آزادجموں وکشمیر قانون ساز اسمبلی کا اجلاس بدھ کے روز ڈپٹی سپیکر چوہدری ریاض احمد کی زیر صدارت منعقد ہوا۔

آزادجموں وکشمیر قانون ساز اسمبلی کا اجلاس بدھ کے روز ڈپٹی سپیکر چوہدری ریاض احمد کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس کے آغاز میں سابق صدرریاست بیرسٹرسلطان محمود چوہدری کے ایصال ثواب کیلئے ایوان میں ممبر اسمبلی احمد رضا قادری نے فاتحہ خوانی کروائی۔

قانون ساز اسمبلی کے اجلاس کے دوران قراردادوں پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے سابق وزیراعظم راجہ محمد فاروق حیدرخان نے کہاکہ بیرسٹرسلطان محمودچوہدری کے خاندان کی تحریک آزادی کشمیر کے لیے بہت خدمات ہیں، جب تیرہویں ترمیم ہورہی تھی تو بیرسٹر سلطان محمود چوہدری میرے گھرآئے اور مجھے اپنی بھرپور سپورٹ اور حمایت کا یقین دلایا۔ بیرسٹرسلطان محمود چوہدری نے لال چوک سرینگر میں جلسہ سے بھی خطاب کیا۔ انہوں نے کہاکہ افواج پاکستان کی جانب سے انکے جنازے کو جس طرح گن کیرج کا اعزاز دیاگیا وہ لائن آف کنٹرول کے دونوں جانب رہنے والے کشمیریوں کے لیے باعث فخر ہے کہ پاکستان کس طرح کشمیری رہنماؤں کی قدرکرتا ہے۔ میں اس پر فیلڈ مارشل اور افواج پاکستان کا شکرگزارہوں۔ انہوں نے کہاکہ بیرسٹرسلطان محمود چوہدری نے بیرون ممالک میں تحریک آزادی کشمیر کے حوالے سے ناقابل فراموش خدمات انجام دیں۔ وہ میرپور کے اس باغ کے چشم و چراغ تھے جس کی تحریک آزادی کشمیر کے لیے بہت خدمات ہیں۔

قائد حزب اختلاف شاہ غلام قادر نے کہاکہ بیرسٹرسلطان محمودچوہدری کی کمی ہمیشہ محسوس ہوتی رہیگی۔ ان کی وفات سے نہ صرف آزادکشمیر بلکہ مقبوضہ کشمیر میں دکھ اور افسوس کا اظٖہار اور تعزیت کی گئی۔ دنیا بھر میں مقیم کشمیریوں کو بیرسٹرسلطان محمودچوہدری کی وفات کا دکھ ہے۔ میرواعظ عمر فاروق نے بھی انکی وفات پر تعزیت کا پیغام بھیجا۔

موسٹ سینئر وزیر میاں عبدالوحید نے کہاکہ بیرسٹرسلطان محمودچوہدری کی زندگی جدوجہد سے عبارت ہے، انہوں نے اپنی زندگی تحریک آزادی کشمیر کے لیے وقف کر رکھی تھی۔ انکی وفات سے ریاست کی ہر آنکھ اشکبار تھی۔

وزیرخوراک جاوید اقبال بڈھانوی نے کہاکہ بیرسٹرسلطان محمو د چوہدری کو تحریک آزادی کشمیر کے ساتھ لگاؤ تھا، انکی وفات سے تحریک آزادی کشمیر ایک عظیم رہنما سے محروم ہوگئی ہے۔

وزیر جنگلات سردار جاوید ایوب نے کہاکہ مجھے بیرسٹرسلطان محمود چوہدری کیساتھ کام کرنے کا موقع ملا، وہ انتہائی اعلی ظرف انسان اور باکمال رہنما تھے۔

