آزادحکومت ریاست جموں وکشمیر یوم آزادی کے موقع پر پریڈ گراؤنڈ مظفرآباد میں پروقار قومی تقریب کا انعقاد کیاگیا۔ تقریب کے مہمان خصوصی قائم مقام صدر آزادجموں وکشمیر چوہدری لطیف اکبر تھے ۔ تقریب میں وزیراعظم آزادحکومت ریاست جموں وکشمیر فیصل ممتازراٹھور، وزیر حکومت سید بازل علی نقوی ، چیف سیکرٹری خوشحال خان ، اعلیٰ سول و عسکری حکام ، سیاسی و سماجی رہنماء، طلبہ و طالبات ، وکلا ء، خواتین سمیت شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی ۔تقریب میں سائرن بجا کر ایک منٹ کی خاموشی اختیار کر کے شہداء کو خراج عقیدت پیش کیا گیا ۔ صدرریاست نے پرچم کشائی کی اور آزادجموں وکشمیر پولیس کی جانب سے سلامی پیش کی گئی ۔تقریب کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا ۔ تقریب میں گرلز گائیڈ اور بوائز اسکاوٹس نے ملی نغمے پیش کیے جنہیں شرکا ء نے بھرپور سراہا۔ تقریب سے قائم مقام صدر آزادجموں وکشمیر چوہدری لطیف اکبر نے خطاب کیا ۔ تقریب میں سیکرٹری اطلاعات محمد راشد حنیف نے سپاسنامہ پیش کیا ۔تقریب میں بانیان پاکستان ، شہدائے پاکستان اور شہدائے تحریک آزادی کشمیرکو خراج عقیدت پیش کیا گیا۔ یوم آزادی کی قومی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے قائم مقام صدر آزادجموں وکشمیر چوہدری لطیف اکبر نے کہا کہ آزادجموں وکشمیر کی عوام اور حکومت کی جانب سے حکومت پاکستان اور پاکستانی عوام کو دل کی اتھاہ گہرائیوں سے آزادی کی مبارکباد پیش کرتا ہوں ۔ اللہ سے دعا گو ہوں کہ وہ پاکستان کو ہمیشہ مضبوط، مستحکم پرامن اور خوشحال رکھے اور امن ترقی اور خوشحالی سے نوازے ۔ پاکستان اور کشمیرصدیوں پرانے رشتے میں بندھے ہوئے ہیں ۔ ہمارا تعلق محظ جغرافیائی قربتوں تک محدود نہیں بلکہ مشترکہ تاریخ ، ثقافت ، مذہب اورروایات سے عبارت ہے ۔ اسی گہرے رشتے کی عکاسی 19 جولائی 1947 کو کشمیری قیادت کے اس تاریخی فیصلے سے بھی ہوتی ہے جب آل جموں وکشمیر مسلم کانفرنس نے غازی ملت سردار محمد ابراہیم خان کی رہاءش گاہ پر ریاست جموں وکشمیر کے پاکستان کیساتھ الحاق کی قرارداد منظور کی ۔ یہ فیصلہ پاکستان کے آزاد ملک کی حیثیت سے وجود میں آنے سے پہلے ہی کشمیری عوام کی امنگوں اور خواہشات کا واضح اظہار ہے ۔ بدقسمتی سے برطانوی سامراجی حکمرانوں ، بھارتی قیادت کی سازشوں اور ریشہ دوانیوں نے اس تاریخی فیصلے کو عملی جامہ نہیں پہننے دیا۔ اس کے بعد پیش آنے والے واقعات نے ایسے سنگین المیے کو جنم دیا جس کے اثرات آج بھی اس خطے کو اپنی لپیٹ میں لیے ہوئے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ تقریبا آٹھ دھائیوں سے حل طلب تنازعہ کشمیر آج جنوبی ایشیا کو دنیا کے خطرناک ترین جوہری فلش پوائنٹ پر شامل کر چکا ہے ۔ جموں وکشمیر کی عوام ایسے تنازعے کے مضمرات بھگت رہے ہیں جن کا منصفانہ اورپرامن حل خطے میں پائیدار امن و استحکام کے لیے ناگزیر ہے تاہم کشمیری عوام نے اپنے بنیادی حقوق سے محرومی کو کبھی قبول نہیں کیا۔ انہیںاقوام متحدہ کے منشور سلامتی کونسل کی قرارداوں کی روشنی میں حق خودارادیت کے حصول کیلئے اپنی جائز جدوجہد جاری رکھی۔ اس طویل جدوجہد کے دوران کشمیریوں کی کئی نسلوں نے بے مثال قربانیاں دیں ۔ مردوں، عورتوں اور بچوں نے جانوں کے نذرانے پیش کیے۔ قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں، ہجرت پر مجبور ہوئے، بے شمار مسائل جھیلے ۔ سید علی گیلانی اور برہان وانی جیسے رہنما مزاحمت اور قربانی کی علامت بن گئے ۔انہوں نے کہاکہ شبیر شاہ ، یاسین ملک اور آسیہ اندرابی سمیت کئی کشمیری آج بھارت کی جیلوں میں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کررہے ہیں ۔ یہ جبر صرف سیاسی رہنماوں تک محدود نہیں بلکہ صحافیوں ، انسانی حقوق کے علمبرداروں ، طلباء ، اساتذہ ، تاجروں سمیت معاشرے کے مختلف طبقات کو بھی اپنی آواز بلند کرنے اوراپنے حقوق کے لیے بات کرنے پر دھمکیوں ، گرفتاریوں ، پابندیوں اور دیگر ہتھکنڈوں کا سامنا کرنا پڑا۔ سول سوسائٹی اور آزادآوازوں کو دبانے کی کوششوں نے مقبوضہ جموں وکشمیر میں اختلاف رائے کے لیے موجود گنجائش کو مزید محدود کیا، لیکن تمام تر ظلم و ستم اور مسائل کے باوجود کشمیری عوام کی پاکستان سے محبت میں ذرہ بھر کمی نہیں آئی ۔ اس جذبے کی گہرائی کا اندازہ اس سے کیا جاسکتا ہے کہ بے شمار کشمیریوں نے اپنی وصیتوں میں اس خواہش کا اظہار کیا کہ ان کے جسد خاکی کو پاکستان کے سبز ہلالی پرچم میں لپیٹا جائے ۔ یہ جذبہ سیاسی اور جذباتی رشتوں کی گہرائی کا عکاس ہے جو دھائیو ں کے ظلم و ستم کے باوجود آج بھی دائم اور قائم ہے ۔ چوہدری لطیف اکبرنے کہاکہ ہم آزادجموں وکشمیر کے عوام کشمیری عوام کے ساتھ ڈٹ کر کھڑے رہنے پر پاکستان کے بے حد ممنون ہیں ۔ پاکستان نے عالمی فورمز پر ہمیشہ مسئلہ کشمیر کو بھرپور انداز میں اجاگر کیا ،اور اقوام متحدہ کی قراردادوں پر مسلسل عملدرآمد کا مطالبہ کیا ۔ پاکستان نے ہمیشہ مشکل ترین حالات میں بھی کشمیری عوام کا ساتھ دیا اور تنازعہ کشمیر کے حوالہ سے اپنے موقف کے دفاع کے لیے جنگ لڑی۔ انہوں نے کہاکہ کشمیری عوام پاکستان کی قربانیوں کو قدر اور احترام کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور پاکستان کی بے لوث حمایت کو کبھی فراموش نہیں کر سکتے ۔ انہوں نے کہاکہ گزشتہ سال مئی 2025 میں ایک بار پھر پاکستان نے مضبوط قومی اتحاد اور دفاعی تیاری کی اہمیت کو اجاگر کیا ۔بھارت کے ساتھ فوجی محاذآرائی کے دوران پاکستان نے اپنی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کا بھرپور مظاہرہ کیا، اس پر میں فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر کو بھی مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ میں اس موقع پر پاکستان کی سیاسی قیادت وزیراعظم محمد شہباز شریف، بلاول بھٹو زرداری کو بھی خراج تحسین پیش کرتا ہوں کہ انکی قیادت میں سفارتی محاذ پر پاکستان نے جو کامیابیاں سمیٹی ہیں وہ یقینی طور پر قابل ستائش ہیں ۔ ان کامیابیوں سے پاکستان کے وقار اور مقام میں اضافہ ہوا ہے ۔قائمقام صدرنے کہاکہ آج پاکستان خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے اپنا بھرپور کردارادا کررہا ہے ۔ معرکہ حق کے بعد پاکستان کی اہمیت کو محسوس کیاگیا ، دنیابھرباالخصوص سعودیہ عرب ، مشرق وسطیٰ میں یہ محسوس کیا گیاکہ انکی محافظ بھی پاکستانی قوم ہی ہوسکتی ہے ، مکہ باہمی دفاعی معاہدہ اسکی ایک کڑی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ آزادی اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم نعمت اور انعام ہے اسکی قدر کرنا ہر شہری کا فرض ہے ، آزادی حاصل کرنے کے لیے جہاں قوموں کوبے شمار قربانیاں دینا پڑتی ہیں وہیں اسے عزت ، وقار ،استحکام اور ذمہ داری کے ساتھ برقرار رکھنا بھی مسلسل قربانی ، محنت اور جدوجہد کا تقاضا کرتا ہے ۔انہوں نے کہاکہ ہمارے نوجوان اس ملک کا سب سے قیمتی سرمایہ اور مستقبل کے معمار ہیں ، میں ان سے اپیل کرتا ہوں کہ آزادی کی قدرو منزلت کو سمجھیں ، اپنے وقت ، توانائی اور صلاحیتوں کو تعلیم ، تحقیق ، ہنر ، خدمت خلق اور دیگر تعمیری سرگرمیوں کے لیے وقف کریں ۔ اپنی محنت سے معاشرے ، قوم اور ملک کی ترقی میں بھرپور کردارادا کریں ۔ انہوں نے کہاکہ آل پارٹیز حریت کانفرنس کو آزادکشمیر کی جملہ سیاسی جماعتوں نے متفقہ طورپر اپنا نمائندہ مقرر کیا ہے یہ جو بھی فیصلہ کریں گے ہم انکے ساتھ ہیں ، حریت کانفرنس کو اس بات کا یقین دلاتاہوں کہ آزادکشمیر کی جو بھی حکومت ہوگی اور سیاسی جماعتیں آپ کے ساتھ ہیں ۔ مہاجرین مقیم پاکستان اور مہاجرین 89 کو یقین دلاتاہوں کہ حکومت پاکستان اور آزادکشمیر کے عوام انکے ساتھ کھڑے ہیں اورانکی مشکلات کااحساس ہے ۔ قائم مقام صدر آزادجموں وکشمیر نے جشن یوم آزادی کے موقع پرایل اوسی کے دوسری جانب کشمیریوں کیلئے خصوصی طورپر کشمیری زبان میں بھی خطاب کیا۔ انہوں نے ملی نغمہ پیش کرنیوالے طلبہ و طالبات اور انکے اساتذہ کو بھی داد دی۔

سپیکر قانون ساز اسمبلی چوہدری طارق فاروق کی زیر صدارت آزادجموں وکشمیر قانو ن ساز اسمبلی کے اجلاس میں سابق وزیرا عظم و ممبر اسمبلی فیصل ممتاز راٹھور،اپوزیشن لیڈر و ممبر اسمبلی چوہدری محمد یاسین،ممبر اسمبلی چوہدری محمد اسماعیل،ممبر اسمبلی سید بازل علی نقوی،ممبر اسمبلی محترمہ سحرش قمر،ممبر اسمبلی چوہدری محمد رخسار،ممبر اسمبلی محترمہ فرزانہ یعقوب کی جانب سے قراردادیں پیش کیں گئیں۔جنہیں متفقہ طور منظور کر لیا گیا۔
سپیکر قانون ساز اسمبلی چوہدری طارق فاروق کی زیر صدارت آزادجموں وکشمیر قانو ن ساز اسمبلی کے اجلاس میں سابق وزیرا عظم و ممبر اسمبلی
