آزاد جموں و کشمیر کلچر اکیڈمی کے زیر اہتمام مادری زبانوں کے عالمی دن کے موقع پر میرپور میں محفل مشاعرہ و سیمینار منعقد ہوا جس میں ممتاز ادیب،شعرا ء اور دانشوروں نے شرکت

آزاد جموں و کشمیر کلچر اکیڈمی کے زیر اہتمام مادری زبانوں کے عالمی دن کے موقع پر میرپور میں محفل مشاعرہ و سیمینار منعقد ہوا جس میں ممتاز ادیب،شعرا ء اور دانشوروں نے شرکت کی۔سیمینار کے مہمان خصوصی ایڈووکیٹ جنرل آزاد کشمیر خواجہ مقبول وار تھے جبکہ صدارت ڈائریکٹر جموں وکشمیر اکیڈمی فیضان عارف مغل نے کی۔دیگر مہمان گرامی میں اسسٹنٹ کمشنر سردار عبدالقادر،پروفیسر ڈاکٹر زبیر احمد قاضی،کونسلر محترمہ شاہ بانو ظفراور ذوالفقار علی اسدسمیت دیگر افراد تھے۔
سیمینار میں مادری زبانوں کے تحفظ اور فروغ دینے کے حوالے سے ادیب،شعراء اور دانشوروں نے کہا کہ” ہماری زبانیں ہماری پہچان” ہیں اس حوالے سے شعراء نے مقامی زبانوں جن میں سیف الملوک،کشمیری،پہاڑی،گوجری،پنجابی اور دیگر زبانوں میں کلام پیش کیا اور مقامی زبانوں کے تحفظ کے حوالے سے جموں و کشمیر کلچر اکیڈمی کی طرف سے  میرپور میں پہلی نوعیت کی تقریب منعقد کرنے کی کارکردگی کو سراہا۔تقریب میں مسٹ یونیورسٹی کی چیئرپرسن پروفیسر ڈاکٹر محترمہ نسیم نثار،سابق ناظم اعلی جنگلات ملک محمد نثار،سابق ڈائریکٹر ریڈیو محمد شکیل،سابق رجسٹرار پروفیسر وارث جرال،پروفیسر امینہ گل،ممتازبینکار آغا شبر،ڈاکٹر محسن شکیل،ڈائریکٹرمیاں محمد بخش لائبریری محمد رزاق،سابق چیئرمین تعلیمی بورڈ پروفیسر ظہیر چوہدری،خواجہ خورشید،پروفیسر چوہدری محمد بشیر،شہزادہ اقبال،قاضی حبیب پیر زادہ،عابد جنجوعہ،یونیورسٹی کے اساتذہ،طلباء و طالبات اور سول سوسائٹی کے نمائندگان نے شرکت کی۔اسٹیج سیکرٹری کے فرائض ایم ایس ڈاکٹر محبوب نے سرانجام دئیے جبکہ ممتاز سکالر ز نے مادری زبانوں کے حوالے سے مقالہ جات پڑھے جس میں مقامی زبانوں کی اہمیت وافادیت، ان کے بولنے سمجھنے کی ضرورت پر سیر حاصل گفتگو کی۔مشاعرہ میں پروفیسر صغیر آسی،مظہر حسن جاوید،مرزا زاہداللہ فہیم،ذوالفقار علی اسد،ملک بشیر مراد،رانا غلام سرور،ساجد محمود طاہر،محمد فاروق اسیر،محترمہ نوشابہ الیاس،محمد فاروق جرال،جاوید الرحمن،ڈاکٹر حسیب،ڈاکٹر خورشید حسن،آفتاب بزمی،جمیل احمد جمیل،عاطف کشمیری،شہباز حبیب عباسی نے اپنے اپنے علاقائی زبانوں کی نمائندگی کرتے ہوئے اشعار پیش کیے اور سامعین سے خوب داد حاصل کی۔مقررین نے اس بات پر زور دیاکہ قاعدے سے پانچویں جماعت تک مقامی زبان میں تعلیم دی جائے تاکہ مقامی زبانوں کے تحفظ کو مزید تقویت مل سکے۔

Share This Post

More To Explore