مظفرآباد(پی آئی ڈی)04فروری 2025

آزادجموں و کشمیر قانون سازاسمبلی کے اجلاس میں ممبران اسمبلی کی جانب سے پیش کی گئی قراردادیں متفقہ طور پر منظور کر لی گئیں۔ آزادجموں وکشمیر قانون ساز اسمبلی کے اجلاس میں پاکستان پیپلزپارٹی آزادکشمیر کے صدر چوہدری محمد یاسین کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد میں کہاگیا کہ اس ایوان کی رائے میں صدر ریاست جموں وکشمیر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری) مرحوم(نہ صرف آزاد کشمیر بلکہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھی ایک مقبول لیڈر تھے، جنہوں نے اپنی ساری زندگی تحریک آزادی کشمیر کے لیے وقف کر رکھی تھی۔یہ ایوان سمجھتا ہے کہ انہوں نے مسئلہ کشمیر اُجاگر کرنے کے لیے لازوال خدمات سرانجام دیں۔اس معزز ایوان کی رائے میں انہوں نے امریکہ یورپ برطانیہ اور او آئی سی سمیت ہر فورم پربحیثیت صدر، وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر کے طور پر ہر سطح پر تحریک آزادی کشمیر کے لیے بھرپور کردار ادا کیا۔یہ ایوان سمجھتا ہے کہ انہوں نے آزاد کشمیر کی ترقی، خوشحالی اور عام آدمی کا معیار زندگی بلند کرنے کے لیے گراں قدر خدمات سرانجام دیں۔ انہوں نے آزاد کشمیر میں سیاسی رواداری کو فروغ دیا۔ کشمیر کے تشخص،مذہبی ہم آہنگی سمیت باوقار انداز سیاست رکھا۔یہ ایوان سمجھتا ہے کہ ایسے لیڈر صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں ان کی وفات سے پیدا ہونے والا خلا مدتوں پورا ہونا ممکن نہیں۔آج یہ ایوان ان کی تحریک آزادی کشمیر کے لیے کی گئی جدوجہد، ان کی ملی سیاسی و سماجی خدمات پر انہیں زبردست الفاظ میں خراج عقیدت پیش کرتا ہے۔چوہدری محمد یاسین کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد وزیر قانون میاں عبدالوحید نے ایوان میں پڑھی۔

وزیر اطلاعات، اوقاف و مذہبی امور چوہدری محمد رفیق نئیر کی جانب سے پیش کردہ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ آزادجموں وکشمیر قانون سازاسمبلی کا یہ اجلاس صدرآزادجموں وکشمیر بیرسٹرسلطان محمودچوہدری کی وفات پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتا ہے۔ بیرسٹرسلطان محمودچوہدری ریاست جموں وکشمیر کی توانا آواز اور تحریک آزادی کشمیر کے بے لوث علمبردار تھے جن کی خدمات ناقابل فراموش ہیں،انکی وفات سے تحریکِ آزادی کشمیر ایک نڈر اور مؤثر آواز سے محروم ہو گئی۔بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے کشمیر کاز اور کشمیری عوام پر بھارتی مظالم کے خلاف بھرپور آواز اٹھائی۔بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کی کشمیری عوام کیلئے خدمت اور کشمیر کاز کیلئے جدوجہد کو تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ایوان اس بات کا اعتراف کرتا ہے کہ بیرسٹرسلطان محمود چوہدری نے اپنی پوری سیاسی زندگی آزاد جموں و کشمیر کی تعمیر و ترقی، جمہوری اقدار کے فروغ اور کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کے لیے جدوجہد کے لیے وقف کیے رکھی۔ بطور صدرِ ریاست، وزیراعظم اور پارلیمانی رہنما ان کی خدمات تاریخ میں سنہرے حروف سے لکھی جائیں گی۔یہ ایوان عظیم کشمیری رہنما بیرسٹر سلطان محمود چوہدری مرحوم کی وفات پر گن کیرج کے ساتھ سرکاری اعزاز اکے ساتھ تدفین کو ان کی قومی، سیاسی اور مسئلہ? کشمیر کے لیے گراں قدر خدمات کا برحق اعتراف قرار دیتا ہے۔یہ ایوان مرحوم کی قومی، سیاسی اور عوامی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے ان کے اہلِ خانہ، پسماندگان، رفقائے کار اور کشمیری عوام سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتا ہے اور دعا گو ہے کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کو جوارِ رحمت میں جگہ عطا فرمائے اور لواحقین کو یہ صدمہ برداشت کرنے کا حوصلہ عطا فرمائے۔یہ قرارداد وزیر خوراک جاوید اقبال بڈھانوی نے ایوان میں پڑھی۔

