سابق وزیراعظم راجہ محمد فاروق حیدر خان کی جانب سے پیش کردہ قرارداد میں کہاگیاکہ قانون ساز اسمبلی آزاد جموں و کشمیر کا یہ اجلاس ایران امریکہ و اسرائیل جنگ میں سیز فائر کروانے اور خطے کو بڑے پیمانے پر تباہی سے بچانے کے لئے پاکستان کی جانب سے بروقت کردار ادا کرنے پر وزیر اعظم پاکستان جناب محمد شہباز شریف، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار کے کردار کو خراج تحسین پیش کرتا ہے۔ جن کی بدولت پاکستان کا وقار دنیا میں بلند ہوا ہے۔ تمام ممالک بشمول سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ، سربراہ یورپی یونین نے پاکستان کے کردار کو نہ صرف سراہا بلکہ اس کی امن کوششوں میں ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کروائی۔ برادر اسلامی ممالک سعودی عرب، ترکی، قطر اور دیرینہ دوست چین کی جانب سے بھی دنیا میں پاکستان کے پر اثر جاندار سفارتی کردار کا بھر پور خیر مقدم کیا گیا اور پاکستان کی کاوشوں کو امن اور اقتصادی ترقی کے لئے اہم قدم کے طور پر دنیا کے تمام اہم ممالک کے دارالحکومتوں میں دیکھا گیا۔ امریکی صدر کی جانب سے پاکستان کی درخواست پر جنگ بندی کرنے کے دوران دنیا بھر میں ذرائع ابلاغ پر نمایاں رہا۔قرارداد میں کہاگیاکہ قانون ساز اسمبلی کا یہ اجلاس طویل عرصے بعد ایران اور امریکہ کے درمیان اسلام آباد میں براہ راست مذاکرات کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے پاکستان کی سفارتی تاریخ میں اہم کامیابی کے طور پر دیکھتا ہے۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور ایرانی سپیکر باقر قالیباف کی قیادت میں وفود کی اسلام آباد آمد اور مذاکرات ایک تاریخی لمحہ تھا۔ اس کے انعقاد پر وزارت خارجہ، داخلہ اور اسلام آباد کی انتظامیہ اور بالخصوص عوام کو خراج تحسین پیش کرتا ہے۔ ایک بار پھر امریکی صدر نے پاکستان کی درخواست پر ایران امریکہ جنگ میں مذاکرات تک توسیع کا اعلان کرتے ہوئے ممکنہ جنگ کو روک دیا جو پاکستان کا خطے اور دنیا میں امن کے حوالے سے کردار کا بین ثبوت ہے۔ جس سے دنیا بھر بلکہ جنوبی ایشیاء کے اندر پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال جس کے نتیجے میں جنوبی ایشیاء میں بسنے والے تین ارب انسانوں پر جنگ کے بدترین اثرات جن میں مہنگائی اور اقتصادی زبوں حالی کے اثرات یقینی طور پر ٹل گئے ہیں۔قرارداد میں کہاگیاکہ یہ ایوان پاکستان کے بین الاقوامی سطح پر ادا کیے جانے والے کردار پر قومی قیادت کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے اسے کشمیری عوام کے لئے بھی باعث فخر قرار دیتا ہے۔ جنہوں نے اپنا مستقبل ریاست پاکستان سے وابستہ کیا ہوا ہے۔ یہ ایوان پاکستان کی ثالثی کی کامیابی کو خطے میں پائیدار امن، معاشی و اقتصادی ترقی اور عام آدمی کی بہتری کا ضامن سمجھتا ہے۔قرارداد میں کہاگیاکہ قانون ساز اسمبلی کا یہ اجلاس اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کی جانب سے مسلمانوں کی نسل کشی کے منصوبہ جاری رکھتے ہوئے اس کی افواج کی جانب سے لبنان کے نہتے شہریوں پر شدید بمباری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہے جس میں دو ہزار سے زائد لبنانی شہری شہید ہوئے اور ہزاروں زخمی ہوئے ہیں۔ غزہ فلسطین بھر میں سیز فائر کے باوجود نہتے مسلمانوں کا قتل اسرائیل کے جنگی جرائم کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ جنگی جنون میں مبتلا اسرائیلی فوجیوں کی جانب سے حضرت عیسیٰ کی شبیہ کی توہین کی بھی شدید مذمت کرتا ہے۔قرارداد میں کہاگیاکہ اس ایوان کی رائے میں اسرائیل ایک دہشت گرد ریاست ہے جو انسانوں کی نسل کشی کے ساتھ ساتھ اب امن مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کی مکروہ سازشوں میں لگا ہوا ہے جس کا بین الاقوامی برادری کو نوٹس لینا چاہیے۔
سابق وزیراعظم راجہ محمد فاروق حیدرخان کی جانب سے پیش کردہ ایک اور قرارداد میں کہاگیاکہ قانون ساز اسمبلی آزاد جموں و کشمیر کا یہ اجلاس کشمیریوں کی تحریک آزادی کی بھرپور حمایت کرتا ہے اور مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور بے گناہ شہریوں کے قتل کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہے۔ یہ ایوان حریت رہنما یاسین ملک کی بلا جواز گرفتاری اور غیر قانونی ٹرائل کے ذریعے انہیں منظر عام سے ہٹانے کی ہندوستانی سازش کی شدید مذمت کرتا ہے۔ یہ ایوان آسیہ اندرابی، فہمیدہ صوفی، ناہیدہ نسرین اور دیگر اسیران کشمیر کی غیر قانونی نظر بندی اور انہیںسنائی جانے والی حالیہ غیر قانونی سزاوں کی بھی پرزور مذمت کرتے ہوئے ان سب کی فوری و غیر مشروط رہائی کا مطالبہ کرتا ہے۔ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیری عوام کے حق خودارادیت کی توثیق کرتا ہے اور عالمی برادری سے استصواب رائے کے لیے کردار ادا کرنے کا مطالبہ کرتا ہے۔قرارداد میں کہاگیاکہ یہ معزز ایوان آزاد کشمیر اور 24 کروڑ پاکستانیوں کی جانب سے کشمیریوں کی جدوجہد کے لیے مکمل اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت کی یقین دہانی کراتا ہے۔ حکومت پاکستان سے مطالبہ کرتا ہے کہ جس طرح سلامتی کونسل میں غزہ و فلسطین کا مسئلہ جاندار انداز میں اٹھایا گیا، اسی طرح مقبوضہ جموں و کشمیر کا معاملہ بھی ہر عالمی فورم پر مؤثر انداز میں اٹھایا جائے اور تمام کشمیری سیاسی قیدیوں کی رہائی کے لیے آواز بلند کی جائے۔قرارداد میں کہاگیاکہ یہ ایوان جناب محمد یاسین ملک کی غیر قانونی حراست، ماورائے قانون ٹرائل کے ذریعے انہیں منظر عام سے ہٹانے کی ہندوستانی سازش کی شدید مذمت کرتا ہے۔ اللہ سے دعا ہے کہ کشمیریوں کی حفاظت فرمائے اور انہیں جلد آزادی نصیب ہو۔ آمین۔

