سپیکر اسمبلی چوہدری لطیف اکبر کی زیر صدارت جمعرات کے روز قانون ساز اسمبلی کا اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس کے آغاز میں ممبر اسمبلی نثار انصر ابدالی کی بیٹی، سابق محتسب مرزا ظفر حسین ایڈووکیٹ کی وفات پر ایصال ثواب کیلئے فاتحہ خوانی کی گئی۔ ایوان میں سابق وزیر اعظم آزادکشمیر و ممبر اسمبلی راجہ فاروق حیدر خان کی تحریک پر مقبوضہ کشمیر میں حال ہی میں وفات پانے والے راجہ اظہار مرحوم کے صاحبزادے راجہ لیاقت علی مرحوم کے ایصال ثواب کیلئے بھی فاتحہ خوانی کی گئی۔ سپیکر اسمبلی چوہدری لطیف اکبر نے ممبران اسمبلی شاہ غلام قادر، سردار محمد یعقوب اور محترمہ تقدیس گیلانی پر مشتمل پینل آف چئیرمین کا اعلان کیا۔ سابق وزیر اعظم وممبر اسمبلی سردار عبدالقیوم نیازی نے ممبر اسمبلی دیوان غلام محی الدین کی پنجاب میں گرفتاری پر پوائنٹ آف آرڈر پر گفتگو کرتے ہوئے معاملہ اٹھایا جس پر سپیکر اسمبلی چوہدری لطیف اکبر نے رولنگ دیتے ہوئے پنجاب میں گرفتاری کی وجوہات کیلئے حکومت پنجاب کو مکتوب لکھنے کی ہدایت کی۔
مظفرآباد(پی آئی ڈی) 04جون 2026
قائد حزب اختلاف و صدر مسلم لیگ ن آزاد کشمیر شاہ غلام قادر نے سپیکر اسمبلی چوہدری لطیف اکبر کی زیر صدارت قانون ساز اسمبلی کے اجلاس کے دوران وزیر قانون میاں عبدالوحید ایڈووکیٹ، وزراء حکومت چوہدری قاسم مجید، سردار جاوید ایوب، سردارضیاء القمر، محترمہ نبیلہ ایوب کی جانب سے پیش کردہ قرارداد پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ یہ معاملہ انتہائی حساس ہے جس پر ہمیں ذمہ داری کے ساتھ گفتگو کرنی چاہئے کیونکہ یہ ہماری ریاست کے مستقبل کا سوال ہے، ہمارے آئین کا سوال ہے اسلئے ہمیں سوچ سمجھ کر آگے بڑھنا ہے، آج کی یہ قرارداد تمام سیاسی جماعتوں کے اتفاق رائے سے پیش کی گئی ہے، آج ہمیں یہ سیاسی طور پر یہ فیصلہ کرنا ہے کہ ہماری ریاست کے خدوخال کیا ہونے چاہئے، یہ نظام ہمیں ہمارے آباء و اجداد اور مہاجرین جموں وکشمیر کی قربانیوں سے حاصل ہوا ہے، جب ہم معترضین سے پوچھتے ہیں کہ مہاجرین نشستوں کے خاتمے کے بعد آزاد کشمیر کے خدوخال کیا ہوں گے تو ان کے پاس اس کا جواب موجود نہیں ہے، ہم نے طے کرنا ہے کہ ہمیں ریاست کے طور پر رہنا ہے یا لوکل اتھارٹی کے طور پر ، جب تک مسئلہ کشمیر حل نہیں ہوتا ہمیں مہاجرین کو اپنے ساتھ لے کر چلنا ہوگا، انہوں نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ ن کا موقف واضح ہے کہ مہاجرین مقیم پاکستان کے ووٹ کا حق قائم رہنا چاہئے، اگر کسی کو ان کے آئینی حق پر اعتراض ہے تو ان کو الیکشن لڑ کر قانون سازی کرنی ہو گی۔ آزاد کشمیر کا یہ خطہ کسی صورت افراتفری کا متحمل نہیں ہو سکتا، آزاد کشمیر کی سیاسی جماعتیں بروقت انتخابات پر متفق ہیں جو میرے لئے خوشی کا باعث ہے، اللہ تعالی ہمیں اس نظام کو بہتر کرنے کی توفیق دے۔ ممبر اسمبلی وصدر پاکستان پیپلز پارٹی آزاد کشمیر چوہدری محمد یاسین نے قرارداد پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ہر مسئلے کا حل صرف مذاکرات میں ہے، ریاست کے قیام میں ہمارے آباء و اجداد، مہاجرین جموں وکشمیر کی لازوال قربانیاں شامل ہیں، مہاجرین نشستوں کے خاتمے کا ہمیں سوچنا بھی نہیں چاہئے، یہ خطہ حساس خطہ ہے ایسے میں جب ملک میں دہشت گردی کے واقعات رونما ہو رہے ہیں ریاست افراتفری کی متحمل نہیں ہو سکتی،پاکستان پیپلز پارٹی آل پارٹیز کانفرنس کے اعلامیے کے ساتھ ہے، تنازعے کو ختم کرنے کیلئے راستے موجود ہیں، مہاجرین مقیم پاکستان کو متناسب نمائندگی یا الیکٹورل کالج کے قیام پر بھی غور کیا جا سکتا ہے، ریاست میں کسی بھی قیمت پر ناخوشگوار واقعات کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ ممبر اسمبلی و سابق وزیراعظم ازاد کشمیر راجہ محمد فاروق حیدر خان نے قرارداد پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ مہاجرین جموں و کشمیر کے حق کے نمائندگی کو ختم کرنا ہندوستان کے بیانیے کو تقویت دینے کے مترادف ہے ایک طرف ہندوستان ریاست کی ڈیموگرافی تبدیل کرتے ہوئے لاکھوں غیر ریاستی باشندوں کو مقبوضہ کشمیر میں اباد کر رہا ہے تو دوسری جانب کیا ہم 40 لاکھ مہاجرین کو کیسے ریاستی ڈھانچے سے خارج کر سکتے ہیں مہاجرین کی نمائندگی اج سے نہیں جب سے یہ ازاد حکومت ریاست جموں و کشمیر قائم ہوئی اس وقت سے چلی ا رہی ہے 1961 کے انتخابات میں 3200 میں سے 16 نشستیں مہاجرین کی تھیں ریاست جموں کشمیر کے تین یونٹ ازاد کشمیر وادی اور جموں کسی ایک یونٹ کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ دیگر دو یونٹ ٹو کے حق نمائندگی کو ختم کر دے بالواسطہ یا متناسب نمائندگی کے تحت مہاجرین کی نمائندگی کا تصور ناقابل عمل ہے جب ان کو ووٹ کا حق بھی نہیں ہوگا ارڈر وا اور ووٹر فہرستوں میں ان کا نام شامل نہیں ہوگا تو وہ کیسے مخصوص نشستوں پر نمائندگی کے دعوی دار بن سکتے ہیں میرے نقطہ نظر میں ازاد کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کو یہ اختیار نہیں کہ وہ ریاست کی کسی بھی حصے کی نمائندگی کے حوالے سے فیصلہ کریں مقبوضہ کشمیر کی اسمبلی نے جب الحاق ہندوستان کی قرارداد پاس کی تو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے اس کو مسترد کرتے ہوئے واشگاف الفاظ میں یہ قرار دیا کہ کسی ریاستی اسمبلی کو یہ اختیار نہیں کہ وہ کشمیریوں کے مستقبل کا فیصلہ کریں کشمیر کی ابادی 10 کروڑ تو نہیں ڈیڑھ کروڑ میں سے 40 لاکھ کو مائنس کر کے اپ کیا کرنا چاہتے ہیں ایسا کرنا پاکستان کے سلامتی کونسل میں اپنائے گئے موقف سے انحراف ہوگا کشمیر کونسل استعماری ادارہ سمجھ نہیں اتی اج تک پیپلز پارٹی تیرہویں ترمیم کی کیوں مخالفت کر رہی ہے ہمیں وہ وقت یاد رکھنا چاہیے جب ازاد کشمیر کا صدر اور وہ بھی کے ایچ کیچ خورشید مرحوم جیسا شخص بی دو سرکاری ملازموں کی مدت ملازمت میں توسیح نہیں کر سکا میرے والد راجہ محمد حیدر خان اور سردار عبدالقیوم خان ایک 1964 کے حوالے سے چیف ایڈوائزر سے ملاقات کرنے شہزادہ کوٹھی کے اس وقت شہزادہ کو ٹھیک کی جو حیثیت تھی اس کو کچھ لوگ بخوبی جانتے ہیں جب ازاد کشمیر کا ایک 1974 تیار ہو رہا تھا اور