قائد حزب اختلاف شاہ غلام قادر کی جانب سے پیش کردہ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ قانون ساز اسمبلی آزاد جموں و کشمیر کا یہ اجلاس صدر آزاد جموں و کشمیر بیرسٹر سلطان محمود کی رحلت پر دلی دکھ اور افسوس کا اظہار کرتا ہے۔ یہ ایوان ان کی سیاسی، سماجی اور ملی خدمات کو بھر پور خراج تحسین پیش کرتا ہے۔ بیرسٹر سلطان محمود نے بحیثیت ممبر اسمبلی، صدر، وزیر اعظم اور اپوزیشن لیڈر ریاست جموں و کشمیر کے لیے گراں قدر خدمات سر انجام دیں۔انہوں نے نہ صرف آزاد کشمیر کی تعمیر وترقی میں اہم کردار ادا کیا بلکہ مسئلہ کشمیر کو علمی سطح پر اجاگر کرنے کے لیے گراں قدر خدمات انجام دیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے اور ان کو اپنی جوار رحمت میں جگہ عطا فرمائے۔

ممبر اسمبلی چوہدری محمد اسماعیل کی جانب سے پیش کردہ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ یہ ایوان صدر ریاست بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کی وفات پر گہرے رنج والم کا اظہار کرتا ہے اور لواحقین سے دلی ہمدردی کا اظہار کرتا ہے۔ یہ ایوان آزاد کشمیر کی تعمیر و ترقی کے لیے ان کی کاوشوں کو خراج تحسین پیش کرتا ہے اور مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کے لیے ان کی گراں قدر خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ یہ ایوان دعا گو ہے کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے اور ان کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ آمین

وزیر لوکل گورنمنٹ و دیہی ترقی عامر یاسین کی جانب سے پیش کردہ قرارداد میں کہاگیاکہ صدر ریاست موں وکشمیربیر سٹر سلطان محمود چوہدری ایک اعلی پائے کے سیاستدان،ریاست کی پہچان تھے۔ان کی رحلت سے پوری ریاست سوگوار ہے ان جیسے لیڈر کسی بھی قوم کے لیے شجر سایہ دار ہوتے ہیں۔یہ ایوان سمجھتا ہے کہ ریاست ایک مدبر اور قد آور قومی لیڈر سے محروم ہو گئی ہے۔بیرسٹر سلطان محمود چوہدری) مرحوم(نے سیاست میں بہت عزت و مقام پایا۔ وہ صدر ریاست،وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر کے عہدوں پر فائز رہے اور اپنے عہدوں کے ساتھ انصاف کیا اور ان عہدوں کے وقار میں اضافہ کیا۔یہ ایوان ان کی سیاسی و سماجی خدمات پر ان کو خراج عقیدت پیش کرتا ہے۔یہ قرارداد وزیر جنگلات سردار جاویدایوب نے ایوان میں پڑھی۔

