بینک آف خیبر کے زیرِ اہتمام جامعہ کشمیر میں اسلامی بینکاری و فنانس سے متعلق عوامی آگاہی پروگرام منعقد ہوا

بینک آف خیبر کے زیرِ اہتمام جامعہ کشمیر میں اسلامی بینکاری و فنانس سے متعلق عوامی آگاہی پروگرام منعقد ہوا، جس میں طلبہ، اساتذہ، سرکاری افسران، بینکرز اور مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔ پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کنٹری ہیڈ اسلامی بینکاری حلیم خان نے کہا کہ اسلامی بینکاری محض روایتی بینکاری کے نام کی تبدیلی نہیں بلکہ ایک مکمل شریعت پر مبنی مالی نظام ہے، جس میں ہر پروڈکٹ، ہر معاہدہ اور ہر ٹرانزیکشن واضح سیٹ آف پروسیجر کے تحت انجام پاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں اسلامی بینکاری کے نفاذ کے دوران سب سے بڑا مسئلہ آگاہی، تربیت یافتہ ہیومن ریسورس اور شریعت و اکاؤنٹنگ نظام کی عدم تیاری تھا، جس کے باعث مطلوبہ نتائج حاصل نہ ہو سکے، تاہم اب ادارہ جاتی سطح پر ان خامیوں کو دور کیا جا رہا ہے۔ حلیم خان نے تاریخی پس منظر بیان کرتے ہوئے کہا کہ 1980ء کی دہائی میں اسلامی بینکاری کے نفاذ کی کوششیں کی گئیں مگر مناسب تیاری نہ ہونے کے باعث وہ تجربہ کامیاب نہ ہو سکا۔ بعد ازاں سپریم کورٹ آف پاکستان میں سود سے متعلق اہم فیصلے سامنے آئے، جن کی روشنی میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور دیگر اداروں کو اسلامی بینکاری کے لیے مضبوط فریم ورک تیار کرنے کی ہدایت دی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ اب اسلامی بینکاری عالمی سطح پر تسلیم شدہ اصولوں کے مطابق چل رہی ہے، جہاں ہر پروڈکٹ شریعت بورڈ، شریعت آڈٹ اور بین الاقوامی اسلامی مالیاتی اداروں کے معیارات کے مطابق ہوتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلامی بینکاری میں مضاربہ، مشارکہ، اجارہ، سلام اور استصناع جیسے ماڈلز کے ذریعے حلال بنیادوں پر سرمایہ کاری اور فنانسنگ کی جاتی ہے۔ ایریا مینیجر خیبر بینک محمد زاہد خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ اسلامی بینکاری میں کسٹمر کو فنانسنگ دیتے وقت واضح طریقۂ کار اپنایا جاتا ہے، جس میں سود کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی بلکہ شراکت، تجارت یا کرایہ داری کے اصولوں کے تحت لین دین کیا جاتا ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ بینک آف خیبر اسلامی بینکاری کی conversion میں نمایاں کردار ادا کر رہا ہے، جہاں متعدد برانچز اور ونڈوز کو اسلامی نظام میں منتقل کیا جا چکا ہے اور مستقبل میں اس نیٹ ورک کو مزید وسعت دی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں اسلامی بینکاری کا حصہ مسلسل بڑھ رہا ہے اور عوام کا اعتماد اس نظام پر مضبوط ہو رہا ہے۔محمد زاہد خان نے طلبہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی بینکاری ایک ابھرتا ہوا شعبہ ہے جس میں روزگار، تحقیق اور پیشہ ورانہ ترقی کے وسیع مواقع موجود ہیں، تاہم اس کے لیے معیاری تعلیم اور عملی تربیت ناگزیر ہے۔ انہوں نے مختلف مکاتبِ فکر سے متعلق سوالات کے جواب دیتے ہوئے واضح کیا کہ اسلامی بینکاری کسی ایک فقہی مکتب تک محدود نہیں بلکہ تمام بڑے مکاتبِ فکر کے علما شریعت بورڈز میں شامل ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے اسلامی بینکاری کی تمام پروڈکٹس متفقہ شریعت اصولوں کے مطابق ہوتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہر ٹرانزیکشن کی شریعت کے مطابق جانچ پڑتال کی جاتی ہے تاکہ عوام کا سرمایہ محفوظ اور حلال طریقے سے استعمال ہو۔معاذاللہ خان سابق ہیڈ اسلامک بینکنگ بینک آف آزاد جموں وکشمیر نے کہا کہ کشمیر بینک میں اسلامک بینکنگ کے حوالے سے کام جاری ہے، شریعہ بورڈ تشکیل دے دیا گیا ہےاور اسلامک بینکنگ ڈویژن قائم ہو چکا ہے، جدید سافٹ ویئر کی دستیابی کے بعد، جن میں اسلامک بینکنگ ماڈیولز شامل ہیں، جلد ہی بینک میں باقاعدہ اسلامک بینکنگ کے آغاز کی توقع ہے۔ مزید بتایا گیا کہ اسلامک بینکنگ میں سود کے بجائے رسک شیئرنگ کا اصول اپنایا جاتا ہے، جہاں ڈیپازٹر رب المال جبکہ بینک منیجر کے طور پر کام کرتا ہے اور منافع طے شدہ تناسب کے تحت تقسیم کیا جاتا ہے، جو اسلامی اصولوں کے عین مطابق ہے۔

اس موقع پرمحکمہ اطلاعات کے ڈائریکٹر سوشل و ڈیجیٹل میڈیا محمد بشیر مرزا، آفتاب احمد کنٹھ ایچ او ڈی مینجمنٹ سائنسز ڈیپارٹمنٹ، ڈپٹی چیف سٹیٹ بنک نائلہ محبوب، ٹریڈ یونین کے صدر شوکت نواز میر اور بینک آف خیبر مظفرآباد برانچ کی منیجر شگفتہ اقبال بھی موجود تھیں۔ شرکاء نے پروگرام کو معلوماتی اور بروقت قرار دیتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ اس طرح کے آگاہی سیشنز کے ذریعے نہ صرف اسلامی بینکاری سے متعلق غلط فہمیاں دور ہوں گی بلکہ نوجوان نسل کو حلال مالی نظام اپنانے اور اس شعبے میں عملی کردار ادا کرنے کا موقع بھی ملے گا۔

Share This Post

More To Explore