محترمہ نبیلہ ایواب خان وزیربرائے وزیر کشمیر کاز، آرٹس و کلچرکی جانب سے پیش کردہ قرارداد میں کہاگیاکہ یہ ایوان اس امر کا اعادہ کرتا ہے کہ بھارتی افواج کی طرف سے معصوم شہریوں کو نشانہ بنانا ایک قابلِ مذمت عمل ہے اور دستیاب شواہد، حالات و واقعات اور ماضی کے تجربات کو مدنظر رکھتے ہوئے 22 اپریل 2025 پہلگام واقعہ کو ایک منظم ”فالس فلیگ آپریشن“ قرار دیتا ہے، جسے بھارت نے اپنے مذموم سیاسی و فوجی مقاصد کے حصول کے لیے ترتیب دیا۔قرارداد میں کہاگیاکہ یہ ایوان اس بات پر شدید تشویش کا اظہار کرتا ہے کہ مذکورہ واقعہ ایک وسیع تر حکمتِ عملی کا حصہ ہے، جسے ”آپریشن سندور“ کے تحت آگے بڑھایا گیا، تاکہ مقبوضہ کشمیر میں جاری ریاستی جبر، انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور فوجی کارروائیوں کو جواز فراہم کیا جا سکے۔قرارداد میں کہاگیاکہ یہ ایوان بھارت کے ان اقدامات کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتا ہے، جن کے تحت مقبوضہ کشمیر میں ریاستی دہشت گردی کو فروغ دیا جا رہا ہے، ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیاں اور بلاجواز گرفتاریوں کا سلسلہ جاری ہے۔ اظہارِ رائے کی آزادی کو سلب کیا جا رہا ہے اور میڈیا بلیک آؤٹ کے ذریعے حقائق کو چھپایا جا رہا ہے۔قرارداد میں کہاگیاکہ یہ ایوان اس بات پر زور دیتا ہے کہ بھارت کا یہ طرزِ عمل نہ صرف بین الاقوامی قوانین بلکہ بنیادی انسانی حقوق کے اصولوں کی بھی کھلی خلاف ورزی ہے۔ لہٰذا، یہ ایوان مطالبہ کرتا ہے کہ پہلگام جیسے فالس فلیگ واقعات اور انسانی حقوق کی بدترین پامالیوں کی فوری طور پر آزادانہ، غیر جانبدارانہ اور بین الاقوامی سطح پر شفاف تحقیقات کروائی جائیں۔ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا عالمی سطح پر نوٹس لیا جائے۔ اقوامِ متحدہ اور عالمی برادری کشمیری عوام کو ان کا بنیادی حق، یعنی حقِ خودارادیت، دلانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔مزید برآں، یہ ایوان اس عزم کا اظہار کرتا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے عوام کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت کے ساتھ ساتھ تحریکِ آزادی کشمیر کے لیے ہر سطح پر جدوجہد جاری رکھی جائے گی اور ہر فورم پر آواز بلند کی جاتی رہے گی۔قرارداد میں کہاگیاکہ یہ ایوان واضح کرتا ہے کہ کشمیر کا مسئلہ ایک بین الاقوامی تسلیم شدہ تنازعہ ہے، جس کا حل طاقت یا پروپیگنڈے کے ذریعے نہیں بلکہ انصاف، مکالمے اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ہی ممکن ہے۔قرارداد میں کہاگیاکہ یہ معزز ایوان فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی تنازعہ کشمیر کے منصفانہ حل، جموں و کشمیر کے عوام کے حقِ خودارادیت کی غیر متزلزل حمایت اور پاکستان کے دیرینہ اصولی موقف کو عالمی سطح پر موثر انداز میں اجاگر کرنے کی کاوشوں کو سراہتا ہے۔ ایوان ان کی بصیرت افروز قیادت، پیشہ ورانہ مہارت اور قومی و بین الاقوامی فورمز پر جرات مندانہ موقف اختیار کرنے پر انہیں دل کی اتھاہ گہرائیوں سے خراجِ تحسین پیش کرتا ہے۔یہ ایوان اس عزم کا اعادہ کرتا ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج اور قیادت کی جانب سے مسئلہ کشمیر کو زندہ رکھنے اور اسے عالمی ضمیر تک پہنچانے کی کوششیں پوری قوم کے جذبات کی حقیقی ترجمان ہیں، اور ان کا یہ کردار جموں و کشمیر کے عوام کے لیے حوصلہ و امید کا ذریعہ ہے۔

سپیکر قانون ساز اسمبلی چوہدری طارق فاروق کی زیر صدارت آزادجموں وکشمیر قانو ن ساز اسمبلی کے اجلاس میں سابق وزیرا عظم و ممبر اسمبلی فیصل ممتاز راٹھور،اپوزیشن لیڈر و ممبر اسمبلی چوہدری محمد یاسین،ممبر اسمبلی چوہدری محمد اسماعیل،ممبر اسمبلی سید بازل علی نقوی،ممبر اسمبلی محترمہ سحرش قمر،ممبر اسمبلی چوہدری محمد رخسار،ممبر اسمبلی محترمہ فرزانہ یعقوب کی جانب سے قراردادیں پیش کیں گئیں۔جنہیں متفقہ طور منظور کر لیا گیا۔
سپیکر قانون ساز اسمبلی چوہدری طارق فاروق کی زیر صدارت آزادجموں وکشمیر قانو ن ساز اسمبلی کے اجلاس میں سابق وزیرا عظم و ممبر اسمبلی