مظفرآباد(پی آئی ڈی)04فروری 2026

سابق وزیر اعظم راجہ محمد فاروق حیدر خان نے کہا ہے کہ حکومت پاکستان دفتر خارجہ معروف کشمیری پنڈت رہنما پریم ناتھ کے بیٹے پنڈت بھوشن بزاز کی وفات پربیان جاری کرے۔ قانون ساز اسمبلی کے اجلاس کے دوران اس حوالے سے قرارداد پیش کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ قانون ساز اسمبلی آزاد جموں و کشمیر کا یہ معزز ایوان معروف کشمیری پنڈت رہنما پریم ناتھ کے بیٹے پنڈت بھوشن بزاز کی وفات پر گہرے رنج وغم کا اظہار کرتا ہے۔ آنجہانی ممتاز دانشور مفکر اور سماجی رہنما تھے، جنہوں نے پوری زندگی کشمیر کشمیری شناخت اور کشمیری معاشرے کے لیے بلا امتیاز مذہب و مسلک خدمات انجام دیں۔قرارداد میں کہاگیاکہ آنجہانی بھوشن بزاز کشمیر کی مشتر کہ تہذیب، کشمیریت، باہمی رواداری اور انسانی احترام کے سچے علمبردار تھے۔ وہ ان محدود چند شخصیات میں شامل تھے جنہوں نے نہ صرف نظریاتی طور پر بلکہ عملی طور پر بھی یہ ثابت کیا کہ کشمیر کسی ایک مذہب، قوم یا طبقے کا نہیں بلکہ تمام کشمیریوں کا مشتر کہ وطن ہے۔آنجہانی نے اپنے عظیم باپ کی طرح مکالمے، مفاہمت، جمہوری اقدار اور پر امن سیاسی حل کو ہمیشہ ترجیح دی۔ انہوں نے سخت حالات، گہرے اختلافات اور نازک سیاسی ماحول کے باوجود نفرت کے بجائے گفتگو، تصادم کے بجائے ہم آہنگی اور انتظام کے بجائے انصاف کا راستہ اختیار کیا۔آنجہانی بھوشن بزاز نے کشمیری پنڈت برادری کے ایک ذمہ دار نمائندے کے طور پر بھی یہ مثال قائم کی کہ کسی ایک طبقے کے دکھ کو پورے معاشرے کے دکھ سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ ان کا پیغام واضح تھا کہ کشمیریوں کی عزت، حقوق اور وقار ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں اور ان کی بحالی باہمی احترام اور انصاف کے بغیر ممکن نہیں۔یہ ایوان ان کی ان خدمات کو خراج تحسین پیش کرتا ہے جو انہوں نے بین المذاہب ہم آہنگی، سماجی انصاف، انسانی حقوق اور کشمیر کے پر امن مستقبل کے لیے انجام دیں اور انہیں کشمیر کی تاریخ میں ایک ضمیر کی آواز کے طور پر یا درکھتا ہے۔آنجہانی نے ایسے دور میں جب مسلمانوں بالخصوص کشمیری لیڈروں اور اس میں بھی حریت کی قیادت کے لئے دہلی میں کوئی محفوظ جگہ نہیں تھی، نے اپنے گھر کے دروازے کھلے رکھے تھے۔آنجہانی کے خاندان، احباب، چاہنے والوں کو صبر جمیل دے، اور کشمیر کی سرزمین کو ایسے ہی اہل فکر، اہل مکالمہ اور اہل اخلاص افراد سے سرفراز رکھے۔یہ قرارداد ایوان نے متفقہ طورپر منظور کر لی۔

