آزادجموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے سپیکر چوہدری لطیف اکبر نے کہا ہے کہ حریت رہنماء یسین ملک جرات ،استقامت اور ہمت کا وہ استعارہ ہیں جنہیں بھارت تمام تر مکروہ حربوں کے باوجود دبانے میں ناکام رہا ہے ۔کشمیر کے حوالے سے پالیسی میں تسلسل کی ضرورت ہے ۔5 اگست 2025 کو قانون ساز اسمبلی کے اجلاس میں کشمیر کے حوالے سے ارکان پر مشتمل خصوصی کمیٹی تشکیل دی گئی جو پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں ،قومی اسمبلی ،سینٹ ،چاروں صوبائی اسمبلیوں اور گلگت بلتستان کے ارکان اسمبلی سے روابط قائم کر کے consensus پیدا کرے گی ۔انہوں نے ان خیالات کا اظہار اسلام آباد میں سیو یسین ملک کانفرنس سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوے کیا ۔اس موقع پر سابق وزیراعظم آزادکشمیر راجہ محمد فاروق حیدر خان ،سابق وزیراعظم سردار عتیق احمد خان ،کنونئر حریت کانفرنس غلام محمد صفی ،انٹرنیشنل پیس فورم کی چیئرپرسن مشعال حسین ملک ،سینیر صحافی و اینکر پرسن حامد میر و دیگر بھی موجود تھے ۔سپیکر قانون ساز اسمبلی نے کہا کہ یسین ملک نے تحریک آزادی کشمیر میں فعال کردار ادا کیا اور بھارت کے ظلم و جبر کے سامنے جھکنے سے انکار کر دیا وہ مقبوضہ کشمیر پر بھارتی غیر قانونی تسلط کے خلاف ننگی تلوار ہیں ۔انہوں نے کہا کہ یسین ملک کو تہاڑ جیل کے ڈیتھ سیل میں قید رکھا گیا ہے اور انہیں ایک جعلی مقدمے میں سزائے موت سنائی گئی ہے بھارت اس جرات مند حریت رہنماء کو پھانسی دینا چاہتا ہے جس کیلیے اسنے تمام تیاریاں مکمل کر رکھی ہیں میری انسانی حقوق کی تمام تنظیموں اور بین الاقوامی برادری سے اپیل ہے کہ وہ اسیر حریت رہنماء یسین ملک کو بھارت کی جانب سے جعلی اور فرضی مقدمے میں سزائے موت کا نوٹس لیں اور ان کی رہائی کیلیے اقدامات کریں ۔انہوں نے کہا کہ مسلسل قید کی وجہ سے یسین ملک کی صحت مسلسل گر رہی ہے انٹرنیشنل کمیونٹی انہیں علاج معالجے کی سہولتیں بہم پہنچانے کیلیے بھارت پر دباؤ ڈالے ۔سپیکر قانون ساز اسمبلی نے کہا کہ بطور سپیکر یسین ملک کی بیٹی رضیہ سلطانہ کو قانون ساز اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کی دعوت دی جس کی ماضی میں کوئی نظیر نہیں ملتی قانون ساز اسمبلی کے اجلاس سے صرف پاکستان کے صدر یا وزیراعظم خطاب کر سکتے ہیں یہ یسین ملک کے ساتھ ہماری محبت ہے ۔انہوں نے کہا کہ مجھے یہ اعزاز حاصل ہے کہ میں نے دو مرتبہ جموں اور سرینگر کا دورہ کیا میری اس دوران کشمیری قیادت سے ملاقاتیں ہوئیں سید علی گیلانی سے ملا محبوبہ مفتی سے بھی ملاقات ہوئی ،یسین ملک کے گھر گیا وہاں کھانا کھایا ۔انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں ہماری مائیں ،بہنیں ،بیٹے ،بیٹیاں جو قربانیاں دے رہے ہیں وہ ناقابل بیان ہیں ان کے درد کو زائد ہم اس طرح محسوس نہیں کر سکتے جس طرح حریت کے ہمارے لوگ محسوس کرتے ہیں کیونکہ ان کا ڈائریکٹ رشتہ ہے کسی کی بہن وہاں ہے کسی کا بھائی وہاں ہے کسی کا بھتیجا وہاں ہے کسی کا بھانجا وہاں ہے ،بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی تمام لیڈر شپ کو پابند سلاسل کر رکھا ہے حتی کہ چوتھے درجے کی لیڈر شپ بھی قید ہے ۔انہوں نے کہا کہ اس سب کے تناظر میں ہمیں ایسی حکمت عملی وضح کرنا ہو گی تاکہ ہم مقبوضہ کشمیر کے لوگوں کی آواز بن سکیں اور انہیں آزادی دلوا سکیں ۔ مقررین نے تحریک آزادی کشمیر میں یسین ملک کی قربانیوں اور جرات کو سراہا اور کہا کہ بھارت یسین ملک کو فوری رہا کرے اور انہیں بہترین طبی سہولتیں فراہم کرے

سپیکر قانون ساز اسمبلی چوہدری طارق فاروق کی زیر صدارت آزادجموں وکشمیر قانو ن ساز اسمبلی کے اجلاس میں سابق وزیرا عظم و ممبر اسمبلی فیصل ممتاز راٹھور،اپوزیشن لیڈر و ممبر اسمبلی چوہدری محمد یاسین،ممبر اسمبلی چوہدری محمد اسماعیل،ممبر اسمبلی سید بازل علی نقوی،ممبر اسمبلی محترمہ سحرش قمر،ممبر اسمبلی چوہدری محمد رخسار،ممبر اسمبلی محترمہ فرزانہ یعقوب کی جانب سے قراردادیں پیش کیں گئیں۔جنہیں متفقہ طور منظور کر لیا گیا۔
سپیکر قانون ساز اسمبلی چوہدری طارق فاروق کی زیر صدارت آزادجموں وکشمیر قانو ن ساز اسمبلی کے اجلاس میں سابق وزیرا عظم و ممبر اسمبلی
