جموں وکشمیرلبریشن کمیشن کے زیراہتمام شہداء کشمیر ڈے بڑے جوش وجذبے کے ساتھ منایا گیا۔


جموں وکشمیرلبریشن کمیشن کے زیراہتمام شہداء کشمیر ڈے بڑے جوش وجذبے کے ساتھ منایا گیا۔ اس سلسلہ میں نیشنل پریس کلب اسلام آباد کے باہر احتجاجی مظاہرہ کا انعقاد کیا گیا جس میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے رہنماؤں، سیاسی وسماجی جماعتوں کے زعماء، سول سوسائٹی کے نمائندگان اور نوجوانوں کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔ اس دن کے منانے کا مقصد مقبوضہ جموں وکشمیر کی آزادی کے لیے جانوں کی قربانیاں پیش کرنے والے شہداء کو خراج عقید ت پیش کرنا ہے جن میں محمد مقبول بٹ، سید علی شاہ گیلانی، محمد افضل گورو، برہان مظفر وانی، اشرف خان صحرائی اور شیخ عبدالعزیزسمیت دیگرشامل ہیں۔ مظاہرہ سے کل جماعتی حریت کانفرنس آزادکشمیرشاخ کے کنوینر محموداحمدساغر، سیکرٹری جنرل شیخ عبدالمتین، سیکرٹری کشمیر کاز آرٹس اینڈ لینگویجز اعجاز حسین لون، سیاسی وسماجی رہنما سردارمحمد صدیق، ڈائریکٹرکشمیرلبریشن کمیشن راجہ خان افسرخان، مسلم کانفرنس کے رہنما سردارعاصم عباسی، سابق پولیٹیکل کوآرڈینیٹرصدر آزادکشمیر سردارعثمان، سینئرحریت رہنما گلشن اقبال، زاہد صفی، سینئرصحافی راجہ مہتاب اشرف، راجہ بشیرعثمانی، پیرزادہ افسرخان، مشتاق بٹ، سردارنجیب الغفور خان، انعام الحسن کاشمیری، قاضی عمران اور ملک بشیر نے خطا ب کیا۔ محموداحمد ساغر نے کہا کہ شہداء کی تاریخ 13 جولائی 1931 سے شروع ہوتی ہے جو آج تک ریاست کے حقیقی محافظ رہے، ان کی قربانیاں مثالی ہیں۔ شہداء کو خراج عقیدت پیش کرنے کا مقصد ان کی قربانیوں سے نوجوان نسلوں کو روشناس کروانا ہے اور ان شہداء کے نقش قدم پر چلنے کے عزم کا اعادہ کرنا ہے۔ انھوں نے کہا کہ بھارت مظلوم کشمیریوں پرزبردست مظالم ڈھا رہاہے۔ کشمیری صرف اور صرف اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حق خودارادیت مانگتے ہیں۔ اس حق کی پاداش میں ہی بھارت اب تک لاکھوں کشمیریوں کو شہید کرچکا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہم بھارت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ شہیدمقبول بٹ شہید افضل گورو کے جسدخاکی کشمیریوں کو واپس کرے تاکہ انھیں سرینگر میں دفن کیا جاسکے۔ اعجاز حسین لون نے کہا کہ تحریک آزادی کشمیر پون صدی سے جاری وساری ہے۔ اس راہ میں لاکھوں کشمیری اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرچکے ہیں۔ اب ان کی تیسری اور چوتھی نسل بھارتی ظلم وجبر کے سامنے سینہ سپر ہے۔ وہ اپنے ارادے میں پختہ ہیں۔ ان کی جدوجہد غیرمتزلزل ہے۔ ہم ان کے ساتھ شانہ بشانہ آزادی کی اس جنگ میں شریک ہیں۔ بھارت اگر مزید سوسال بھی ظلم وجبر کو روا رکھے گا تب بھی وہ کشمیریوں کے جذبہ حریت کو کچلنے میں کامیاب نہیں ہوسکتا جبکہ بھارت کی اپنی بربادی نوشتہ دیوار ہے۔ شیخ عبدالمتین نے کہا کہ کشمیری حریت رہنماؤں میں میر واعظ مولوی محمد فاروق، عبدالغنی لون، عبداللہ بنگرو، ذاکر رشید موسیٰ، ڈاکٹر سیف اللہ خلاد، ڈاکٹر سبزہ زار، حماد خان، ہارون عباسی، ریاض احمد نائیکو، زینت الاسلام، ڈاکٹر سبز زار بھٹ، پروفیسر  رفیع بٹ، احسن ڈار، محمد اشرف ڈار، مقبول الائی، احمد حسن، سمیر ٹائیگر، بشیر لشکری، سجاد احمد گلکر، جنید احمد صحرائی، عبدالمنان وانی، محمود غزنوی، غلام رسول ڈار، علی محمد ڈار، انعام اللہ خان، مسعود تانترے، جوہر حیات اور بہت سے دوسرے شامل ہیں جنھوں نے اپنے وطن اور اپنی قوم کی آزادی کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ یہ عظیم شہداء ہیں جن کی زندگی کا ایک ایک لمحہ اپنے لوگوں کی خدمت میں گزرا۔ انھوں نے غاصب فوج کے سامنے کلمہ حق بلند کیا۔ آج کشمیریوں کا بچہ بچہ ان عظیم شہداء کے نقش قدم پر کاربند ہے۔ سردار محمد صدیق نے کہا کہ  بھارت سفاک دشمن ہے جس نے کشمیریوں کوان کی تحریک آزادی سے روکنے اور ازلی پیدائشی حق حق خودارادیت سے محروم رکھنے کے لیے ان کا قتل عام کیا۔ ایک دن بھارت کو عالمی عدالت انصاف کے سامنے جموں و کشمیر میں انسانیت کے خلاف اپنے جنگی جرائم کا جوابدہ ہونا پڑے گا۔ بھارت کی سامراجی حکومت کو تہاڑ جیل میں دفن شہید کشمیری رہنماؤں مقبول بٹ اور افضل گورو کی لاشیں واپس کرنی چاہئیں۔ عالمی برادری کو بھارت کے غیر قانونی طور پر مقبوضہ جموں میں اور نام نہاد جمہوریت کی آڑ میں ڈھائے جانے والے بھارتی مظالم کا نوٹس لینا چاہیے۔زاہدصفی نے کہا کہ بھارت کشمیریوں کے ماروائے عدالت قتل عام میں ملوث ہے۔ مقبوضہ وادی میں انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیاں جاری ہیں۔ نریندر مودی کی جارحانہ اور غاصبانہ پالیسیوں نے کشمیریوں کی زندگیاں اجیرن بنادی ہیں۔ سردارعثمان نے کہا کہ مقبول بٹ، افضل گورو، علی گیلانی اور دیگر شہداء کا لہو کبھی رائیگاں نہیں جائے گا۔ ظلم کی رات طویل سہی لیکن آزادی کا سورج جلد ہی طلوع ہوگا۔ بشیر عثمانی نے کہا کہ اقوام متحدہ اور دیگر مہذب عالمی برادری کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ مقبوضہ جموں وکشمیر میں بھارتی ظلم وستم کو فوری روکنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرے۔ صرف اسی صورت خطے میں قیام امن کا خواب شرمندہ تعبیر ہوسکتا ہے۔

Share This Post

More To Explore