مظفرآباد(پی آئی ڈی)04فروری 2026

قانون ساز اسمبلی کے اجلاس میں وزیر ہائر ایجوکیشن ظفراقبال کی جانب سے ممتازحریت رہنما یاسین ملک کے حوالے سے پیش کردہ قرارداد کو بھی متفقہ طور پر منظور کر لیاگیا۔ وزیر ہائر ایجوکیشن ظفراقبال ملک کی جانب سے پیش کردہ قرارداد میں کہاگیاکہ قانون ساز اسمبلی آزاد جموں و کشمیر کا یہ اجلاس ممتاز کشمیری رہنماء یاسین ملک کی بھارت کی تہاڑ جیل میں غیر قانونی حراست کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہے۔اس معزز ایوان کی رائے میں یاسین ملک جو کہ عرصہ دراز سے بھارتی حراست میں ہیں اورچونکہ مصدقہ اطلاعات کے مطابق بھارتی حکومت، بھارتی عدلیہ کو ایک آلہ کار کے طور پر استعمال کرتے ہوئے، یاسین ملک کو سزائے موت دلانے کی کوشش کر رہی ہے اور بھارتی حکومت کا یہ اقدام بین الاقوامی انسانی حقوق کے عالمی منشور، جنیوا کنونشنز اور اقوامِ متحدہ کی کشمیر سے متعلق قراردادوں کی صریحاً خلاف ورزی ہے اور کشمیری قیادت کو نشانہ بنانا دراصل کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی جائز، پُرامن اور قانونی جدوجہد کو دبانے کی منظم کوشش ہے اور سیاسی نظریات یا آزادی کی جدوجہد کو سنگین جرائم سے جوڑنا انصاف، شفافیت اور قانون کی بالادستی کے بنیادی اصولوں کے منافی ہے۔ یہ معزز ایوان کشمیری رہنما یاسین ملک کے خلاف ممکنہ سزائے موت کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتا ہے۔بھارتی حکومت سے پُرزور مطالبہ کرتا ہے کہ یاسین ملک کے خلاف تمام عدالتی کارروائیاں فوری طور پر روکی اور ختم کی جائیں۔ یہ ایوان اس بات پر زور دیتا ہے کہ یاسین ملک کو بین الاقوامی قوانین اور منصفانہ عدالتی اصولوں کے مطابق شفاف انصاف فراہم کیا جائے۔یہ ایوان اقوامِ متحدہ، عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں اور بااثر بین الاقوامی اداروں سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ اس سنگین انسانی حقوق کے معاملے پر فوری اور مؤثر مداخلت کریں اور یہ ایوان حکومتِ پاکستان سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ اس معاملے کو سفارتی، قانونی اور بین الاقوامی فورمز پر پوری سنجیدگی اور قوت کے ساتھ اٹھائے۔ یہ ایوان کشمیری عوام اور ان کی قیادت کے جان، وقار اور بنیادی سیاسی حقوق کے تحفظ کے لیے ہر ممکن کردار ادا کر نے کا اعادہ کرتا ہے۔

وزیر ہائر ایجوکیشن ظفراقبال ملک کی جانب سے پیش کردہ ایک اور قرارداد میں کہاگیاکہ اس معزز ایوان کی رائے میں دنیا اس وقت ماحولیاتی تبدیلی (Climate Change) اور گلوبل وارمنگ جیسے سنگین اور ہمہ گیر خطرات سے دوچار ہے اور چونکہ آزاد جموں و کشمیر ماحولیاتی اعتبار سے نہایت حساس خطہ ہے جہاں گلیشیئرز کے تیز رفتار پگھلاؤ، غیر معمولی بارشوں، سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ اور درجہ حرارت میں اضافے کے منفی اثرات مسلسل بڑھ رہے ہیں۔ ماحولیاتی تبدیلی کے یہ اثرات انسانی جانوں، زراعت، آبی وسائل، حیاتیاتی تنوع، تعلیم اور مجموعی معیشت کے لیے شدید خطرہ بن چکے ہیں۔ ماحولیاتی تحفظ اور پائیدار ترقی بین الاقوامی ذمہ داری ہونے کے ساتھ ساتھ ایک قومی اور علاقائی فریضہ بھی ہے۔لہٰذا،یہ ایوانِ ماحولیاتی تبدیلی اور گلوبل وارمنگ کو ایک سنگین عالمی اور علاقائی چیلنج گردانتے ہوئے حکومتِ آزاد جموں و کشمیر سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ جامع اور مؤثر کلائمیٹ ایکشن پالیسی مرتب کرے اور اس پر فوری عملدرآمد یقینی بنائے۔شجرکاری، جنگلات کے تحفظ اور غیر قانونی کٹائی کے مکمل خاتمے کے لیے سخت اور دیرپا اقدامات کی حمایت کرتا ہے اورقابلِ تجدید توانائی (شمسی، آبی اور دیگر ماحول دوست ذرائع) کے فروغ اور کاربن اخراج میں کمی کے لیے عملی اقدامات پر زور دیتا ہے۔ یہ ایوان قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن، ابتدائی وارننگ سسٹمز اور ادارہ جاتی استعداد کو مضبوط بنانے کا مطالبہ کرتا ہے۔تعلیمی اداروں، بالخصوص کالجز اور جامعات میں ماحولیاتی تعلیم، تحقیق اور آگاہی پروگراموں کے فروغ پر زور دیتا ہے اورحکومتِ پاکستان، بین الاقوامی ماحولیاتی اداروں سے تعاون بڑھانے کی اپیل کرتا ہے تاکہ ماحولیاتی فنڈنگ، جدید ٹیکنالوجی اور مہارت تک مؤثر رسائی ممکن ہو۔یہ ایوان آزاد جموں و کشمیر میں ماحولیاتی تحفظ، قدرتی وسائل کے پائیدار استعمال اور آنے والی نسلوں کے محفوظ مستقبل کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن اور ضروری اقدام کرنے کا اعادہ کرتا ہے۔

