندی تک محدود رکھنے کے بجائے کارکردگی، جوابدہی اور مثبت نتائج کے حصول کی بنیاد پر استوار کرنا ہوگا۔ قواعد و ضوابط انتظامی نظام کے لیے ضروری حفاظتی اقدامات ہیں، تاہم ان کا مقصد عوامی خدمت کو آسان بنانا ہونا چاہیے، نہ کہ اس کی راہ میں رکاوٹیں پیدا کرنا۔انہوں نے مزید کہا کہ سینئر افسران کو دستیاب وسائل کے مؤثر استعمال، مالی و سماجی اثرات کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلے کرنے اور عوامی فلاح و بہبود کو اپنی ترجیحات میں سرفہرست رکھنے کی ضرورت ہے۔ صدر آزاد کشمیر نے اس امید کا اظہار کیا کہ سینئر مینجمنٹ کورس میں شرکت کرنے والے افسران اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں، قائدانہ مہارتوں اور انتظامی بصیرت میں مزید بہتری لا کر ریاستی اداروں کی کارکردگی اور گڈ گورننس کے فروغ میں مؤثر کردار ادا کریں گے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سیکرٹری سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن / ڈی جی چوہدری امتیاز احمد نے کہا کہ سرکاری اداروں کی کارکردگی بہتر بنانے، حکومتی پالیسیوں پر مؤثر عملدرآمد اور عوام کو معیاری خدمات کی فراہمی کے لیے افسران کی پیشہ ورانہ استعداد کار میں اضافہ ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ جدید دور کے انتظامی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے افسران میں قائدانہ صلاحیتوں، ادارہ جاتی نظم و نسق اور پیشہ ورانہ عزم کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ چوتھا مینجمنٹ کورس 16 ہفتوں پر مشتمل ایک جامع تربیتی پروگرام کے طور پر ترتیب دیا گیا ہے، جس کا مقصد افسران کی انتظامی، قائدانہ اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو نکھارنا اور انہیں مؤثر عوامی خدمت کی فراہمی کے لیے تیار کرنا ہے۔ کشمیر انسٹیٹیوٹ اف مینجمنٹ گورننس اور مینجمنٹ کے شعبوں میں ڈیجیٹل اختراع، استعدادکار میں اضافہ، اور تحقیق پر مبنی تعلیم کو فروغ دینے کے لیے اپنی کاوشیں جاری رکھے ہوئے ہے۔

سپیکر قانون ساز اسمبلی چوہدری طارق فاروق کی زیر صدارت آزادجموں وکشمیر قانو ن ساز اسمبلی کے اجلاس میں سابق وزیرا عظم و ممبر اسمبلی فیصل ممتاز راٹھور،اپوزیشن لیڈر و ممبر اسمبلی چوہدری محمد یاسین،ممبر اسمبلی چوہدری محمد اسماعیل،ممبر اسمبلی سید بازل علی نقوی،ممبر اسمبلی محترمہ سحرش قمر،ممبر اسمبلی چوہدری محمد رخسار،ممبر اسمبلی محترمہ فرزانہ یعقوب کی جانب سے قراردادیں پیش کیں گئیں۔جنہیں متفقہ طور منظور کر لیا گیا۔
سپیکر قانون ساز اسمبلی چوہدری طارق فاروق کی زیر صدارت آزادجموں وکشمیر قانو ن ساز اسمبلی کے اجلاس میں سابق وزیرا عظم و ممبر اسمبلی
