وزیر اعظم آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر سردار تنویر الیاس خان نے کہا ہے کہ ہماری منزل پاکستان ہے،ہندوستان کو پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھے سے پہلے ڈیڑھ کروڑ کشمیریوں کا سامنا کرنا پڑے گا، معاشی طور پر مضبوط اور مستحکم پاکستان بہتر اندار میں کشمیر کی نمائندگی کر سکتا ہے


 وزیر اعظم آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر سردار تنویر الیاس خان نے کہا ہے کہ ہماری منزل پاکستان ہے،ہندوستان کو پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھے سے پہلے ڈیڑھ کروڑ کشمیریوں کا سامنا کرنا پڑے گا، معاشی طور پر مضبوط اور مستحکم پاکستان بہتر اندار میں کشمیر کی نمائندگی کر سکتا ہے، کشمیری گزشتہ سات دہائیوں سے تحریک آزادی کشمیر کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں،اقوام متحدہ اور عالمی دنیا اپنے قراردادوں پر عمل کروائیں، ہمیں تحریک آزادی کشمیر کے حوالے سے روایتی طریقہ کار تبدیل کرنا ہونگے، ہندوستان کی آنکھوں میں آنکھ ڈال کر بات کرنی ہو گی۔پاکستان کی وزارت خارجہ اور سفارتی سطح پر  کشمیری نمائندہ ہونا چاہیے تاکہ پوری دنیا کو بھارت کا مکروہ  چہرہ دیکھا یاجا  سکے۔ان خیالات کا اظہار  وزیراعظم آزادکشمیر نے ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ وزیراعظم آزادکشمیر سردارتنویر الیاس خان نے کہا کہ حال ہی میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اور مختلف ممالک کے سفیروں نے آزاد کشمیر کا دورہ کیا اور آزاد کشمیر کی خصوصی حیثیت کو تسلیم کرتے ہوئے اس خطہ کو آزاد کشمیر سے پکارا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ہر دور میں سفارتی سطح پر کشمیریوں کی بھرپور نمائندگی کی مسئلہ کشمیر کے حوالے سے پاکستان کا موقف دو ٹوک رہاہے،ہندوستان  طاقت کے بل بوتے پر مقبوضہ کشمیر  پرقابض ہے۔ آئے روز مقبوضہ کشمیر کے اندر نہتے کشمیریوں کو شہید کیا جاتا ہے۔انہوں نے کہاکہ 05 اگست2019 کو  مودی سرکار نے آرٹیکل 370 اور 35A کے خاتمے کے بعد مقبوضہ کشمیر کی  ڈیموگرافی تبدیل کرنے کیلئے مکروہ اقدام کررہا ہے  اور مسلم اکثریت والے علاقوں میں ریٹائرڈ انڈین فوجیوں کو ڈومیسائل جاری کیے جارہے ہیں  تاکہ ان  علاقوں کو  اقلیت میں تبدیل کیا جا سکے۔وزیراعظم آزادکشمیر نے کہاکہ  ہندوستان کے تمام تر ہتھکنڈوں کے باجود مقبوضہ جموں وکشمیر کے عوام تحریک آزادی کشمیر کو جاری رکھے ہوئے اور  الحاق پاکستان کے خواہاں ہیں۔انہوں نے کہاکہ  آزاد ریاست جموں و کشمیر کے لوگ اپنی پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔

Share This Post

More To Explore