مظفرآباد(پی آئی ڈی)04فروری 2026

قانون سازاسمبلی کے اجلاس کے دوران ممبر اسمبلی خواجہ فاروق احمد کے سوال پر وزیر بلدیات کی جانب سے ایوان میں پیش کردہ جواب میں کہاگیاکہ میرواعظ مولانا محمد یوسف شاہ کے مزار کے سامنے قبرستان کی دیوار کے ساتھ سابق وزیراعظم سردار تنویرالیاس خان کے احکامات کی روشن میں دیوار مہربانی تعمیر کی گئی جوکہ بعدازاں ختم ہوگئی۔ تعمیر شدہ شیڈ اور مزار کے احاطہ میں رمضان سستا بازار بلدیہ کے زیرانتظام قائم کیا گیا تھا اور متذکرہ شیڈ جوکہ خالی تھا اس بنا پر رمضان میں شیڈ میں سبزی فروٹ و غیرہ لگایا گیاتھا جو کہ اب ختم ہوگیا ہے۔ اگر دیوار مہربانی کی مزید ضرورت نہ ہوئی تو ادارہ تعمیر شدہ شیڈ کو ختم کر دیگا۔

خواجہ فاروق احمد کے ضمنی سوال پر موسٹ سینئر وزیر میاں عبدالوحید نے کہاکہ یقین دلاتا ہوں کہ مشاہیر کے مزارات کے تقدس کو ہر قیمت پر بحال رکھاجائے گا۔

