“اوورسیز کشمیریز کنونشن 2026” میں آزاد کشمیر کی موجودہ صورتحال، اوورسیز کشمیریوں کو درپیش مسائل اور چیلنجز، بزنس اینڈ انسوسٹمنٹ اور یوتھ اینڈ جینڈر پر وزراء حکومت، سیکرٹریز حکومت، صحافی، متعلقہ شعبے کے ماہرین اور سول سوسائٹی کے نمائندوں پر مشتمل گروپ ڈسکشنز کے لب لباب پر گروپ لیڈران نے کنونشن کے شرکاء کو آگاہ کیا۔ اس موقع پر پینل ڈسکشن میں وزیر اعظم آزادکشمیر فیصل ممتاز راٹھور، چیف سیکرٹری آزاد کشمیر خوشحال خان نے پینلسٹ کی تجاویز اور خدشات کو غور سے سنا اور موقع پر بیش تر حل طلب مسائل کے حل کیلئے احکامات جاری کئے اور شرکاء کے سوالوں کا جواب دیا۔ قائمقام انسپکٹر جنرل پولیس آزادکشمیر محمد یاسین قریشی بھی اس موقع پر موجود تھے۔ پینل ڈسکشن کے دوران گروپ لیڈران کی تجاویز اور خدشات پر رد عمل دیتے ہوئے چیف سیکرٹری آزاد کشمیر خوشحال خان نے کہا کہ حکومت آزاد کشمیر اوورسیز کشمیریوں کے مسائل کے فوری حل کیلئے میرپور میں ون ونڈو آپریشن فیسیلیٹیشن سنٹر قائم کر رہے ہیں، اسی طرح اوورسیز کشمیریز کے سرمایہ کاروں کے لئے سازگار ماحول فراہم کریں گے اس حوالے سے پرائیویٹ بورڈ آف انسوسٹمنٹ قائم کر رہے ہیں، آزاد کشمیر کے نوجوانوں کیلئے سمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز کے ذریعے آسان قرضے فراہم کئے جائیں گے۔ لینڈ کمپیوٹرائزیشن پر بھی ڈی جی آئی ٹی کی تعیناتی کے فورا بعد کام شروع ہو جائے گا، اوورسیز گریونسز ریڈریسل پورٹل کے ذریعے اوورسیز کشمیریوں کے مسائل فوری طور پر حل ہوں گے، بزنس اینڈ انسوسٹمنٹ گروپ کے خدشات پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر حکومت اگلے کابینہ اجلاس میں لیز پر پابندیوں کے خاتمے اور لیز کے اجراء کی منظوری دے گی۔ انہوں نے کہا کہ پرائیویٹ پبلک پارٹنر شپ کے تحت مختلف سیکٹرز میں سرمایہ کاروں کی مکمل معاونت کریں گے اور اے وی ایشن سیکٹر میں وفاقی قوانین کے تحت سرمایہ کاروں کے ساتھ تعاون کریں گے۔ آزاد کشمیر کی موجودہ صورتحال پر فوکس گروپ ڈسکشن کے گروپ لیڈر کے خدشات پر ردعمل دیتے ہوئے چیف سیکرٹری نے کہا کہ عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ معاہدے پر بیش تر نکات پر عملدرآمد ہو گیا ہے، ایک آدھ نکتہ جو رہ گیا ہے جس کے حل کیلئے عوامی ایکشن کمیٹی کے نمائندوں نے ہمارے ساتھ بیٹھنا تھا مگر اس کے حل کیلئے کمیٹی کے ساتھ بیٹھنے کے بجائے وہ دوبارہ سڑکوں پر نکلنے کی بات کر رہے ہیں جو افسوسناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوامی ایکشن کمیٹی کے معاہدے پر عملدرآمد کے نکات سے اوورسیز کشمیریوں کو آگاہ کریں گے۔ اس سے پہلے غزالہ حبیب چیئرپرسن فرینڈز آف کشمیرنے آزاد کشمیر میں موجودہ صورتحال پر فوکس گروپ ڈسکشن پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ہماری کشمیر بنے گا پاکستان سے وابستگی پہلے سے زیادہ ابھرے گی۔ آزاد کشمیر کا مقبوضہ کشمیر کے ساتھ کوئی موازنہ نہیں ہے، یہاں کی فوج محافظ فوج ہے اور وہاں کی فوج ظالم اور جابر فوج ہے،ہمارے اختلافات ہو سکتے ہیں لیکن ان کی آڑ میں ہمیں اپنے نظریات کو کمپرومائز نہیں کرنا، انہوں نے آزاد کشمیر کی موجودہ صورتحال کو بہتر کرنے کیلئے تجاویز دیتے ہوئے کہا کہ خطے میں روزگار کے مواقع کیلئے سمال انڈسٹریز، بچوں کو سکالرشپ دی جائیں، بچوں کو مثبت سرگرمیوں کے ذریعے معاشرے کیلئے فائدہ مند بنایا جا سکتا ہے، نصاب میں پاکستان اور کشمیر کے لازوال رشتے کو نصاب کا حصہ بنایا جائے، صحافیوں کو بھی آگاہی دینے کی ضرورت ہے، پولیس اور عوام کے مابین باہمی اعتماد کو بحال کرنے کیلئے اقدامات کی ضرورت ہے، حکومت عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے معاملات حل کرے۔ یہ افراتفری کی صورتحال ہمارے ڈائیسپورا کو بہت متاثر کرتے ہیں، اور انڈین میڈیا کو پروپیگنڈے کا موقع فراہم کرتے ہیں،محمد خلیق نے اوورسیز کشمیریز کو درپیش مسائل اور چیلنجز پر فوکس گروپ ڈسکشن پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ جب ہم واپس اپنے وطن آئیں تو ہمیں سب سے زیادہ جس چیز کی ضرورت ہے وہ عزت ہے۔ اراضی حصول کیلئے رجسٹریشن کے نظام کو شفاف اور آسان ہونا چاہئے اور اوورسیز کشمیریز کی جائیداد کے اوپر تنازعات ہوتے ہیں جن کو فوری حل کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ دیار غیر میں ملکی معیشت اور وقار کو بلند کرنے والے اوورسیز کشمیریز کے کردار کو سراہا جانا چاہئے، تعلیم اور صحت کے شعبے میں پبلک پالیسی کا نفاذ ہونا چاہئے، انہوں نے اسطرح کے کنونشنز کو باقاعدگی کے ساتھ جاری رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ آج کے کنونشن کے اوپر پالیسی پیپر پبلش ہونا چاہئے۔ ڈاکٹر زعفران نے بزنس اینڈ انسوسٹمنٹ فوکس گروپ ڈسکشن پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ مائننگ سیکٹر پر پابندی ختم ہونے چاہئے اور لیز کیلئے وقت اور طریقہ کار کا تعین ہونا چاہئے، ہائیڈل پاور پراجیکٹ کے لیے این او سی کا اجراء کو یقینی بنایا جائے، انہوں نےسرمایہ کاری کے لئے پالیسی اپنانے اور اس پر عملدرآمد کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ ڈاکٹر زعفران نے میرپور ائیر پورٹ کے قیام ، سرمایہ کاری کیلئے تحفظ، ٹیکس میں چھوٹ ، اے جے کے میں خیراتی اداروں کیلئے فریم ورک کا تعین، کاروباری خواتین کیلئے مراعات، آرگینک سیکٹر کیلئے موجود مواقع، آئی ٹی پارک/ یونیورسٹی کا قیام، پبلک پرائیویٹ کے تحت سیاحت کے شعبے میں مواقع، ووکیشنل انسٹیٹیوٹ کے قیام، ڈرائی پورٹ کو فعال کرنے، سرمایہ کاری کیلئے ساز گار ماحول بنانے پر بھی زور دیا۔ عظمی خان نے یوتھ اینڈ جینڈر فوکس گروپ ڈسکشن پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں کو روزگار کے مواقع فراہم کرنے کیلئے (NEFTA) یہاں کام کرنا چاہتے ہیں، خواتین کو معاشی طور پر با اختیار بنانے کیلئے آسان شرائط پر قرضوں کی فراہمی، آئی ٹی اور زرعی اجناس کی پیداوار کیلئے چھوٹے کاروبار قائم کرنے اور ان میں خواتین کو برابر مواقع فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔

سپیکر قانون ساز اسمبلی چوہدری طارق فاروق کی زیر صدارت آزادجموں وکشمیر قانو ن ساز اسمبلی کے اجلاس میں سابق وزیرا عظم و ممبر اسمبلی فیصل ممتاز راٹھور،اپوزیشن لیڈر و ممبر اسمبلی چوہدری محمد یاسین،ممبر اسمبلی چوہدری محمد اسماعیل،ممبر اسمبلی سید بازل علی نقوی،ممبر اسمبلی محترمہ سحرش قمر،ممبر اسمبلی چوہدری محمد رخسار،ممبر اسمبلی محترمہ فرزانہ یعقوب کی جانب سے قراردادیں پیش کیں گئیں۔جنہیں متفقہ طور منظور کر لیا گیا۔
سپیکر قانون ساز اسمبلی چوہدری طارق فاروق کی زیر صدارت آزادجموں وکشمیر قانو ن ساز اسمبلی کے اجلاس میں سابق وزیرا عظم و ممبر اسمبلی
