وزیراعظم آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر افتخار گیلانی نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے عوام گزشتہ 79 سال سے بھارتی جبر و استبداد کا سامنا کر رہے ہیں جہاں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں جاری ہیں۔

وزیراعظم آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر افتخار گیلانی نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے عوام گزشتہ 79 سال سے بھارتی جبر و استبداد کا سامنا کر رہے ہیں جہاں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں جاری ہیں۔ دنیا میں جانوروں کے بھی حقوق تسلیم کیے جاتے ہیں لیکن مقبوضہ کشمیر کے عوام کو بنیادی انسانی حقوق تک میسر نہیں۔ کشمیری عوام کی جدوجہد آزادی غیر متزلزل ہے انہیں اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حق خودارادیت ملنے تک یہ جدوجہد جاری رہے گی۔ پاکستان نے ہمیشہ کشمیریوں کے حق خودارادیت کی حمایت کی ہے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے مرکزی دفتر کے دورے کے موقع پر حریت کانفرنس کے کنوینر غلام محمد صفی اور دیگر حریت قائدین سے ملاقات اور بعد ازاں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیراعظم آزاد کشمیر کی حریت کانفرنس کے دفتر آمد پر کنوینر غلام محمد صفی نے حریت قیادت کے ہمراہ ان کا استقبال کیا۔ملاقات کے دوران مقبوضہ جموں و کشمیر کی تازہ ترین صورتحال پر تبادلہ خیال اور مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم، انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں، کشمیری رہنماؤں کی گرفتاریوں و نظربندی اور اظہارِ رائے پر عائد پابندیوں کی شدید مذمت کی گئی۔ وزیراعظم آزاد کشمیر نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی مسلسل پامالیوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عالمی برادری کی خاموشی کو افسوسناک قرار دیا۔وزیراعظم افتخار گیلانی نے کہا کہ گزشتہ 79 سال کے دوران مقبوضہ کشمیر میں ڈھائے جانے والے مظالم کی مثال انسانی تاریخ میں نہیں ملتی۔ بھارتی جبر و تشدد کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو کمزور نہیں کر سکا اور نہ ہی ان کی حق خودارادیت کی جدوجہد کو دبایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی فورمز پر مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے اور کشمیریوں کے حق خودارادیت کی حمایت کے لیے پاکستان کی کوششیں قابل تحسین ہیں۔انہوں نے حریت قیادت کو مسئلہ کشمیر کو زندہ رکھنے اور تحریک آزادی کشمیر کے لیے مسلسل جدوجہد کرنے پر خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ حکومت آزاد کشمیر اور حریت قیادت مل کر تحریک آزادی کشمیر کے حوالے سے اپنا بھرپور کردار ادا کریں گے۔ لائن آف کنٹرول کے دوسری جانب مقیم کشمیری عوام تک ایسا پیغام جانا چاہیے جس سے ان کے حوصلے بلند ہوں۔اس موقع پر حریت کانفرنس کے کنوینر غلام محمد صفی نے وزیراعظم آزاد کشمیر کے دورے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور آزاد کشمیر کی سیاسی قیادت کی حمایت حریت کانفرنس اور تحریک آزادی کشمیر کے لیے تقویت کا باعث ہے۔ انہوں نے عالمی برادری اور اقوام متحدہ پر زور دیا کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا نوٹس لیں اور کشمیری عوام کو ان کا تسلیم شدہ حق خودارادیت دلانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ملاقات کے اختتام پر جاری مشترکہ اعلامیے میں پانچ اگست 2019ء کے یکطرفہ بھارتی اقدامات اور ڈومیسائل و اراضی پالیسیوں کے ذریعے مقبوضہ کشمیر کی مسلم اکثریتی شناخت اور متنازعہ حیثیت تبدیل کرنے کی کوششوں کو ناقابل قبول قرار دیا گیا۔ اعلامیے میں مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل اور کشمیری عوام کے حق خودارادیت کے حصول کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔اس موقع پر شہدائے کشمیر و پاکستان، پاکستان کی سلامتی و استحکام اور تحریک آزادی کشمیر کی کامیابی کے لیے خصوصی دعا بھی کی گئی۔

Share This Post

More To Explore