وزیر اعظم آزاد کشمیر افتخار گیلانی نے کہا ہے کہ 13ویں ترمیم کے تحت حاصل اختیارات میں کمی نہیں ہو سکتی،ریاست کی حیثیت بدلنے سے متعلق جھوٹا پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے، 13ویں کے بعد 14ویں اور 15ویں ترامیم آئیں، یہ ارتقائی عمل ہے،عوامی مفاد میں کوئی بھی ترمیم اسمبلی کے فورم پر آئے گی،ابھی دو اضلاع کی اسمبلی میں نمائندگی بھی موجود نہیں،جھوٹے پروپیگنڈے کے ذریعے ریاست میں انتشار پھیلایا جا رہا ہے، مذاکرات کا مطلب من مانی نہیں بلکہ ایک دوسرے کی بات سننا ہے،وزیراعظم آزادکشمیر افتخار گیلانی نے AJK بار کونسل اور بار ایسوسی ایشنز کے عہدیداران سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قانون ارتقائی عمل ہے، عوامی فلاح و بہبود کے لیے ترامیم ہوتی ہیں، سب کو سوچنا ہوگا کہ ریاست کو آگے کیسے لے کر جانا ہے، وزیراعظم آزادکشمیر نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر بار کونسل کو مکانیت کیلئے جگہ فراہم کی جائیگی، وزیر اعظم آزاد کشمیر نے اس موقع پر لائرز پروٹیکشن ایکٹ آئندہ کابینہ میں پیش کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ بروقت انصاف کی فراہمی سے 90 فیصد مسائل حل ہو سکتے ہیں، عام شہری کا ریاست پر اعتماد بحال کرنا حکومت کی ترجیح ہے، وزیراعظم آزادکشمیر نے کہا کہ لاء کمیشن کو فعال بنانے کی ضرورت ہے،

سپیکر قانون ساز اسمبلی چوہدری طارق فاروق کی زیر صدارت آزادجموں وکشمیر قانو ن ساز اسمبلی کے اجلاس میں سابق وزیرا عظم و ممبر اسمبلی فیصل ممتاز راٹھور،اپوزیشن لیڈر و ممبر اسمبلی چوہدری محمد یاسین،ممبر اسمبلی چوہدری محمد اسماعیل،ممبر اسمبلی سید بازل علی نقوی،ممبر اسمبلی محترمہ سحرش قمر،ممبر اسمبلی چوہدری محمد رخسار،ممبر اسمبلی محترمہ فرزانہ یعقوب کی جانب سے قراردادیں پیش کیں گئیں۔جنہیں متفقہ طور منظور کر لیا گیا۔
سپیکر قانون ساز اسمبلی چوہدری طارق فاروق کی زیر صدارت آزادجموں وکشمیر قانو ن ساز اسمبلی کے اجلاس میں سابق وزیرا عظم و ممبر اسمبلی
