چیف جسٹس آزاد جموں و کشمیر جسٹس راجہ سعید اکرم خان نے کہاہے کہ بار اور بنچ دونوں لازم و ملزوم ہیں۔آزادکشمیر میں خواتین وکلاء کا بار ایسوسی ایشن میں بڑا رول ہے۔وکیل کا پیشہ بڑا عزت دار اور عظیم پیشہ ہے۔قانون کے شعبہ سے وابستہ وکیل نے ہی مملکت خداداد پاکستان بنائی اس حوالے سے وکلاء کا شمار معاشرے میں بڑی اہمیت کا حامل ہے۔آزادکشمیر میں ہمیشہ بار بنچ کا تعلق مثالی رہا ہے۔بار مضبوط ہوتی ہے تو ججز بھی جرات کے ساتھ فیصلے کرتے ہیں۔میرپور بار آزادکشمیر کی یونیک بار ہے جس نے ہمیشہ اپنی عدلیہ کو بہت عزت دی۔سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشنز کے مسائل اسی طرح دیکھتی ہے جس طرح جوڈیشری کے مسائل کو دیکھتے ہیں۔آزادجموں وکشمیر سپریم کورٹ کی بلڈنگ اسٹیٹ آف آرٹ بنا رہے ہیں۔سپریم کورٹ سرکٹ بنچ میرپور کی نئی عمارت کے لیے حکومت نے 12کنال جگہ دے دی ہے جس پر شایان شان بلڈنگ تعمیر کریں گے۔حکومت کی طرف سے بار ایسوسی ایشن کو ایک ادارہ کے طور پر گرانٹ ملنی چاہیے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے ڈسٹرکٹ بار میرپور کی خواتین وکلاء کے چیمبر کے سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب میں سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس خواجہ محمد نسیم،جج سپریم کورٹ جسٹس رضا علی خان،جج سپریم کورٹ جسٹس محمد یونس طاہر،ہائی کورٹ کے جج جسٹس سردار محمد اعجاز خان،جج ہائی کورٹ جسٹس چوہدری خالد رشید، ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج راجہ فیصل مجید، وائس چیئرمین بار کونسل راجہ ندیم ایڈووکیٹ،ڈسٹرکٹ جوڈیشری،نومنتخب عہدیداران اور وکلاء کی بڑی تعداد موجود تھی۔
قبل ازیں چیف جسٹس آزاد کشمیر جب بار کی تقریب میں پہنچے تو ان نومنتخب صدر بار کامران طارق ایڈووکیٹ نے استقبال کیا۔چیف جسٹس کی آمد پر شرکاء تقریب چیف جسٹس کے احترام میں کھڑے ہوگے اور انہیں پھول پیش کیے۔تقریب سے نومنتخب صدر بار ایسو سی ایشن کامران طارق ایڈووکیٹ نے خطاب کیا۔اسٹیج سیکرٹری کے فرائض سردار فضل رازق ایڈووکیٹ نے سرانجام دیے جبکہ سید شرافت حسین شاہ ایڈووکیٹ نے نعت شریف اورحافظ فضل الرحمان نے تلاوت کلام پاک پیش کی۔
چیف جسٹس آزاد جموں و کشمیر جسٹس راجہ سعید اکرم خان نے کہا کہ آزادکشمیر عدلیہ نے ہمیشہ بولڈ فیصلہ جات کیے ہیں اور ان پر عملدرآمد بھی اسی طرح کروایا جارہا ہے۔ہمارے حلف کا بھی یہی تقاضا ہے کہ فیصلہ کرکے اس پر عملدرآمد بھی کروایا جائے۔سپریم کورٹ کے فیصلہ جات کی وجہ سے میرپور شہر کی حالت بہت بہتر ہورہی ہے چونکہ سپریم کورٹ کے فیصلوں کے پیچھے وکلاء کا بڑا تعاون تھا جس کے باعث مظفرآباد اور میرپور میں تجاوزات کا خاتمہ ہورہا ہے۔انھوں نے کہاکہ ہمارا کوئی شوق نہیں ہے کہ کسی کے اختیارات میں مداخلت کریں۔سپریم کورٹ اپنے فیصلہ جات پر عملدرآمد کروا رہی ہے۔قانون کی حکمرانی کے بغیر کچھ نہیں ہوسکتا۔ آزادکشمیر کی جوڈیشری کمٹیڈ ہے کہ وہ جو بھی فیصلہ کرئے اس پر فوری عملدرآمد بھی ہو۔انھوں نے کہاکہ بار ایسوسی ایشن کو ایک ادارہ کے طور پر ہونا چاہیے چونکہ وکلاء ہی لوگوں کو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی داد رسی کے لیے کھڑے ہوتے ہیں اور عدالتوں سے بھی لوگوں کے حقوق حاصل کرتے ہیں۔خواتین وکلاء کے چیمبر کی تعمیر کے حوالے سے سپریم کورٹ بلڈنگ کمیٹی بھی نظر رکھے گی اور اس طرح خواتین وکلاء کے لیے واش روم بھی بنائے جائیں۔

سپیکر قانون ساز اسمبلی چوہدری طارق فاروق کی زیر صدارت آزادجموں وکشمیر قانو ن ساز اسمبلی کے اجلاس میں سابق وزیرا عظم و ممبر اسمبلی فیصل ممتاز راٹھور،اپوزیشن لیڈر و ممبر اسمبلی چوہدری محمد یاسین،ممبر اسمبلی چوہدری محمد اسماعیل،ممبر اسمبلی سید بازل علی نقوی،ممبر اسمبلی محترمہ سحرش قمر،ممبر اسمبلی چوہدری محمد رخسار،ممبر اسمبلی محترمہ فرزانہ یعقوب کی جانب سے قراردادیں پیش کیں گئیں۔جنہیں متفقہ طور منظور کر لیا گیا۔
سپیکر قانون ساز اسمبلی چوہدری طارق فاروق کی زیر صدارت آزادجموں وکشمیر قانو ن ساز اسمبلی کے اجلاس میں سابق وزیرا عظم و ممبر اسمبلی
