بیس کیمپ کی قیادت اور کل جماعتی حریت کانفرنس نے بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ محمد افضل گورو شہید اور مقبول بٹ شہید کے جسد خاکی ان کے ورثاء کے حوالے کرنے کے لیے بھارت پر دباؤ ڈالا جائے۔دونوں حریت پسند وں کو حق خودارادیت کی جدوجہد اور آزادی کا نعرہ بلند کرنے کے جرم کی پاداش میں بھارت نے تختہ دار پر لٹکا یا او ران کی میتیں ورثاء کے حوالے کرنے کے بجائے دہلی کی بدنام زمانہ تہاڑ جیل میں ہی دفن کررکھی ہیں۔ عالمی برادری مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کا نوٹس لیتے ہوئے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیر یوں کو ان کا تسلیم شدہ حق خودارادیت دلائے تاکہ خطہ میں امن کا قیام شرمندہ تعبیر ہو سکے۔ بھارت نے مقبوضہ کشمیر پر غیر قانونی فوجی قبضہ کررکھاہے۔ جنوبی ایشیا میں امن کا قیام مسئلہ کشمیر سے مشروط ہے۔ مقبوضہ جموں وکشمیر میں جاری تحریک حق خودارادیت کی تحریک ہے۔ بیس کیمپ کے عوام جدوجہد آزادی میں اپنے بھائیوں کے شانہ بشانہ ہیں۔معرکہ حق میں بھارت کو عبرت ناک شکست ہوئی، آپریشن بنیان المرصوص کی تاریخی کامیابی کے بعد دنیا کی توجہ کشمیر پر مبذول ہوئی ایسے حالات میں ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم پوری طا قت کے ساتھ اپنا کیس دنیا کے سامنے پیش کریں اور مقبوضہ کشمیر میں بھارت اور اس کی قابض افواج کی طرف سے انسانی حقوق کی پامالیوں کو دنیا کے سامنے بے نقاب کریں۔ بھارت جان لے کہ وہ ظلم و جبر کے ذریعے کشمیر پر اپنا جابرانہ تسلط زیادہ دیر تک برقرار نہیں رکھ سکے گا۔ ان خیالات کا اظہار مقررین نے جموں وکشمیر لبریشن سیل کے زیر اہتمام کل جماعتی حریت کانفرنس کے تعاون سے محمد افضل گورو شہید کی برسی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب سے کل جماعتی حریت کانفرنس کے سیکرٹری اطلاعات مشتاق بٹ، سینئر حریت رہنمامشتاق السلام، ترجمان وزیر اعظم آزاد کشمیر شوکت جاوید میر، ڈائریکٹر جموں وکشمیر لبریشن سیل سردار ساجد محمود، میڈیا کوآرڈنیٹر جموں وکشمیر لبریشن سیل سردار علی شان، شباب المسلمین کے عمیر احمد، منیر قریشی، اشفاق اعوان، حیدر علی اسامہ اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔ برسی کی تقریب میں سٹیج سیکرٹری کے فرائض بابربشیر اعوان نے سرانجام دیئے۔محمد افضل گورو شہید کی برسی کی تقریب میں سیاسی ومذہبی جماعتوں کی قیادت، سول سوسائٹی کے افراد سمیت شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ تقریب سے خطاب کے دوران مقررین نے کہا کہ افضل گور و کو بھارت اور بھارت کی اعلیٰ عدلیہ نے ایسے جرم کی پاداش میں پھانسی کی سزا دی جوان سے سرزد ہوا ہی نہیں۔بھارتی سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ محمد افضل گورو کو بھارتیوں کے اجتماعی ضمیر کو مطمئن کرنے کے لیے انھیں تختہ دار پر لٹکایا جاتا ہے۔ یہ فیصلہ انصاف کا قتل اور بھارت کا مکروہ چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب کرنے کا موجب بنا۔تحریک آزادی کشمیر حق خودارادیت کی تحریک سے اقوام متحدہ نے کشمیر یوں کا حق خودارادیت تسلیم کررکھا ہے اوربھارت نے عالمی برادری سے وعدے کے باوجود کشمیر کا بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حق غصب کررکھا ہے۔ اپنی آزادی کی بات کرنا اور حق کی آواز بلند کرنا کشمیر یوں کا آئینی اور قانونی حق ہے۔ مقررین نے کہا بھارت کشمیر کی آواز سے خوفزدہ ہے اور اس نے 10 لاکھ فوج کشمیر میں تعینات کرکے مقبوضہ کشمیر کو دنیا کی سب سے بڑی کھلی انسانی جیل میں تبدیل کررکھا ہے اور کشمیر یوں کی آواز دبانے کے لیے طاقت اور جبر وتشدد کا وحشیانہ استعمال کررہا ہے۔ لیکن بھارتی جبرو تشدد کشمیر یوں کے جذبہ حریت کو دبانے میں کامیاب نہیں ہوسکا۔اس وقت بھارت نے ساری حریت قیادت سمیت ہزاروں کشمیر یوں کو کالے قوانین کے تحت گرفتار کررکھا ہے۔ کشمیر یوں کو ریاستی دہشت گردی کا نشانہ بنایا جارہا ہے ایسے حالات میں بیس کیمپ کے عوام کی ذمہ داری ہے کہ وہ پوری قوت کے ساتھ مقبوضہ کشمیر کے عوام کی آواز بنیں اور کشمیر یوں کی آواز دنیا تک نہیں پہنچائیں۔ مقررین نے کہا کہ آج افضل گورو شہید کی برسی پر پوری قوم اس عزم کا اعادہ کرتی ہے کہ شہداء کشمیر کے مشن کی تکمیل اور حق خودارادیت کے حصول تک ہماری جدوجہد جاری رہے گی۔ مقررین نے حکومت پاکستان اور افواج پاکستان کی طرف سے کشمیر یوں کی جدوجہد آزادی کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت کا بھر پور خیرمقدم کیا۔ برسی کی تقریب کے اختتام پر احتجاجی ریلی نکالی گئی۔ شرکاء ریلی نے بھارت کے خلاف اور آزادی کے حق میں نعرے بازی کرتے ہوئے اقوام عالم سے مطالبہ کیا کہ وہ کشمیر ی قوم سے کیے گئے وعدے پورے کرے اور کشمیر میں رائے شماری کے لیے بھارت کو مجبور کرے۔

سپیکر قانون ساز اسمبلی چوہدری طارق فاروق کی زیر صدارت آزادجموں وکشمیر قانو ن ساز اسمبلی کے اجلاس میں سابق وزیرا عظم و ممبر اسمبلی فیصل ممتاز راٹھور،اپوزیشن لیڈر و ممبر اسمبلی چوہدری محمد یاسین،ممبر اسمبلی چوہدری محمد اسماعیل،ممبر اسمبلی سید بازل علی نقوی،ممبر اسمبلی محترمہ سحرش قمر،ممبر اسمبلی چوہدری محمد رخسار،ممبر اسمبلی محترمہ فرزانہ یعقوب کی جانب سے قراردادیں پیش کیں گئیں۔جنہیں متفقہ طور منظور کر لیا گیا۔
سپیکر قانون ساز اسمبلی چوہدری طارق فاروق کی زیر صدارت آزادجموں وکشمیر قانو ن ساز اسمبلی کے اجلاس میں سابق وزیرا عظم و ممبر اسمبلی