قانون ساز اسمبلی کے اجلاس میں وزیر مواصلات و تعمیرات عامہ سردار ضیاء القمر نے قائد حزب اختلاف خواجہ فاروق احمد کے سوال پر ایوان کو بتایاکہ گزشتہ مالی سال کے دوران ترقیاتی سکیم بعنوان تعمیر بہتر گی ریکنڈیشننگ اینڈ بلیک ٹاپنگ لمبائی 20 کلومیٹر ایل اے۔ 29 ضلع مظفر آباد مورخہ 12.06.2025 کو منظور ہوئی۔ جس کا ٹینڈرمشتہر کیا گیا اور ٹینڈ راو پنگ کی تاریخ 30.06.2025 مقرر کی گئی۔ لیکن عدالت العالیہ کی جانب سے مقدمہ بعنوان ایم ایل جمیل خان وغیرہ بنام آزاد حکومت میں حکم امتناعی جاری ہونے کی وجہ سے ٹینڈر اوپن نہیں ہو سکے۔ اس طرح سکیم بعنوان تعمیر بہتر گی ریکنڈ یشننگ اینڈ بلیک ٹا پنگ آف لنک روڈ ز 10 کلومیٹر ایل اے۔ 29 ضلع مظفر آباد مورخہ 19.06.2025 کو منظور ہوئی۔ ٹینڈ راخبارات میں مشتہر کرنے کے لیے ارسال کیا گیا لیکن مورخہ 26.06.2025 کو عدالت العالیہ میں حکم امتناعی کی وجہ سے ٹینڈر پراسیس روک دیا گیا۔ عدالت العالیہ سے حکم امتناعی کے اخراج کے بعد ہر دو سکیم ہاء کے ٹینڈ رنگ پراسیس کی کارروائی عمل میں لائی جائے گی اور باقاعدہ ورک آرڈر جاری کرتے ہوئے کام کا آغاز کیا جائے گا۔انہوں نے کہاکہ حلقہ ایل اے۔29 کے لیے نیوکشمیر ڈویلپمنٹ پروگرام (NKDP) کے تحت سکیم مورخہ 15.06.2022 کو منظور ہوئی۔ سکیم میں 20 کلومیٹر سڑکا ت شامل ہیں جن میں سے 8.63 کلو میٹر سٹرکات مکمل ہو چکی ہیں جبکہ بقیہ سڑکات پر کام جاری ہے اور اندر معیاد مکمل کر لیا جائے گا۔ تعمیر کشمیر پروگرام کے تحت حلقہ ایل اے۔ 29 کے لیے سکیم مورخہ 03.04.2024 کو منظور ہوئی۔ سکیم میں 24.51 کلو میٹر سڑکا ت شامل ہیں۔ جن میں سے 9.39 کلومیٹر سڑکا ت مکمل ہو چکی ہیں جبکہ بقیہ پر کام جاری ہے اور اندر معیاد مکمل کر لی جائیں گی۔انہوں نے ایوان کو بتایاکہ KDP حلقہ ایل اے 29 کے لیے مالی سال 23-2022 کے دوران 79.927 ملین روپے مالی سال 2023-24 کے دوران مبلغ 118.965 ملین روپے اور مالی سال 25-2024 کے دوران مبلغ 90.660 ملین روپے کل مبلغ 289.552 ملین روپے واگزار کیے جاچکے ہیں۔ جبکہ تعمیر کشمیر پروگرام کے تحت حلقہ ایل اے۔ 29 میں جاریہ سکیم کے لیے مالی سال 25-2024 کے دوران مبلغ 137.664 ملین روپے واگزار کیے گئے۔ اس طرح آزاد کشمیر کے دیگر حلقہ جات کی طرح حلقہ ایل اے 29 میں بھی KDP اور تعمیر کشمیر پروگرام کے تحت جار یہ سکیم ہاء کے لیے فنڈ زواگزار کیے گئے۔ رواں مالی سال 26-2025 میں بھی ایل اے 29 کے لیے KDP میں مبلغ 41.000 ملین روپے اور تعمیر کشمیر پروگرام کی سکیم کے لیے بھی مبلغ 41.000 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں۔

قانون ساز اسمبلی کے اجلاس کے دوران قائد حزب اختلاف شاہ غلام قادر نے تحصیل ہیڈکوارٹرز ہسپتال میں ڈاکٹرز کے تبالے اور متبادل انتظام نہ ہونے بارے توجہ دلاؤ نوٹس پیش کیا جبکہ ممبر اسمبلی خواجہ فاروق احمد نے مظفرآباد میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ بارے توجہ دلاؤ نوٹس پیش کیا۔ان توجہ دلاؤنوٹسز پر موسٹ سینئر وزیر میاں عبدالوحید نے کہاکہ کیل میں ڈاکٹرز کی تعیناتی کے معاملے کو جلد حل کرلیاجائے گا جبکہ بجلی سستی ہونے کی وجہ سے بجلی کا استعمال زیادہ ہوگیا ہے جس کی وجہ سے ٹرانسفارمرز جل رہے ہیں اور لائن لاسز ہورے ہیں اس حوالے سے وفاقی حکومت نے دس ارب روپے کا پیکج دینا ہے جونہی وہ ملتا ہے بجلی کے انفراسٹرکچر کو اپ گریڈ کردیاجائیگا۔ ممبراسمبلی خواجہ فاروق احمد نے کہاکہ سی ایم ایچ مظفرآباد کارڈیک ہسپتال کو ہیلتھ کارڈ پینل ہسپتالوں میں شامل کیاجائے جس پر وزیرقانون نے کہاکہ حکومت ان ہسپتالوں کو ہیلتھ کارڈ پینل میں شامل کریگی۔

مظفرآباد(پی آئی ڈی)04فروری 2026

ڈپٹی سپیکر چوہدری ریاض احمد نے قانون ساز اسمبلی آزادجمو ں وکشمیر کا اجلاس کل مورخہ پانچ فروری 2026کو صبح 09بجے تک ملتوی کر دیا۔

Share This Post

More To Explore