وزیر اطلاعات آزادکشمیر پیرمحمد مظہر سعید شاہ نے کہا ہے کہ وزیراعظم آزادکشمیر رات بھر مختلف عوامی مقامات پر خود موجود رہے اور صورتحال کو مانیٹر کرتے رہے۔ اب تک کی رپورٹس کے مطابق آج رات 12 بجے کے بعد 11 افراد شہید ہوئے ہیں جن میں 6 مرد ،4خواتین اور 1 بچہ شامل ہے۔جبکہ رات 12 سے پہلے 17 شہداء کی تصدیق ہوئی تھی۔ کل شہداء کی تعداد 28 ہو چکی ہے۔ زخمیوں کی کل تعداد 125 ہے، جن میں آج رات کے 56 زخمی بھی شامل ہیں۔ زخمیوں میں 24 خواتین، 9 بچے اور 26 مرد شامل ہیں۔ 235 مکانات کو نقصان پہنچا ہے، جن میں 29 مکانات مکمل تباہ جبکہ 206 مکانات کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔وزیراطلاعات آزادجموں وکشمیر نے پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ کشیدگی کے تناظر میں زخمیوں، شہداء اور املاک کو پہنچے والے نقصان کے اعداد وشمار پر میڈیا نمائندگان کو بریفنگ دیتے ہوئے کہاکہ ہم نے اپنے معصوم بچوں اور مساجد کی شہادت کی بے حرمتی کا بدلہ لے لیا ہے۔ بہادر افواج اور عوام مل کر دشمن کے خلاف سیسہ پلائی دیوار بن چکے ہیں۔وزراء اپنے اپنے حلقوں میں موجود ہیں اور زخمیوں و شہداء کے لواحقین سے مسلسل رابطے میں ہیں۔ لائن آف کنٹرول پر دو ماہ کی خوراک ذخیرہ کر لی گئی ہے، اور تمام حلقوں میں ایمرجنسی ادویات مہیا کر دی گئی ہیں۔وزیراعظم نے ایمرجنسی فنڈ قائم کر دیا ہے ۔ میڈیا ورکرز کو سیفٹی جیکٹس اور کیپس فراہم کی جائیں گی۔ متاثرین کومحفوظ مقامات پر منتقل کرنے کی تیاریاں مکمل ہیں اور خیموں کی فراہمی کا آرڈر بھی دے دیا گیا ہے۔ لائن آف کنٹرول پر موجود بنکرز کو قابلِ استعمال بنایا جا چکا ہے۔ حویلی اور لیپہ میں ہسپتالوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔انہوں نے کہاکہ اس وقت ہم حالتِ جنگ میں ہیں۔ اس ہنگامی صورتحال میں پوری قوم کو ڈس انفارمیشن یا مس انفارمیشن سے بچانے، ان کے حوصلے بلند کرنے اور درست معلومات فراہم کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ تمام معلومات کے لیے ڈی جی پی آرآفیشل، آئی ایس پی آر کے سوشل میڈیا پیج، سٹیٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی اور انتظامیہ کے کنٹرول روم سے رابطہ کیا جائے۔وزیراطلاعات نے کہاکہ شہداء کے لواحقین کو 24 گھنٹوں میں مالی امداد فراہم کی جا رہی ہے، اور اب تک 11 شہداء کے ورثاء کو چیکس دیے جا چکے ہیں۔ رضاکارانہ طور پر گھر چھوڑنے والے افراد کے لیے بھی انتظامات مکمل ہیں۔ وادی نیلم کے علاقوں سے سے 137 بچوں سمیت تمام آبادی کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔تتہ پانی سے 17 خاندانوں کو متبادل گھروں میں شفٹ کیا گیا ہے، جن میں کل 253 افراد شامل ہیں۔متاثرین کے لیے ریسٹ ہاؤسز اور مقامی افراد کے گھروں میں رہائش کا بندوبست کیا گیا ہے۔ ریاستِ مدینہ کی طرز پر اخوت اور بھائی چارے کا مظاہرہ دیکھنے میں آیا ہے۔ وزیر اطلاعات نے کہا کہ کہ ایسے معروضی حالات میں وزارتِ اطلاعات کا کردار اور بھی بڑھ جاتا ہے۔ آئندہ ہر روز غلط خبروں کی روک تھام اور درست معلومات کی ترسیل کے لیے صبح 10 بجے باقاعدہ پریس کانفرنس منعقد کی جائے گی۔ اگر حالات میں فوری تبدیلی آتی ہے تو میڈیا کو دوبارہ بریفنگ دینے کا اہتمام کیا جائیگا۔ پیر مظہر سعید شاہ نے کہا کہ فیک نیوز پھیلانے والوں کے خلاف باقاعدہ کارروائی عمل میں لائی جائیگی ۔ انہوں نے کہا کہ بلدیاتی نمائندگان سے بھی رابطہ کرتے ہوئے یونین کونسل کی سطح پر کام کیا جائے گا۔ ہر تھانے کو ہدایت ہے کہ فی تھانہ 200 رضاکار رجسٹر کریں جنہیں علامتی سیفٹی جیکٹس فراہم کی جائیں گی تاکہ عوام کو پتہ چل سکے کہ یہ افراد حکومتی احکامات پر کام کر رہے ہیں۔ پیر مظہر سعید شاہ نے میڈیا پرسنز اور سوشل میڈیا ایکٹیویسٹس کو خراجِ عقیدت پیش کیا جو اس نازک وقت میں درست معلومات فراہم کرنے کے لئے 24گھنٹے کام کر رہے ہیں اور افواجِ پاکستان کے ساتھ محبت و عقیدت کا اظہار کر رہے ہیں۔

سپیکر قانون ساز اسمبلی چوہدری طارق فاروق کی زیر صدارت آزادجموں وکشمیر قانو ن ساز اسمبلی کے اجلاس میں سابق وزیرا عظم و ممبر اسمبلی فیصل ممتاز راٹھور،اپوزیشن لیڈر و ممبر اسمبلی چوہدری محمد یاسین،ممبر اسمبلی چوہدری محمد اسماعیل،ممبر اسمبلی سید بازل علی نقوی،ممبر اسمبلی محترمہ سحرش قمر،ممبر اسمبلی چوہدری محمد رخسار،ممبر اسمبلی محترمہ فرزانہ یعقوب کی جانب سے قراردادیں پیش کیں گئیں۔جنہیں متفقہ طور منظور کر لیا گیا۔
سپیکر قانون ساز اسمبلی چوہدری طارق فاروق کی زیر صدارت آزادجموں وکشمیر قانو ن ساز اسمبلی کے اجلاس میں سابق وزیرا عظم و ممبر اسمبلی
