محکمہ اینٹی کرپشن آزادکشمیر نے دھوکہ دہی اور فراڈ ثابت ہونے پر ماسٹر محمد اکرم ولد چوہدری عبداللہ ساکنہ جنگیاں کوٹلہ حال تعینات گورنمنٹ ہائی سکول جنگیاں کوٹلہ ضلع میرپور کے خلاف کارروائی کے لیے ایس ایس پی پولیس میرپور کو مکتوب لکھ دیا۔محکمہ اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ آزادحکومت ریاست جموںوکشمیر سے جاری ہونے والی پریس ریلیز کے مطابق
منیز اختر دختر منشی خان زوجہ محمد حسین ساکنہ جنگیاں تحصیل و ضلع میر پور آزاد کشمیر نے تحریری درخواست محکمہ اپنی کرپشن میں بذیل مضمون دی کہ “سائلہ کا خاوند سائلہ کی جانب سے مختار عام مقرر ہے ۔ سائلہ کے خاوند نے اپنے دو بیٹوں ( علی حمزہ، حسنین ) کو رقبه تعدادی 2 کنال نمبر خسرہ 437 سے ہبہ کر کے دیا۔ مسمی محمد اکرم نے سائلہ کے بیٹوں سے متذکر ہ رقبہ کے ساتھ تبادلہ کیا اور نمبر خسرہ 494/515,434/438 سے رقبہ تعدادی 2 کنال کا تبادلہ سائلہ کے بیٹوں کے ساتھ کرنا طے پایا تھا۔ سائلہ کے بیٹے پڑھنا لکھنا نہیں جانتے ہیں ۔ سائلہ کے بیٹے ان پڑھ ہیں ماسٹر محمد اکرم جو کہ پڑھا لکھا اور سکول ٹیچر ہے اور ایک نمبر کا نوسر باز اور فراڈیا ہے۔ اس نے دھوکہ دہی اور فراڈ کرتے ہوئے محکمہ مال کے ملازمین سے ملی بھگت کر کے سائلہ کے بیٹوں سے 2 کنال رقبہ بطور تبادلہ اپنے نام کروالیا اور سائلہ کے بیٹوں کو تبادلہ میں 7 مرلے رقبہ دیا جس کا قبضہ ابھی تک سائلہ کے بیٹوں کو نہیں دیا گیا جبکہ تبادلہ میں سائلہ کے بیٹوں کے ساتھ طے ہوا تھا کہ 2 کنال کے تبادلہ میں 2 کنال ہی دی جائی گی مگر ماسٹر محمد اکرم نے دھوکہ دہی اور فراڈ سے سائلہ کے ان پڑھ بیٹوں سے 2 کنال زمین اپنے نام تبادلہ کر والی اور تبادلہ میں صرف 7 مرلے رقبہ دیا۔ ماسٹر محمد اکرم کے سسر محمد صدیق ولد نور ماہی ساکنہ جنگیاں کو ٹلہ نے سائلہ کو نمبرات خسرہ 525/494 سے رقبہ تعدادی 4 مرلے کی بیان حلفی دی کہ وہ حصہ سائلہ سے لینے کا مجاز نہیں ہوگا جبکہ محمد اکرم جو محمد صدیق کا مختار عام ہے نے اس رقبہ سے محکمہ مال کے ملازمین سے ملی بھگت کر کے سائلہ کے بیٹوں کے نام تبادلہ کیا جو کہ ایک فراڈ اور دھوکہ ہے ۔ سائلہ کی بہو غلام فاطمہ کی جانب سے ماسٹر محمد اکرم وغیرہ کے خلاف عدالت سینئر سول کورٹ میر پور میں کیس دائر کر رکھا تھا دوران سماعت کیس ماسٹر محمد اکرم نے سائلہ کی بہو کی والدہ کنیز فاطمہ جو سال 2015-06-06 کو فوت ہو گئی جس کا ماسٹر محمد اکرم نے ملی بھگت سے جعلی ڈیتھ سرٹیفکیٹ ایٹ مورخہ 2015-12-06 کو جاری کروالیا ۔ ماسٹر محمد اکرم جو کہ دھو کہ باز ، مکار اور ایک نمبر کا فراڈیا ہے نے مذکوریہ کی وفات کے بعد جعلی انگوٹھے لگا کر مختار عام جاری کروالیا اور جعلسازی سے
مورخہ 2015-11-14 کو 6 کنال رقبہ اپنے نام کروالیا۔ متوفیہ کنیز بی بی کا اصل ڈیتھ سرٹیفکیٹ جو متوفیہ کے خاوند نے جاری کروایا ہے وہ لف درخواست ہے ۔ متوفیہ کنیز بی بی مورخہ 2015-06-06 کو فوت ہوئی تھی ثبوت کے طور پر سائلہ قبر کی فوٹو اور گواہان دینے کو تیار ہے اور بیان حلفی کی کا پیاں جو کہ محلے داروں کی ہیں لف درخواست ہیں۔ کنیز بی بی سائلہ کی چچازاد بہن اور سائلہ کی بہو غلام فاطمہ دختر محمد خان متوفیہ کی سگی بیٹی ہے اس لیے بھی سائلہ اور سائلہ کی بہو مذکورہ کی تاریخ وفات درست بتا سکتی ہیں۔ متوفیہ کنیز بی بی زوجہ محمد خان سرائے عالمگیر محلہ نئی آبادی انوار محمدی مسجد میں فوت ہو ئیں اور وہاں پر ہی دفن ہوئی بجائے سرائے عالمگیر بلد یہ سے ڈیتھ سرٹیفکیٹ جاری کرواتے گوجرنوالہ سے جاری کر وایا اس سے بھی ان کا فراڈ اور دھوکہ دہی ثابت ہو جاتی ہے۔ لہذا استدعا ہے کہ ماسٹر محمد اکرم کے خلاف کارروائی تحت ضابطہ عمل میں لائی جائے اور سائلہ کی دادرسی کی جائے۔سائلہ کی شکایت محکمہ ہذا میں موصول ہونے پر تحت ضابطہ انکوائری عمل میں لائی گئی۔ بروئے تحقیقات چھان بین ماسٹر محمد اکرم جو کہ مسماۃ عاشاں بی بی بیوہ محمد عالم، ذوالفقار احمد ، جاوید اقبال پسر ان کنیز بی بی زوجہ محمد خان ، سبیل کوثر زوجه غلام رسول، ر و بینه کوثر دختران محمد عالم کا مختار عام مقرر تھا ۔ کنیزبی بی کی وفات کے بعد مختار عام استعمال کرتے ہوئے فرد انتخاب جاری کروایا اور شاکیہ کے پسران سے رقبہ کا تبادلہ کروایا اور سائلہ کے پسر ان کا حصہ لے لیا اور محمد صدیق جو کہ اکرم کا ماموں اور سسر ہے کا رقبہ تبادلہ کے طور پر نہ دیا۔ شاکیہ اور مسئولان کے درمیان زمین کا تنازعہ کا معاملہ اور جعلی ڈیتھ سرٹیفکیٹ از اں کنیز بی بی جو ضلع گوجرانوالہ سے جاری ہونا پایا گیا ہے جو مسماۃ عاشاں والدہ کنیزبی بی نے جاری کر وایا ۔ مطابق شناخته /کتبہ قبر مسماۃ کنیزبی بی مورخہ 2015-06-06 کو فوت ہونا پائی گئی ۔ سرائے عالمگیر سے جاری شدہ ڈریتھ سرٹیفکیٹ میں بھی مذکوریہ کی تاریخ وفات مطابق قطبہ قبر مورخہ 2015-06-06 ہی درج ہے جبکہ ڈیتھ سرٹیکفیٹ اجراء شدہ گوجرانوالہ میں تاریخ وفات 06 دسمبر 2015 جس پربوگس اور جعلی ہونے کی تصدیق بھی ہے جبکہ بیج نامہ پر 14-11-2015 تاریخ درج ہے جس سے عیاں ہوتا ہے کہ مسماۃ کنیز بی بی کے فوت ہونے کے بعد اس کے مختار عام ماسٹر محمد اکرم نے اس کی جانب سے بیع نامہ تحریر و تکمیل کرایا ہے ۔ شکایت ہذا میں الزامات محکمہ مال کے خلاف ثابت نہ ہوتے ہیں ماسٹر محمد اکرم اگر چہ ملازم سرکار ہے مگر مذکور نے بحیثیت سرکاری ملازم اختیارات کا ناجائز استعمال نہ کیا ہے لیکن مذکور Beneficiary ہے اور معاملہ ہذا میں مذکور کی جعلسازی ثابت ہے۔ پریس ریلیز کے مطابق ملاحظہ ریکارڈ مال و دریافت سائلہ مسئولان سے پایا گیا کہ معاملہ ہذا میں محکمہ مال کا کوئی ملازم ملوث ہونا ثابت نہ ہے۔ ماسٹر محمد اکرم اگر چہ ملازم سرکا ر ہے مذکور نے بحیثیت سرکاری ملازم اختیارات کا ناجائز استعمال نہ کیا ہے بدیں وجہ محکمہ اینٹی کرپشن کی سطح پر کارروائی کی جانا ممکن نہ ہے ۔ تاہم دوران انکوائری ماسٹر محمد اکرم ولد چوہدری عبداللہ ساکنہ جنگیاں کو ٹلہ حال تعینات گورنمنٹ ہائی سکول جنگیاں کوٹلہ کی جعلسازی ، دھوکہ دہی اور فراڈ ثابت ہے جس کے خلاف کارروائی کا اختیار مقامی پولیس کو حاصل ہے۔
لہذا حسب ہدایت بذریعہ مکتوب ہذا تحریر خدمت ہے کہ ماسٹر محمد اکرم مذکور کے خلاف تحت ضابطہ کارروائی عمل میں لائی جا کر نتیجه کار روائی سےبمنشاقاعدہ 15 ذیلی قاعدہ (b) اینٹی کرپشن اسٹیبلیشمنٹ رولز1997 محکمہ ہذا کو مطلع فرما ئیں نیز دوران تفتیش اگر کوئی سرکاری ملازم معاملہ ہذا میں ملوث پایا گیا تو مقدمہ کی تفتیش تحت ضابطہ محکمہ اپنی کرپشن کو منتقل کی جاسکتی ہے۔

