وزیراعظم کے معاون خصوصی اطلاعات ،ماحولیات و سمال انڈسٹریز چوہدری محمد رفیق نیر نے کہا ہے کہ تعلیمی پالیسی کی منظوری وزیراعظم سردار تنویر الیاس خان کا عظیم کارنامہ ہے
وزیراعظم کے معاون خصوصی اطلاعات ،ماحولیات و سمال انڈسٹریز چوہدری محمد رفیق نیر نے کہا ہے کہ تعلیمی پالیسی کی منظوری وزیراعظم سردار تنویر الیاس خان کا عظیم کارنامہ ہے
وزیراعظم کے معاون خصوصی اطلاعات ،ماحولیات و سمال انڈسٹریز چوہدری محمد رفیق نیر نے کہا ہے کہ تعلیمی پالیسی کی منظوری وزیراعظم سردار تنویر الیاس خان کا عظیم کارنامہ ہے ۔وزیراعظم سردار تنویر الیاس خان مرد بحران ہیں انہوں نے تمام تر نامساعد حالات اور مالیاتی بحران کے باوجود عوام کو ریلیف فراہم کیا ہے ۔تحریک انصاف اپنے منشور پر عملدرآمد کر رہی ہے عوام کی فلاح و بہبود کے منصوبے جاری ہیں ۔پنک بس سروس کا اجراء فلاحی ریاست کی جانب اہم قدم ہے خواتین کو سفری سہولت میسر آئے گی ۔ریاست میں صنعتوں کے فروغ کیلیے وزیراعظم کے انقلابی ویژن سے روزگار کے مواقع پیدا ہونگے اور خوشحالی آئے گی ۔معاون خصوصی اطلاعات نے اپنے خصوصی بیان میں کہا کہ تعلیمی پالیسی کی منظوری سے ریاست میں تعلیمی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا ۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم سردار تنویر الیاس خان کی سربراہی میں آزادکشمیر حکومت کو یہ اعزاز حاصل ہوا کہ اسنے پہلی تعلیمی پالیسی دی ۔انہوں نے کہا کہ آزادکشمیر میں 496 معلمین قرآن کی مستقلی اور اپ گریڈیشن کی گئی، ریاست بھر میں ایک سال تک بجلی بلات میں اضافہ نہ کرنے کا تاریخی فیصلہ کیا گیا ،آزادکشمیر بھر سے 6 ہزار خواتین کو باہنر بنا کر خودکفیل بنانے کیلیے کام شروع کر دیا گیا ،خواتین کو بااختیار بنانے کیلیے ضلعی سطح پر خواتین کی نمائیندگی کو یقینی بنا کر ووکیشنل ٹریننگ سینٹر کا قیام کا فیصلہ کیا گیا ،آزادکشمیر کی 75 سال کی تاریخ میں ریکارڈ ٹیکس وصولی ہوئی ،صرف پانچ ماہ میں ریٹرن فائلر کی تعداد 7 ہزار سے بڑھ کر 33 ہزار تک پہنچ چکی ہے جسے بڑھا کر ایک لاکھ تک لے جایا جائے گا ،ریاست میں روزگار کی فراہمی کیلیے نوجوانوں اور خواتین کو قرضہ جات کی فراہمی کیلیے خطیر رقم مختص کی گئی ہے جبکہ مستحق خاندانوں کو سالانہ تین ہزار زکوتہ کے بجائے ماہانہ 3 ہزار روپے کی فراہمی شروع کی گئی ہے مستحق خاندانوں کیلیے جہیز فنڈ کی رقم کو بڑھا کر 11 ہزار سے 60 ہزار روپے مقرر کیا گیا ہے اور تحریک آزادی میں قربانیاں دینے والے عظیم مہاجرین کے ماہانہ گزارہ الاؤنس میں فی کس پندرہ سو روپے کا اضافہ کیا گیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم ریاست کو حقیقی معنوں میں فلاحی ریاست بنانے کے خواہاں ہیں جس کے لئے وہ دن رات ایک کئے ہوے ہیں،آزادکشمیر کے تمام ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز میں 80 فٹ اونچے کھمبوں پر قومی سبز ہلالی پرچم اور ریاستی پرچم لہرائے جا رہے ہیں جبکہ آزادکشمیر میں معیاری تعمیر کے حوالے سے بلڈنگز کوڈز کے مطابق تعمیر اور تمام اضلاع میں آرکیٹیکٹ انجینئرز کی فراہمی کیلیے اقدامات کئے جا رہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ تمام محکمہ جات کو اوورسیز انویسٹمنٹ پالیسی فوری مرتب کرنے کی ہدایت کی گئی ہے جبکہ آزادکشمیر کے تمام شہریوں میں پہلی بار مکانوں اور گلیوں کے نمبرات لگانے کیلیے اقدامات کئے جا رہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ممبران قانون ساز اسمبلی کا سالانہ ترقیاتی فنڈ 50 لاکھ سے بڑھا کر ایک کروڑ پچیس لاکھ کیا گیا ،13 ویں آئینی ترمیم کے بعد کشمیر کونسل کے ممبران کے پاس کوئی فنڈز نہیں تھے موجودہ حکومت نے ان کے فنڈز ممبران اسمبلی کے برابر کر دئیے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ سیاحت کے فروغ اور ذرائع آمدن میں اضافہ کیلیے سرکاری ریسٹ ہاؤسز کی تعمیر کے احکامات جاری کئے گئے ہیں ،موجودہ حکومت نے پبلک مقامات پر سگریٹ نوشی پر پابندی کا بہترین فیصلہ کیا جبکہ سکولوں میں طلباء ہر تشدد پر بھی پابندی لگائی گئی ۔انہوں نے کہا کہ مختلف اضلاع میں پوسٹ کریجویٹ کلاسز شروع کرنے اور سکول و کالجز کی اپ گریڈیشن کیلیے اقدامات کئے گئے ۔انہوں نے کہا کہ صحافت کے فروغ کیلیے پریس فاؤنڈیشن کی فعالی اور جرنلسٹس اکیڈمی کے قیام کیلیے بھی اقدامات کئے گئے ،صحافیوں کیلیے ہاؤسنگ سوسائٹی کا قیام اور ان کے بچوں کو سکالر شپ کی فراہمی کیلیے ٹھوس اقدامات کئے جا رہے ہیں ۔

