وزیراعظم آزادحکومت ریاست جموں وکشمیر چوہدری انوارالحق نے کہا ہے کہ بھارت کہتا ہے کہ وہ دریاؤں کا رخ بدلے گا ،اگر وہ دریاؤں کا رخ بدلنے کی کوشش کرے گا تو ہم بھارت کی تاریخ اور جغرافیہ بدل کر رکھ دیں گے

وزیراعظم آزادحکومت ریاست جموں وکشمیر چوہدری انوارالحق نے کہا ہے کہ بھارت کہتا ہے کہ وہ دریاؤں کا رخ بدلے گا ،اگر وہ دریاؤں کا رخ بدلنے کی کوشش کرے گا تو ہم بھارت کی تاریخ اور جغرافیہ بدل کر رکھ دیں گے ، اندرونی خلفشار پر قابو پانے اور پڑوسی ملک کو دہشتگردی کا مرکز قرار دینے کے لیے جھوٹا بیانیہ بنانا بھارت کی روایتی خصلت ہے ، یہ کام بھارت کی ماضی کی تمام حکومتیں اور بلخصوص موجودہ ہندوتوا نواز مودی حکومت گزشتہ 15 سال سے کر رہی ہے ، اب یہ بیانیہ دنیا کے سامنے “پٹ” چکا ہے ، میرے خیال میں مودی کی جو تھوڑی بہت مثبت ساکھ رہ بھی گئی تھی ، وہ مثبت ساکھ بھی بری طرح منفی ساکھ میں تبدیل ہو چکی ہے ،روشن اور مضبوط پاکستان ہی تحریک آزادی کشمیر کی بقاء کی واحد ضمانت ہے ، میں بین الاقوامی سفارتکاری کے بارے میں زیادہ مثبت رائے نہیں رکھتا لیکن ہماری امیدوں اور آرزوؤں کا مقصد اور ہمارے آباؤ اجداد کے نظریہ الحاق پاکستان کی بنیاد ہی یہی تھی کہ پاکستان اور آزاد کشمیر کا رشتہ لازم و ملزوم ہے اور ہماری آنے والی نسلوں کو بھی اس یقین بارے بارآور کروانا ہے کہ اس نظریے کے ساتھ قائم و دائم رہیں، یہاں بھی کچھ فکری آلودگی جنم لے رہی تھی لیکن الحمداللہ مودی کی حماقت کی وجہ سے وہ بھی ختم ہو گئی ہے ، کشمیر کی 3نسلوں نے اپنے لہو سے آزادی کی تاریخ لکھی ہے اور انشاء اللہ جب تک یہ تحریک اپنے منطقی انجام کو نہیں پہنچتی تو اس وقت تک ہمیں پوری وحدت اور یکسوئی کے ساتھ اللہ کے فضل و کرم کو شامل حال کرتے ہوئے اس تحریک کی حرمت کی پاسبانی کرنی ہے، ان خیالات کا اظہار وزیراعظم آزادکشمیر چوہدری انوار الحق کی “آزاد ڈیجیٹل ” پر اینکر پرسن عریج فاطمہ کے ساتھ گفتگو میں کیا ۔ وزیراعظم آزادکشمیر چوہدری انوار الحق نے کہا کہ مودی جب گجرات کا وزیر اعلیٰ تھا تو مودی نے گجرات میں مسلم کش فسادات کروائے تھے، جس کے نتیجے میں دنیا نے مودی کے بین الاقوامی سفر پر پابندی لگا دی تھی ، مودی کے زیر سایہ عیسائیوں کے چرچوں پر بھی حملے کروائے گئے ، اس سے زیادہ بدترین مثال زندگی میں کبھی نہیں دیکھی کہ 13 سال کی ہندو دلت بچی کے ساتھ “ریپ” کرکے اس کو آگ لگا دی گئی ، مودی جس طرز کی فسطائیت کی حامل ذہنیت رکھتا ہے ، دنیا کو چاہیے کہ ایسے فاشسٹ انسان سے جتنی جلدی ممکن ہوسکے ، چھٹکارا حاصل کر لینا چاہیے ، وزیراعظم آزادکشمیر نے کہا کہ چین نے کبھی بھی پاکستان کی خاموش حمایت نہیں کی ، ان کی سفارتکاری کا اپنا انداز ہے ، خطرے کو بھانپنے کے بعد وہ کھلا سفارتی جواب دیتے ہیں ، چار