وزیراعظم آزادحکومت ریاست جموں وکشمیر چوہدری انوارالحق نے کہا ہے کہ ہم نے بجٹ میں پسند اور ناپسند کی تفریق ختم کردی ،فنڈز کی تقسیم میں حکومتی اور اپوزیشن اراکین میں کوئی تفریق نہیں ۔ اللّہ تعالیٰ کو حاضر ناضر جان کر کہتا ہوں یہاں وسائل کی کمی نہیں ہے ، وسائل اگر تعصبات سے ہٹ کر خرچ کریں گے تو مسائل کا خاتمہ ہو جائے گا ، موجودہ بجٹ ٹیکس فری اور خسارے کے بغیر ہے ، ہم نے بددیانتی کا خاتمہ کردیا ہے ، اطمینان ہے کہ موجودہ حکومت نے نوجوان نسل کی امید کو زندہ کردیا گیا ہے ، سستی بجلی اور آٹے سے ہونے والے خسارے کے باوجود موجودہ حکومت اپنے عوام کیلئے ہیلتھ کارڈ کا اجراء اور تعلیمی پیکج لارہی ہے ، یہ ہماری کارکردگی اور کامیابی ہے ۔خاکی خون میں نہاتی ہے تو ہم چین کی نیند سوتے ہیں معرکہ حق میں مملکت خدادا پاکستان کی مسلح افواج کے سربراہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے ہمت ، جرآت اور استقامت کے ساتھ بھارت کو جو سبق دیا وہ ساری زندگی یاد رکھے گا۔ ہندوستانی جارحیت کے بعد ہمارے شاہینوں نے 72 گھنٹوں میں دشمن کو اس کی فضاؤں میں گھس کر مارا ۔ میں نے کہا تھا کہ اگر بھارت نے پاکستان میں دہشتگردی کی کوشش کی تواسکو گھس کر ماریں گے اور دنیا نے دیکھا کہ کیسے ہمارے شاہینوں نے دن کی روشنی میں دشمن کو اسکے گھر میں گھس کر مارا۔ ایران اسرائیل جنگ میں پاکستان کا کردار شاندار رہا، ایران مسلم ملک ہے اور یہود کو وہم تھا کہ تفرقہ ہوگا لیکن پاکستان نے فرقہ پرستی کی یہود کی سازش کو ناکام بنایا ، مضبوط ،مستحکم اور روشن پاکستان تحریک آزادی کشمیر کی کامیابی کی ضمانت ہے ، پاکستان مسلم دنیا کے ماتھے کا جھومر ہے ، موجودہ حکومت کی ترجیح ہیلتھ اور ایجوکیشن کو بہتر بنانا ہے ، پہلی بار ہیلتھ کے لیے آزادکشمیر کی تاریخ میں 6ارب روپے مختص کیے گئے ہیں ، 500 کلو میٹر بین الاضلاعی سڑکات کی تعمیر یا ری کنڈیشننگ کی جائیگی۔ ہمیں میرٹ کو فوقیت دینی ہے اور انصاف کا بول بالا کرنا ہے ، حکومت کی کامیابی کا کریڈٹ وزراء کو جاتا ہے، ہمیں تحریک آزادی کشمیر کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے سیاسی اخلاقی اور سفارتی حمایت سے آگے جانا ہے۔ تمام تر مشکلات کے باوجود اللّہ پاک نے میری حکومت کو سرخرو کیا ، تحریک آزادی کشمیر اور نظریہ الحاق پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں ، تحریک آزادی کشمیر کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائیں گے۔بجٹ میں پریس فاونڈیشن اور بار کونسلز کیلئے گرانٹ بڑھائی گئی ہے ، آزادجموں وکشمیر بینک کو شیڈول بینک بنانے جارہے ہیں ، پولیس میں 1300 سے زائد آسامیاں تخلیق کی ہیں، نوجوانوں کی فنی کی تربیت فراہمی اور بلاسود قرضے دیے جائیں گے ۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے آزادجموں وکشمیر قانون ساز اسمبلی میں فنانس ایکٹ 2025 کی منظوری کے بعد اظہار خیال کرتے ہوئے کیا۔ وزیراعظم آزادکشمیر نے کہاکہ اللہ کا شکر ادا کریں کہ پاک فوج کی قربانیوں سے نظام چل رہا ہے ، ہمیں اپنی نظریاتی سرحدوں کا تحفظ کرنا ہے ، الحمد اللہ پچھلے بجٹ کے اعدادوشمار یکھ لیں ، ،موازنہ کرلیں کہ ہم نے بجٹ میں کچھ نہیں چھپایا ، تین روپے بجلی دو ہزار روپے من آٹا دیا تو کہا گیا کہ نظام تباہ ہو جائے گا ، انسانی سوچ و فکر میں رہتے ہوئے بدنیتی اور بددیانتی کا خاتمہ کیا ہے ۔ اللّہ کے فضل و کرم سے 19 ارب روپے کے خسارہ کے باوجود موجودہ بجٹ زیرو بیلنسنگ پر بند کیا ہے ، اس کا مطلب ہے کہ یہ سب کچھ خودانحصاری کی بدولت کیا گیا ہے ، ہم نے نظام کو درست کرنا تھا جس کے لیے وقت چاہیے تھا ، پچھلے بجٹ میں سب سے پہلے میں نے پرائم منسٹر سیکرٹیریٹ کا ریکرینگ بجٹ سرنڈر کیا ، فقط 3 افراد پر مشتمل ٹیم سے پی ایم آفس کا نظام چل رہا ہے ، وزیراعظم اور وزراء نے بھی اپنے ریکرینگ بجٹ پر کٹ لگائے ،پارلیمانی پارٹی میں وزراء نے کہا کہ آپ کی ایک تقلید کرتے ہوئے ہمیں بھی اپنی وزارتوں کو پری آڈٹ کروانا ہے ، سپریم کورٹ کے حکم پر فوڈ ٹیسٹنگ لیبز کا قیام عمل میں لایا گیا ہے ، موجودہ حکومت کی خواہش اور کوشش ہے کہ نظام کو مزید مؤثر بنانے کے لیے تینوں ڈویژنز کی فوڈ ٹیسٹنگ لیبارٹریز کا قیام عمل میں لایا جائے، واٹر سپلائی سکیموں کے لیے 12ارب روپے اور پی پی ایچ کے لیے3ارب روپے رکھے گئے ہیں ۔ وزیر اعظم آزادکشمیر نے کہاکہ اس ایوان میں موجود کسی بھی رکن کی نیت میں نفرت نہیں ہے ، سیاسی کارکن اور حادثے میں زمین و آسمان کا فرق ہوتا ہے ، ہمیں اپنے اسلاف کی روایات کو لے کر چلنا ہے ، انہوں نے کہا کہ یہ خوش آئند ہے کہ یہاں نفرت کی سیاست کو کسی نے فروغ نہیں دیا ، ہمیں حقوق کے ساتھ فرائض کی ادائیگی کرنی ہے انارکی سے بچنا ہے ، اللہ کو حاضر ناضر جان کرکہتا ہوں کہ کسی کی دل شکنی نہیں ہو گی ، وسائل کا استعمال منصفانہ ہوگا ۔ وزیر اعظم آزادکشمیر نے کہا کہ موجودہ حکومت نے اگلے مالی سال کے لیے تعلیمی پیکج کے لیے خطیر رقم رکھی گی گئی ہے ۔ آزادجموں و کشمیر کشمیر بینک گیم چینجر پراجیکٹ ہے موجودہ حکومت نے اس بینک کو شیڈول بینک بنانے کے لیے 10 ارب روپے کی ادائیگی کر دی ہے ، 10 ارب روپے سوشل پروٹیکشن فنڈ کی مد میں پڑا ہے ۔انھوں نے کہا کہ وزیراعظم کا اختیار نہ تقسیم ہو سکتا ہے ان اس اختیار میں کسی کو شریک کیا جاسکتا ہے اور نہ منتقل کیا جاسکتاہے، انھوں نے کہا کہ میں نے بھارت کے خلاف بھرپور بیانیہ دیا ہے اور اس بیانیے کے باوجود مجھے سکیورٹی ایجنسیز کی جانب سے کہا گیا کہ سکیورٹی پروٹوکول میں چلیں لیکن میں نے کہا کہ زندگی اور موت اللّہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے ، انھوں نے کہا کہ مہاجرین کی آبادکاری کے لیے ایک ارب روپے رکھا تھا وہ بجٹ دوبارہ دوہرایا گیا ہے ،1989 کے مہاجرین کے لیے 700 گھروں کی تعمیر کے منصوبے پر کام شروع ہو چکا ہے ۔ وزیر اعظم آزادکشمیر نے کہاکہ بچیوں کی تعلیم کے لیے موجودہ حکومت نے تینوں ڈویژنز کے لیے 32 بسیں مہیا کی ہیں ، آزاد کشمیر کا واحد وزیر اعظم ہوں جس کا پریس سیکرٹری نہیں ہے ، آزادکشمیر کی جامعات کے لیے گورنمنٹ نے گرانٹ دی ہے ، میڈکل کالجز کو منافع میں لے گئے ہیں۔وزیراعظم آزادکشمیر نے کہاکہ ہائیڈل پراجیکٹس سمیت تمام بڑے پراجیکٹس پر کام دسمبر تک مکمل ہو جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ تنقید تب ہو گی جب انصاف نہ ہو ۔ آج فاروق حیدر خان کی تقرریوں کے حوالے سے بات سے متفق ہوں ، انھوں نے کہا کہ محکمہ تعلیم ، پولیس میں این ٹی ایس رائج ہے جبکہ دیگر محکموں میں این ٹی ایس ختم ہوا کیونکہ اس ایوان نے ایڈہاک ایکٹ پاس کیا ہے ، انھوں نے کہاکہ اگر ایڈہاک ریگولر کرنے بھی ہیں تو عدالتی احکامات کو مدنظر رکھتے ہوئے قانون ساز اسمبلی نے ایک پالیسی کے تحت مستقل کرنے ہیں ، موجودہ حکومت نے ایڈہاک ملازمین کو رعایت دیتے ہوئے فیصلہ کیا کہ جب تک پالیسی بنائی جاتی ہے انھیں نوکری جاری رکھنے کی اجازت دی جائے ، نوکریوں میں شہریوں کی مساوی سطح پر مواقع ملنے چاہیئے ، یہاں سہولتوں میں سب یکسانیت ڈھونڈتے ہیں لیکن 3 روپے یونٹ بجلی اور 2000 روپے من آٹا پر اسی حکومت نے اربوں روپے کے خسارے کے باوجود نظام کو محفوظ بنایا ہے ۔تیرویں ترمیم میں میرا بھی کردار ہے ۔ وزیر اعظم آزادکشمیر نے کہاکہ ہم نے بے روزگاری کو دور کرنے کے لیے یوتھ ڈویلپمنٹ پروگرام کے لیے ایک ارب روپے کا فنڈ دیا ہے ، لوکل گورنمنٹ کے لیے بھی ایک خطیر رقم رکھی گئی ہے ، گزشہ سال 22ارب روپے سے زائد کی خطیر رقم روڈ انفراسٹرکچر پر خرچ کی ،آئندہ سال سڑکوں کی تعمیر کے لیے 15 ارب روپے کے فنڈز مختص کیے گئے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ آزاد کشمیر میں کسی کو بھی کوئی نئی مراعات نہیں دی گئیں ، کوئی نئی گاڑی نہیں لی گئی ، موجودہ حکومت نے دو سالوں میں 400 گاڑیاں نیلام کرکے 60 کروڑ روپے کی بچت کی ہے ، دو سالوں میں ای ٹینڈرنگ کی گئی ، ای ٹینڈرنگ سے 3 ارب روپے کی بچت گئی ہے ، ہم نے اپنے غیر ترقیاتی اخراجات کو کم کیا ہے ، انھوں نے کہاکہ قانون کی عملداری کو یقینی بنانا ہے، موجودہ حکومت کے دور میں ایک گارڈ نے لکڑی سمگلنگ پر ڈی ایس پی کو گرفتار کر لیا ، یہ ہمت گارڈ کو حکومت نے دی کہ کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں ۔ وزیراعظم سیکرٹریٹ کا ڈپٹی سیکرٹری ایک کیس میں گرفتارہوا ، حلفاً کہتا ہوں کہ اس کیس میں کسی کو مداخلت کی اجازت تک نہیں دی ۔ پی ایس سی کے جو ممبران تعینات کیےان کو جانتا تک نہیں صرف انکی اچھی شہرت کی وجہ سے انہیں تعینات کیا تاکہ پڑھے لکھے جوانوں کو انکے حق ملے ۔ موجودہ حکومت کی میرٹ کی بالادستی کی پالیسیوں کیوجہ سے پولیس کانسٹیبل اس قابل ہوا کہ اس نے اسسٹنٹ کمشنر کا امتحان پاس کیا۔ انہوں نے کہاکہ گندم کا کوٹہ اب بھی وہی ہے جو پہلے تھا لیکن اب گندم پوری ہورہی ہے ، این ٹی ایس کے ذریعے تین ہزار پڑھے لکھے نوجوان جوان بھرتی ہوئے ۔

