میرپور(پی آئی ڈی)05 فروری 2023ء
ضلع میرپورمیں یوم یکجہتی کشمیر بھرپورجوش وجذبے،ملی بیداری اور اس عہد کی تجدید کے ساتھ منایاگیا کہ کشمیری اور پاکستانی ایک جان دوقلب ہیں جنھیں دنیاکی کوئی طاقت جدانہیں کرسکتی۔ یوم یکجہتی کشمیرکے سلسلہ میں سب سے بڑی تقریب پاکستان اور آزادکشمیر کوملانے والے منگلا پل کے سنگم پرمنعقد ہوئی جہاں پاکستان اور آزادکشمیر کی طرف سے سیاسی و سماجی،مذہبی جماعتوں،انجمن تاجرں،وکلاء،چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز،سرکاری ملازمین،صحافیوں،پبلک و پرائیویٹ سکولوں اور کالجوں کے طلباء و اساتذہ، ٹرانسپورٹرز، شہر ی دفاع کے رضاکاروں سمیت زندگی کے ہر مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے ہزاروں افرادموجودتھے۔یوم یکجہتی کشمیرکے موقع پر منگلا پل پرٹھیک10.00 بجے سائرن بجائے گے اور ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گی جس کے بعددینہ جہلم اور میرپور آزادکشمیرکے عوام نے ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر انسانی زنجیر بنائی۔اس موقع پرشرکاء نے کشمیربنے گاپاکستان، پاکستان سے رشتہ کیالاالہ اللہ، ہم ہیں پاکستانی پاکستان ہماراہے، بھارتی غاصبوچھوڑدوکشمیرکو، تحریک آزادی کشمیرزندہ باد کے فلک شگاف نعرے لگارہے تھے۔قبل ازیں اسسٹنٹ کمشنر دینہ محمد فاروق نے پاکستان کاقومی پرچم کمشنرمیرپورڈویژن چوہدری شوکت علی کو پیش کیا اور ڈپٹی کمشنر چوہدری امجد اقبال نے آزادکشمیرکاقومی پرچم اسسٹنٹ کمشنر دینہ کو دیا اور ایک دوسرے کو پھول پیش کیے۔ ڈپٹی کمشنر چوہدری امجد اقبال نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ آج کے دن پوری پاکستانی اور کشمیری قوم اس بات کا اعادہ کرتی ہے جب تک مقبوضہ ریاست جموں وکشمیر بھارت کے پنجہ استبداد سے آزاد نہیں ہوجاتا اس وقت تک تحریک آزادی کشمیر کی جدوجہد آزادی اور کشمیریوں کے نصب العین حق خودارادیت کے حصول کے لیے کسی قربانی سے دریغ نہیں کیا جائے گا۔ اس موقع پر کمشنرچوہدری چوہدری شوکت علی، قائمقام ڈی آئی جی پولیس راجہ عرفان سلیم،ڈپٹی کمشنر چوہدری امجد اقبال، پی ٹی آئی کے مرکزی راہنما چوہدری ظفر انور،ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل چوہدری یاسر ریاض،اسسٹنٹ کمشنر دینہ محمد فاروق،اسسٹنٹ کمشنرمیرپور سردار عبدالقادر جماعت اسلامی کے ضلعی امیر ڈاکٹر محمد ریاض، محمد زکریہ ایوب،مسلم کانفرنس کے مرکزی راہنما راجہ ظفرمعروف،ایم ڈی طاہر جرال،، ایم ایس ڈاکٹر عامرعزیز،، ڈی ای او چوہدری نثار احمد،پرائیویٹ سکولز ایسوسی ایشن کے مرزا وجاہت بیگ،چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کے صدر سید صابر حسین شاہ، انجمن تاجراں کے سہیل شجاع مجاہد، راجہ خالد، چوہدری محمود،چوہدری محمد نعیم، ڈویژنل انفارمیشن آفیسر محمد جاوید،ملازمین تنظیموں کے راجہ رشید، مسعود راٹھور،قیصر شیراز کاظمی،راشد بزمی سمیت زندگی کے ہر مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے ہزاروں افراد نے شرکت کی۔اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر سردار عبدالقادرنے مختلف قراردادیں پیش کیں جن میں اقوام عالم پر واضع کیا گیا کہ کشمیری اور پاکستانی جن لازوال رشتوں میں بندھے ہوئے ہیں انہیں دنیا کی کوئی طاقت جدا نہیں کرسکتی۔ لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف اور دنیا بھر میں یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر پاکستان و آزاد کشمیر کے عوام اور حکومتیں اس بات کا اعادہ کرتی ہیں کہ بھارت کے زیر قبضہ مقبوضہ ریاست جموں و کشمیر کے عوام کی آزادی کی تحریک کی سیاسی،سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھیں گے۔ مقبوضہ کشمیر میں جد وجہد حریت میں مصروف عمل کشمیری عوام کے ساتھ بھرپور یکجہتی کا اظہار کیا گیا۔ایک اور قرارداد میں مقبوضہ کشمیر کے عوام پر بھارت کی طرف سے ڈھائے جانے والے انسانیت سوزمظالم کی بھرپور مذمت کرتے ہوئے اقوام متحدہ اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیاکہ وہ مقبوضہ کشمیر کے عوام پر ڈھائے جانے والے انسانیت سوز مظالم بند کروائیں۔ایک اور قرارداد میں کہا گیا کہ بھارت کوجمہوریہ اور سیکولرریاست کہلانے کاکوئی حق نہیں ہے۔ بھارت کے اندر تمام مذہبی اقلیتوں کے حقوق بری طرح استحصال کیا جارہاہے اور بالخصوص مسلمانوں کو ظلم وجبر کا نشانہ بنایا جا رہاہے جس کی بھرپور مذمت کی گی۔ایک اور قرارداد میں عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ اقوام متحدہ کی قراردادیں جوسلامتی کونسل کے کمیشن یواین سی آئی پی برائے پاک وہند نے 13 اگست 1948 اور 05 جنوری 1949 کوپاس کی ہیں کی روشنی میں ان کاتسلیم شدہ حق خودارادیت دلوانے میں اپنا کردار ادا کریں۔ایک اور قرارداد میں بھارت کی طرف سے آرٹیکل 370 اور 35A کے خاتمہ سے کشمیرکی خصوصی حیثیت ختم کرنے اور مقبوضہ کشمیر کی مسلم اکثریت کی آبادی کے تناسب کوتبدیل کرنے کے اقدامات کی پرزورمذمت کی گئی۔ایک اور قرارداد میں حریت کانفرنس کے قائدین سمیت حریت پسند سرکردہ کشمیری سیاستدانوں اور عوام کی نظربندیوں،گرفتاریوں، حق خودارادیت کی جدوجہد کرنے والے شہریوں پرمقدمات قائم کرنے،ان کو پابند سلاسل کرنے، اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں کی ٹارگٹ کلنگ اور جعلی مقابلوں جیسے واقعات کی بھی بھرپورمذمت کی گئی۔ایک اور قرارداد میں اس عزم کااظہارکیا گیا کہ پوری کشمیری قوم مسئلہ کشمیرپرمتحد اور منظم ہے اور مقبوضہ کشمیرکی آزادی اور اس کے پاکستان سے الحاق کے لیے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرے گی۔ایک اور قرارداد میں تحریک آزادی میں شہید اور زخمی ہونے والوں کی قربانیوں کے جذبہ کو سلام پیش کرتے ہوئے تحریک آزادی کشمیر کی جلد کامیابی،پاکستان کی سلامتی،ترقی اور خوشحالی کے لئے ہر قسم کی قربانی دینے کا اعادہ کیا گیا۔تقریب کے آخر میں تحریک آزادی کشمیر کی جلد کامیابی پاکستان کی ترقی و استحکام، مسلح افواج پاکستان کی طرف سے دفاعی خدمات اور امت مسلمہ کی سربلندی کے لیے دعائیں کیں گی۔

