قائمقام صدر آزاد جموں وکشمیر چوہدری لطیف اکبر نے کہا ہے کہ پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جو کشمیری عوام کے حق کے لیے ڈٹ کر کھڑا ہوتا ہے۔ہندوستان سات دہائیوں سے قابض رہنے کے باوجود کشمیری عوام کے دل نہیں جیت سکا۔ پاکستان کا موازنہ ہندوستان سے کرنا مناسب نہیں کیونکہ پاکستان نے کشمیری عوام کو ہمیشہ عزت دی اور سپورٹ کی جبکہ ہندوستان نے کشمیریوں کا قتل عام کیا۔ آج کے کنونشن میں اوورسیز کشمیریوں کو ان کی مٹی کے ساتھ محبت یہاں کھینچ لائی ہے۔ مظفرآباد میں اوورسیز کشمیریز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے قائمقام صدر آزاد جموں و کشمیر چوہدری لطیف اکبر نے کہا ہے کہ وہ اوورسیز کشمیریوں کی آزادکشمیر آمد پر دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے سید قمر رضا کی قیادت میں او پی ایف کی خدمات کو سراہتے ہوئے جنرل سید عاصم منیر اور وزیراعظم پاکستان کا بھی ذکر کیا۔قائمقام صدر نے کہا کہ آج کا کنونشن یقینی طور پر ایک بڑا ایونٹ ہے جس کے انعقاد پر حکومت، چیف سیکرٹری اور دیگر منتظمین مبارکباد کے مستحق ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس کنونشن کے ذریعے نسلوں کو ایک بار پھر جوڑنے کا موقع ملا ہے اور اوورسیز کشمیری یہاں سے واپس جا کر اپنے تجربات سے دیگر لوگوں کو آگاہ کریں گے۔چوہدری لطیف اکبر نے کہا کہ گروپ ڈسکشن میں نوجوانوں، بزنس، مسائل، سیاحت اور دیگر شعبوں کے حوالے سے جو گفتگو ہوئی وہ انتہائی خوش آئند ہے۔ انہوں نے ٹنل ٹیکنالوجی پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اس سے ماحول زیادہ متاثر ہوتا ہے، خاص طور پر جنگلات والے علاقوں میں۔ قائمقام صدر نے کہا کہ تحریک آزادی کشمیر کے بیس کیمپ کی پہلی ذمہ داری تحریک آزادی ہے اور ہمارا اولین مقصد تحریک آزادی ہے جسے ہم بھول نہیں سکتے۔ انہوں نے کہا کہ اگر آج اور 1947 کے آزاد کشمیر کا موازنہ کیا جائے تو اس وقت پورے آزاد کشمیر میں صرف دو سڑکیں اور دو ہائی سکول تھے اور موجودہ پونچھ میں کوئی ہائی سکول موجود نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ آج آزاد کشمیر میں پانچ یونیورسٹیاں اور تین میڈیکل کالجز قائم ہو چکے ہیں جو ایک بڑا انقلاب ہے۔ چوہدری لطیف اکبر نے مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کی قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ مقبول بٹ اور افضل گورو کو پھانسی دینے کے بعد انکے جسد خاکی بھی نہیں دیے گئے ہندوستان ان شہداء کے جنازوں سے بھی خوفزدہ تھا۔ سید علی گیلانی، عبدالغنی لون ، شبیر شاہ سمیت یاسین ملک اور کشمیری قائدین اور عوام کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے آسیہ اندرابی، فہمیدہ صوفی اور ناہیدہ نسرین کی جدوجہد کا بھی ذکر کیا۔قائمقام صدر نے کہا کہ صدر ریاست بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کو گن کیرج کا اعزاز دیا گیا جبکہ بھارت کی حکومت مقبوضہ کشمیر میں کشمیری قیادت کے ساتھ جو بدترین انسانیت سوز سلوک کرتی ہے وہ دنیا کے سامنے ہے۔ انہوں نے بھارت کے مظالم کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان مقبوضہ کشمیر میں نماز پڑھنے کے لیے جانے والوں پر بھی تشدد کرتا ہے جبکہ پاکستان ہمارے ایسے مطالبات بھی مان لیتا ہے جو بظاہر ممکن نہیں ہوتے۔ قائمقام صدر نے کہا کہ تحریک آزادی کشمیر اور کشمیری عوام کی جدوجہد کو ہر صورت جاری رکھا جائے گا۔

سپیکر قانون ساز اسمبلی چوہدری طارق فاروق کی زیر صدارت آزادجموں وکشمیر قانو ن ساز اسمبلی کے اجلاس میں سابق وزیرا عظم و ممبر اسمبلی فیصل ممتاز راٹھور،اپوزیشن لیڈر و ممبر اسمبلی چوہدری محمد یاسین،ممبر اسمبلی چوہدری محمد اسماعیل،ممبر اسمبلی سید بازل علی نقوی،ممبر اسمبلی محترمہ سحرش قمر،ممبر اسمبلی چوہدری محمد رخسار،ممبر اسمبلی محترمہ فرزانہ یعقوب کی جانب سے قراردادیں پیش کیں گئیں۔جنہیں متفقہ طور منظور کر لیا گیا۔
سپیکر قانون ساز اسمبلی چوہدری طارق فاروق کی زیر صدارت آزادجموں وکشمیر قانو ن ساز اسمبلی کے اجلاس میں سابق وزیرا عظم و ممبر اسمبلی
