ڈپٹی کمشنرمظفرآباد منیر احمد قریشی کی زیر صدارت ضلعی امن کمیٹی بسلسلہ اتحاد بین المسالک اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں مختلف مسالک کے علماء کرام /آفیسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں رمضان المبارک کے دوران مذہبی ہم آہنگی کے فروغ، امن عامہ کی بحالی اور تمام مکاتب فکر کے درمیان بھائی چارہ کی فضاء کو برقرار رکھنے کیلئے محراب ومنبر سے مسلکی نفرتیں اور کدورتیں ختم کرنے کا درس دینے پر زور دیاگیا۔موجودہ بدلتے عالمی منظرنامے کے دوران سیکیورٹی ادارے،انتظامیہ اور علماء کرام کوملی بیداری کاثبوت دینا ہوگا۔تاکہ مسلکی ہم آہنگی صبر وتحمل،برداشت اور بھائی چارہ کی فضاء جوکئی دہائیوں سے قائم ہے میں مزید استحکام لایاجائے۔اجلاس میں یہ بات باور کروائی کہ ملک دشمن عناصراپنے مذموم مقاصد اور فتنہ انگیزی پھیلانے میں مسلک اور فرقہ کی تفریق نہ کررہے ہیں۔بلکہ مسلمانوں کو اپنے ظلم وبربریت کانشانہ بنارہے ہیں۔رمضان کے تقدس اور احترام کاخاص خیال رکھتے ہوئے پنجگانہ نماز، تراویح،سحری اورجمعۃ المبارک کے خطبات اجتماعات کے دوران مساجد میں رضاکاروں کوڈیوٹی پرمامورکیاجائے تاکہ مزید موثر انداز میں سیکیورٹی ممکن ہوسکے۔بازاروں،شاپنگ مالز اورپبلک ٹرانسپورٹ میں موسیقی اور گانا بجانے پر پابندی عائد کی جاتی ہے۔نوجوانوں کی مذہبی و معاشرتی تربیت کیلئے علماء کرام عبادات کے ساتھ ساتھ اخلاقی تربیت کے سلسلہ میں اپنے خطبات میں ملاوٹ، گراں فروشی، غیر معیاری اشیاء کی فروخت اورچوری ڈاکہ وغیرہ سے ممانعت کے ساتھ ساتھ گھر،گلی محلے کی صفائی کے حوالہ سے بھی شعور اجاگر کریں گے۔ بڑی مساجد میں جمعہ،نمازتراویح اور عیدالفطر کے اجتماعات پر سیکیورٹی کے خصوصی انتظامات عمل میں لاتے ہوئےMetal Detector،CCTVکیمرہ جات کے علاوہ والنٹیئر/رضاکاروں کی مامورگیاں بھی عمل میں لائی جائیں۔مستقبل کے متوقع چیلنجز سے نبردآزماہونے کیلئے ہمیں کفایت شعاری کی پالیسی اپنانا ہوگی۔ بازاروں،مارکیٹس اور داخلی راستوں پر نگرانی اور چیکنگ وغیرہ کو مزید موثربنانے بارے ہدایات جاری کی گئیں۔بیرون اضلاع سے بھکاریوں اور پھیری وغیرہ کے روپ میں آئے ہوئے افراد کی کڑی نگرانی اور ضلع بدر کرنے کیلئے حکمت عملی سے عملدرآمد کروانا ہوگا۔نیشنل ایکشن پلان کے تمام نکات پر عملدرآمدکویقینی بنایاجاجارہا ہے،مساجد اور مدارس میں اعتکاف پربیٹھنے والے افراد کی چھان بین /ڈیٹا رکھا جائے۔سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی خبروں کو بلا تصدیق شیئر کرنا یا کمنٹس کرنا،مسلکی School of Thought کوچھیڑنا،منافرت یا تعصب پھیلانا سائبر کرائم کی شکل قرار دی گئیں ہیں۔جس کاسدباب علماء کرام اور مشائح عظام بہتر اندازمیں کریں گے۔آخر پر پاکستان،افواج پاکستان کی سا لمیت،فلسطین اور ایران میں شہید ہونے والوں کے بلندی درجات کیلئے دعا کی گئی۔

سپیکر قانون ساز اسمبلی چوہدری طارق فاروق کی زیر صدارت آزادجموں وکشمیر قانو ن ساز اسمبلی کے اجلاس میں سابق وزیرا عظم و ممبر اسمبلی فیصل ممتاز راٹھور،اپوزیشن لیڈر و ممبر اسمبلی چوہدری محمد یاسین،ممبر اسمبلی چوہدری محمد اسماعیل،ممبر اسمبلی سید بازل علی نقوی،ممبر اسمبلی محترمہ سحرش قمر،ممبر اسمبلی چوہدری محمد رخسار،ممبر اسمبلی محترمہ فرزانہ یعقوب کی جانب سے قراردادیں پیش کیں گئیں۔جنہیں متفقہ طور منظور کر لیا گیا۔
سپیکر قانون ساز اسمبلی چوہدری طارق فاروق کی زیر صدارت آزادجموں وکشمیر قانو ن ساز اسمبلی کے اجلاس میں سابق وزیرا عظم و ممبر اسمبلی