وفاقی وزیر قانون عبدالحفیظ پیرزادہ 30 سربراہی میں اجلاس جاری تھا تو اس وقت جب انہوں نے کہا کہ اس کا نام حکومت ازاد کشمیر یا ازاد کشمیر ہوگا تو اس پر کہ ایچ خورشید نے واک اؤٹ کیا ان کا موقف یہ تھا کہ اس کا نام ازاد حکومت ریاست جموں و کشمیر رکھا جائے بعد ازاں سردار عبدالقیوم خان ان کو منانے کے وہ بھی واپس نہیں ائے پھر کافی دیر بعد یہ فیصلہ ہوا کہ اس کا نام ازاد حکومت ریاست جموں و کشمیر ہوگا مہاجرین کی قربانیاں بھولی نہیں بھلائی نہیں جا سکتی جب جموں میں دو لاکھ 38 ہزار جس کی تصدیق بین الاقوامی میڈیا نے بھی کی کہ اتنے لوگوں کو طاقتل عام کیا گیا ان کے خون سے سیالکوٹ کی گلیاں سرخ ہو گئیں ان لوگوں کو کیسے اس ریاست سے الگ کیا جا سکتا ہے میں بخوبی اس بات کو سمجھ سکتا ہوں کہ وطن سے جبری بے دخل کیے جانے کا دکھ کیا ہوتا ہے ہم نے تیرہویں ترمیم میں منگل ڈیم بناتے وقت جو لوگ جبری بے دخل کیے گئے تھے ان کے بھی باشندہ ریاست کے حق کو تحفظ دیا ہے پیپلز پارٹی کے بانی نے کشمیر کے لیے ایک ہزار سال تک جنگ لڑنے کا اعلان کیا اج ان کی جماعت ان کے بیانیے سے منہ نہ موڑے میں نے کبھی اٹا سستی بجلی پر سبسڈی ختم کرنے کی بات نہیں کی بلکہ میں نے یہی کہا کہ ان مطالبات پر عمل درامد ہو گیا ہے اب جو ائینی معاملات ہیں ان کو دیکھنے کے لیے ایک طریقہ کار ہے جو ائین میں درج ہے راجہ محمد فاروق حیدر خان قانون ساز اسمبلی میں مہاجرین نشستوں کے حوالے سے لائی جانے والی قرارداد پر اظہار خیال کرتے ہوئے کر رہے تھے انہوں نے کہا کہ یہ سیاسی جماعتوں کی ذمہ داری ہے کہ مہاجرین نشستوں پر سوچ سمجھ کر اپنے امیدواروں کا انتخاب کریں جو ان کی نیک نامی کا باعث بنے اگر کوئی نمائندہ غلط ہے تو اس کا قطعی طور پہ یہ مطلب نہیں کہ اس کے حلقے کے عوام کا حق نمائندگی ہی ختم کر دیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت نہ تو سردار عبدالقیوم خان موجود ہیں نہ سردار ابراہیم خان نہ ہی سردار سکندر حیات خان اس وقت اپ لوگوں کو اور ہمیں یہ ذمہ داری اٹھانی ہوگی کہ کس طرح سے ہم نظریہ الحاق پاکستان کا تحفظ کر سکتے ہیں اور تحریک ازادی کشمیر کے حوالے سے اپنی قومی ذمہ داریاں ادا کریں یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ جو ہم نے اگے والی انے والی نسلوں تک منتقل کرنی ہے بدقسمتی سے پاکستان میں پی ٹی ائی نے جو گالم گلوچ برگیڈ تشکیل دیا اس کے اثرات ازاد کشمیر تک پہنچ ائے ہیں جس سے ہمارا باہمی اخوت مفاہمت اور رواداری کی شاندار روایات کا حمل معاشرہ بری طرح متاثر ہو گیا ہے سوشل میڈیا پر گالم گلوچ کرنے والوں کو جواب دینا جانتے ہیں راجہ محمد فاروق حیدر خان نے کہا کہ ساری سیاسی زندگی کا ایک ہی دانت ہے کہ گزشتہ ہائبرڈ نظام کو لانے کے لیے ووٹ دیا جس کا دکھ ساری عمر رہے گا مقبوضہ کشمیر کے لوگوں نے تحریک ازادی کشمیر کے لیے قربانیوں کی لازوال داستانیں رقم کی ہیں مگر انہوں نے استصواب رائے اور پاکستان کے ساتھ اپنی وابستگی کو کبھی کم نہیں ہونے دیا نہ ہی مادی وسائل اس پر اثر انداز ہوئے مہاجرین