وزراء حکومت عبدالماجد خان، چوہدری محمد اکبر ابراہیم، اکمل حسین سرگالہ، جاوید بٹ، عاصم شریف بٹ اور ڈپٹی اسپیکر چوہدری ریاض احمد نے کہا ہے کہ مقامی اور مہاجر کی تفریق کر کے کشمیریوں کے درمیان تقسیم کی سازش کی جارہی ہے۔

وزراء حکومت عبدالماجد خان، چوہدری محمد اکبر ابراہیم، اکمل حسین سرگالہ، جاوید بٹ، عاصم شریف بٹ اور ڈپٹی اسپیکر چوہدری ریاض احمد نے کہا ہے کہ مقامی اور مہاجر کی تفریق کر کے کشمیریوں کے درمیان تقسیم کی سازش کی جارہی ہے۔ ہماری افواج نے بنیان المرصوص کے ذریعے دشمن کو دندان شکن جواب دیا اور دنیا کو حیران کر دیا،ایسے موقع پر ایک جمگھٹے کی جانب سے اسطرح کا بیانیہ دینا افسوسناک ہے۔ اگر کسی کو ہمیں کشمیری کہتے ہوئے تضحیک ہوتی ہے تو پھر اس پر افسوس ہی کیا جا سکتا ہے۔ہندوستان یہی چاہتا ہے کہ ہم میں تقسیم پیدا کی جائے۔ کشمیری کو کشمیری سے لڑا کر تعصب نہ پیدا کیا جائے۔ اگر اس خطے میں بیٹھ کر کے یہ دعوے کیے جائیں کہ مہاجرین کا کوٹہ اور نشستیں ختم کر دیے جائیں تو ایل او سی ہے دوسری جانب کیا پیغام جائےگا ہے؟۔ان خیالا ت کا اظہار انہوں نے پی آئی ڈی کمپلیکس میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیر خزانہ عبدالماجدخان نے کہاکہ کشمیری کو کشمیری سے لڑانا کس کا بیانیہ ہے؟ شوق ہے تو سیاست کریں نفرت نہ پھیلائیں ۔امید ہے کہ نفرت کا سلسلہ شروع کرنے والے ہوش کے ناخن لیں گے۔ کیا جمگھٹے کا بیان حریت قیادت کے زخموں پر مرہم کا باعث بنے گا یا ان پر نمک چھڑکے گا۔ انہوں نے کہاکہ مہاجر کا خطاب دیکر نفرت کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔مہاجرین کے آباو و اجداد نے مہاراجہ کے ظلم کے خلاف اس وقت پاکستان کے علاقوں میں آکر پناہ لی۔ 1947 سے قبل اور پھر 1996 تک مہاجرین یہاں آکر آباد ہوتے رہے۔ انہوں نےکہا کہ تعصب کی عینک کو اتاریں ۔ عبدالماجد خان نے کہا کہ مہاجرین کو 6 فیصد کوٹہ بھی پورا نہیں ملتا۔انہوں نے کہاکہ ہمیں اتحاد و یکجہتی کی ضرورت ہے۔ ہندوستان نے بلوچستان میں سکول کے بچوں کی بس پر حملہ کروایا، ہندوستان کو جہاں بھی موقع ملتا ہے وہ پاکستان کے خلاف سازش کرتا ہے۔ انہوں نےکہا کہ ہم سب کے آباو اجداد کسی نہ کسی قربانی کے نتیجے میں ہجرت کر کے یہاں آئے اور ان کا مقصد تکمیل پاکستان تھا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے کوشش کی کہ جس طرح ممکن ہو سکے عوام کے مسائل حل کیے جائیں۔اگر حکومت کی کاوشیں نہ ہوتیں تو بہت سی چیزیں منطقی انجام تک نہ پہنچ سکتی۔جب بھی عوامی حمایت کی بات آئی تو حکومت نے عوام کے سامنے سر تسلیم خم کیا ۔وزیر خزانہ عبدالماجد خان نے کہا کہ میرے داداخان عبدالحمید خان جب علی گڑھ سے فارغ ہوئے تو وہ انڈین سروس کمیشن کے ذریعے ایس ڈی ایم جموں بھرتی ہوئے پھر ڈپٹی کمشنر سرینگر رہے۔ تقسیم کے بعد یہاں منتقل ہوئے یہاں کمشنر مظفرآباد اور ڈپٹی کمشنر میرپور رہے، اس کے بعد چیف جسٹس ہائیکورٹ اور آزادکشمیر کے وزیراعظم رہے،انہوں نے کہاکہ ایک گروہ کی جانب سے ہمیں طعنے اور ہماری ٹرولنگ کی جارہی ہے ۔

وزیر خوراک اکبر ابراہیم نے کہاکہ ہجرت سنت ہے ، ہم نے ہجرت مفادات کے لیے کلمہ طیبہ کے لیے ہجرت کی۔ 1947 میں جب ہمارے خاندان کے لوگ ہجرت کر کے آئے ہمارے خاندان کے مردوں کو اکھٹا کر کے شہید کر دیا گیا۔ ہم کشمیری ہیں، تکمیل پاکستان کے لیے یہاں آئے۔ وزیر جنگلات اکمل حسین سرگالہ نے کہاکہ 1947 میں ہمارے آباو اجداد جموں سےاپنا گھر بار چھوڑ کر پاکستان کشمیر اور اسلام کے نام پر یہاں آکر آباد ہوئے ۔ انہوں نے کہاکہ جب رائے شماری ہوگی تو مہاجرین کا کردار ہوگا۔

Share This Post

More To Explore