جموں و کشمیر ریاست کے شہری ہیں اور جبری طور پر بے دخل شدہ باشندے ہیں جب تک پوری ریاست کے مستقبل کا فیصلہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت نہیں ہو جاتا تب تک وہ باشندہ ریاست رہیں گے اور ازاد حکومت ریاست جموں و کشمیر جو پوری ریاست کی نمائندہ حکومت ہے جس کے ائین میں یہ لکھا ہے کہ جو بھی باشندہ ریاست دنیا میں جہاں کہیں بھی مقیم ہے یہ ان کی نمائندہ حکومت ہے کوئی اس کو ختم نہیں کر سکتا۔وزیر کشمیر کازماحولیات نبیلہ ایوب نے قرارداد پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ مہاجرین جموں و کشمیر کی سیاسی و تاریخی حیثیت ہے ۔کشمیر کا فیصلہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ہوگا ۔ مہاجرین مقیم پاکستان نے اپنے خون کا نذرانہ دے کر خطہ کشمیر کو سیراب کیا۔پاکستان پیپلز پارٹی کی بنیاد مسلہ کشمیر پر رکھی گئی تھی ۔مہاجرین کی حیثیت سے انکار کی کوںٔی گنجائش نہیں ۔ آںٔین کو بنانے کا مینڈیٹ قانون ساز اسمبلی کو ہے اس میں کمی بیشی بھی ممبران قانون ساز اسمبلی ہی کرسکتے ہیں۔ممبر آزاد کشمیر قانون ساز حافظ حامد رضا نے کہا ہے کہ ایوان میں اراکین کی جانب سے پیش کردہ قرارداد کی حمایت کرتا ہوں ۔ایوان میں مہاجرین جموں و کشمیر کی نمائندگی کو ایک تاریخی اور قانونی حیثیت حاصل ہے جسے ختم نہیں کیا سکتا ۔مہاجرین نے تحریک آزادی کشمیر کے لیے ۔بڑی قربانیاں دی ہیں ،میرے سمیت تمام مہاجرین ممبران اسمبلی نے تحریک آزادی کشمیر کےلیے اپنا گھر بار چھوڑا ،پورے کے پورے خاندان شہید ہوئے ۔ انھوں نے کہا کہ جب سے آزاد کشمیر میں حکومتیں قائم ہوئیں تو برابری کی سطح پر مہاجرین کو نمائندگی ملتی رہی ہے ۔انھوں نے کہا کہ شہدائے جموں و کشمیر کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں ،پاکستان اس وقت تک نامکمل ہے جب تک مقبوضہ کشمیر کو آزادی نہیں ملتی اور اسکا الحاق پاکستان سے کے ساتھ نہیں ہوتا۔انھوں نے کہا کہ مہاجرین کے فنڈز کے حوالے سے سوال کیا جاتا ہے میں اپنے فنڈز کا حساب دینے کو تیار ہوں باقی ممبران کو اپنے اپنے فنڈز کا حساب دینا چاہیے ۔ انھوں نے کہا کہ میں آزادانہ ،منصفانہ اور صاف و شفاف انتخابات کی تائید کرتا ہوں ۔ممبر اسمبلی احمد رضا قادری نے قرارداد پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ایوان میں پیش کردہ قرارداد کی مکمل حمایت کرتا ہوں ۔ تیرہویں ترمیم سے قبل میں مہاجرین ممبران اسمبلی کو آرٹیکل 22 میں قانونی حیثیت حاصل تھی ۔24 اکتوبر 1947 میں جب آزاد حکومت قائم ہوئی تب بھی مہاجرین کی نمائندگی تھی اور آزاد کشمیر سے صرف دو وزراء تھے باقی مہاجرین وزراء تھے ۔ اسی طرح بعد کی حکومتوں میں میں بھی مہاجرین وزراء کی نمائندگی تھی ۔ مہاجرین ممبران سے ووٹ کا حق نہیں لیا جاسکتا ۔آزاد کشمیر کے ممبران انھیں منتخب نہیں کرسکتے انھوں نے کہا کہ ہم اپنی مرضی سے پاکستان میں نہیں آباد ہوئے بلکہ آزاد کشمیر میں وسائل کی کمی کی وجہ سے ہمیں پاکستان میں آباد کیا گیا۔کوںٔی بھی مہاجرین سے انکا ووٹ کا حق نہیں چھین سکتا اور نہ یہ نشستیں ختم کی جاسکتی ہیں۔ ممبر اسمبلی عبدالماجد خان نے کہا ہے کہ وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر کے شکر گزار ہیں کہ پہلی بار بطور مہاجر ایم ایل اے پی سی میں بات کرنے کا موقع ملا جس پر اس قرارداد کی حمایت کرتا ہوں ۔یہ سلسلہ مہاجرین مقیم پاکستان کی 12 سیٹوں پر ختم نہیں ہوگا آگے بھی بعد کچھ ہوگا ۔ مہاجرین مقیم پاکستان کے حق نمائندگی کو ختم نہیں کیا جاسکتا ۔ تحریک آزادی کیلئے مہاجرین کی قربانیوں کو نظر انداز کردیا گیا ہے ۔ مقبوضہ کشمیر میں آبادی کے تناسب کو تبدیل کرکے بھارت راںٔے شماری کروا کر اسے اپنے ساتھ شامل کرنے کی سازش کررہا ہے۔
مظفرآباد(پی آئی ڈی) 04 جون 2026
وزیر قانون، انصاف وپارلیمانی امور میاں عبدالوحید ایڈووکیٹ نے سپیکر اسمبلی چوہدری لطیف اکبر کی زیر صدارت قانون ساز اسمبلی کے اجلاس کے دوران قرارداد پر اظہار خیال کرتے ہوئےکہا کہ مہاجرین نشستوں کے مستقبل کے حوالے سے میری سربراہی میں کمیٹی نے مہاجرین مقیم پاکستان کی 12 نشستوں کا آئینی اور قانونی اعتبار سے تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ کمیٹی کے پہلے اجلاس میں عوامی ایکشن کمیٹی نے مہاجرین ممبران اسمبلی کی کمیٹیوں میں شمولیت پر اعتراض کیا جس پر ہم نے موقف رکھا کہ معاہدہ وفاقی حکومت، حکومت آزاد کشمیر اور عوامی ایکشن کمیٹی کے مابین ہوا ہے جبکہ کمیٹیوں کا قیام قانون ساز اسمبلی کے دائرہ اختیار میں آتا ہے جہاں قواعد انضباط کار کے تحت کمیٹیوں کی تشکیل عمل میں لائی جاتی ہے جبکہ مہاجرین نشستوں کے خاتمے کا اختیار حکومت کے پاس نہیں قانون ساز اسمبلی کے پاس ہے، حکومت نےمسئلے کے حل کیلئے آل پارٹیز کانفرنس کا انعقاد کیا جس میں کثرت رائے سے مہاجرین نشستوں کا معاملہ قانون ساز اسمبلی کے اختیار میں دیا گیا۔ پاکستان پیپلز پارٹی اختلاف کے باوجود اکثریتی رائے کے ساتھ کھڑی ہے اور قرارداد کی حمایت کرتی ہے، مہاجرین جموں وکشمیر کو کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، ان کو نمائندگی ملنی چاہئے۔
مظفرآباد(پی آئی ڈی) 04جون 2026
وزیر خزانہ و ان لینڈ ریونیو چوہدری قاسم مجید نے کہا کہ
اکتوبر 2025 کو مظفرآباد میں وفاقی حکومت، حکومت آزاد کشمیر اور عوامی ایکشن کمیٹی کے مابین کئے گئے معاہدے پر عملدرآمد کیلئے وزیراعظم آزادکشمیر فیصل ممتاز راٹھور کی قیادت میں حکومت نے عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ کئے گئے معاہدے پر عملدرآمد کیلئے برق رفتاری سے کام کیا، نہ صرف حکومت بلکہ اپوزیشن نے بھی معاہدے پر عملدرآمد کے لئے بھرپور تعاون کیا جس پر ہم ان کے شکر گزار ہیں، مہاجرین نشستوں کے خاتمے کا اختیار حکومت کے پاس نہیں تاہم وزیراعظم نے مسئلے کے حل کیلئے آل پارٹیز کانفرنس بلائی جس کے اعلامیے کی روشنی میں مسئلے کا حل نکالا جائے گا، ان خیالات کا اظہاروزیر خزانہ و ان لینڈ ریونیو چوہدری قاسم مجید نے سپیکر اسمبلی چوہدری لطیف اکبر کی زیر صدارت قانون ساز اسمبلی کے اجلاس میں وزیر قانون میاں عبدالوحید ایڈووکیٹ، وزیر جنگلات سردار جاوید ایوب، وزیر مواصلات سردار ضیاء القمر اور وزیر کشمیر کاز محترمہ نبیلہ ایوب کی جانب سے پیش کردہ قرارداد پر اظہار خیال کرتے ہوئے کیا۔ وزیراعظم خزانہ و ان لینڈ ریونیو چوہدری قاسم مجید نے عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ کئے گئے معاہدے پر عملدرآمد پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ
معاہدے کے37 نکات جن کا تعلق آزاد کشمیر حکومت سے تھا پر عملدرآمد مکمل ہو گیا ہے، موجودہ حکومت نے پہلی فرصت میں کابینہ کا حجم کم کر کے مطالبے پر عملدرآمد کیا۔ کشیدہ حالات کے دوران کی گئی 177 ایف آئی آرز واپس لی گئی جبکہ ورثاء کو معاوضہ جات کی ادائیگی سمیت مطلوبہ تقرریاں عمل میں لائی گئی، اسی طرح ٹیکسز میں رعایت دی گئی، حکومت نے عوامی ایکشن کمیٹی کے مطالبے پر اوپن میرٹ کا نفاذ بھی عمل میں لایا، مطالبات میں موجود پولں کی تعمیر پر تیزی سے کام ہو رہا ہے، بینک آف آزاد جموں وکشمیر کو شیڈول بنانے کیلئے حکومت نے 10 ارب روپے کی ایکویٹی فراہم کی اور سٹیٹ بینک کو بینک آف آزاد جموں وکشمیر کو شیڈول بنانے کیلئے درخواست دے دی ہے انشاءاللہ جلد بینک آف آزاد جموں وکشمیر شیڈول بینک بنانے جائے گا، اسی طرح حکومت نے احتساب ایکٹ کے مطالبے پر بھی کام کیا ہے، بجلی کے میٹر سمیت دیگر اشیاء کی ای ٹینڈرنگ کے ذریعے خریداری کے مطالبے پر بھی کام ہو رہا ہے، عوامی ایکشن کمیٹی کے آزاد کشمیر کے 10 اضلاع میں واٹر سپلائی سکیم کے مطالبے کو بھی حکومت نے پورا کیا ہے، آزاد کشمیر کے ہسپتالوں میں ایم آر آئی سمیت دیگر مشینری کی انسٹالیشن کیلئے وفاقی حکومت نے فنڈز فراہم کر دئے ہیں، عوامی ایکشن کمیٹی کے مطالبے پر وفاقی حکومت نے 10 ارب روپے فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے جس کیلئے سمری متعلقہ فورم کو ارسال کر دی ہے، عوامی ایکشن کمیٹی کے مطالبے پر آزاد کشمیر میں نئے تعلیمی بورڈز کا قیام عمل میں لایا گیا ہے، ڈڈیال مینڈر کالونی کے رہائشیوں کو خالصہ اراضی کے مالکانہ حقوق کیلئے کابینہ نے منظوری دے دی ہے، منگلا ڈیم کے متاثرین کے بجلی بلات کو معاف کر دیا گیا ہے، معیاری آٹے کی فراہمی کیلئے بھی اقدامات اٹھائے گئے ہیں، آزاد کشمیر کے عوام کے لئے صحت کارڈ کا اجراء کیا گیا، حکومت نے کشمیر کالونی ڈڈیال کو بجلی اور پانی کی فراہمی یقینی بنائی ہے، اسی طرح سے عوامی ایکشن کمیٹی کے مطالبے پر آزاد پتن روڈ کی این ایچ اے سے فیزیبیلٹی سٹڈی کرا دی ہے جس کے بعد شاندار سڑک تعمیر کا جلد آغاز ہو جائے گا، سٹوڈنٹس یونین کی بحالی پر کام کر رہے ہیں، مہاجریں کی 12 نشستوں کے خاتمے کا اختیار حکومت کے پاس نہیں ہے، اس سے متعلق کمیٹی بنی ہے جس پر وزیرقانون،انصاف وپارلیمانی امور کی سربراہی میں کمیٹی نے سفارشات مرتب کی تھیں جس کے نتیجے میں آل پارٹیز کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ حکومت نے معاہدے پر عملدرآمد کے لئے نیک نیتی سے کام کیا۔ کچھ نکات پر عملدرآمد کیلئے فنڈز کی عدم دستیابی حائل رہی فنڈز دستیاب ہوتے ہی ان پر عملدرآمد ہو جائے گا،