نسلوں سے ہمیشہ چین نے مشکل وقت میں پاکستان کا بھرپور ساتھ دیا ، چین نے ہمیشہ معاشی بحران اور دفاع پاکستان سمیت دیگر تمام امور میں پاکستان کا بھرپور ساتھ دیا ہے ، بھارت آبی جارحیت کررہا ہے ، بھارت نے گزشتہ 7 سے 8 دنوں میں آزادکشمیر میں دریائے جہلم میں اپنے ڈیموں کے سپل ویز کھول کر آبی جارحیت کی کوشش کی ، ہم اپنے کم ظرف اور کمینے دشمن سے پوری طرح آگاہ ہیں، اس لیے ہم نے پہلے ہی حفاظتی انتظامات کیے ہوئے تھے ، جس کی بدولت کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا ،انھوں نے کہا کہ بھارتی میڈیا جارحیت کو فروغ دینے کے لیے عملی طور پر سرگرم ہے ، آپ نے دیکھا کہ عملی طور پر بھارت کی فضائیہ کے رافیل طیاروں نے گزشتہ دنوں ایڈونچر کی کوشش کی تھی لیکن ہماری پاک فضائیہ کے شاہینوں اور ڈیفنس سسٹم نے اس قدر کمال مہارت سے انھیں جواب دیا کہ وہ دم دبا کر بھاگ گئے ، بھارت کو ہمارے دفاع اور بلخصوص ہماری جوہری اور روایتی جنگ کی صلاحیتوں کا بھرپور اندازہ ہوچکا ہے ، اب ان کو سب چیزوں کا ادراک بھی ہو گیا ہے ، میں نے پہلے دن ہی اپنے بیان میں کہہ دیا تھا کہ دو جوہری طاقتوں کے حامل ممالک کے درمیان جنگ ممکن ہی نہیں ہے اور بھارت جیسا بزدل ملک حملے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا ، موجودہ آرمی چیف جنرل عاصم منیر سے جو لوگ اچھی طرح واقف ہیں ، انھیں معلوم ہے کہ وہ صاف گو انسان ہیں اور موجودہ آرمی چیف کا رسپانس ٹائم بھی سیکنڈز میں ہوتا ہے ، وزیراعظم آزادکشمیر نے کہا کہ بھارت میں منی پور ، ناگا لینڈ اور خالصتان جیسی آزادی پسند تحریکیں بھارت کی اندرونی خلفشارکو بڑھا رہی ہیں ، ان تحریکوں سے منسلک لوگ بھارت سے آزادی مانگ رہے ہیں ، مودی نے جو متنازعہ بل پیش کیا ، اس بل کے خلاف بھی مسلمانوں میں شدید ردعمل پایا جارہا ہے ، بھارت میں اقلیتوں کے ساتھ بھی بدترین سلوک کیا جارہا ہے ، یہ سارا ردعمل مودی کی مقبولیت کا جنازہ نکال رہا ہے ، اس بار مودی کا انتخابات میں جو 400پار کا نعرہ تھا وہ نعرہ بھی بری طرح “پٹ” گیا ہے ، ان سارے مسائل سے نکلنے کے لیے مودی کے پاس ایک ہی نسخہ ہے کہ پاکستان مخالف بیانیے کو ہوا دی جائے ، اس بار مودی پاکستان مخالف بیانیے کو پروان چڑھانے میں بھی بری طرح ناکام ہو چکا ہے ، یہ ڈرامہ بھی بری طرح فلاپ ہو گیا ہے ، یہ “ہاہپ “ بھی مودی کے گلے کا پھندہ بن گئی ہے ، اب نہ وہ “ہائپ” اس سے نگلنے ہو پا رہی ہے اور نہ ہی اس سے وہ جان چھڑوا سکتا ہے ، انہوں نے کہا کہ نریندر مودی اور اس کی سرپرستی میں کام کرنے والے جیساکہ راج ناتھ سنگھ ، امیت شاہ اور اجیت دوول جیسے افراد جنونی لوگ ہیں ، ان لوگوں کا انسانی قدروں سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہے ، بھارتی فوج میں بھی کوئی اگر عقل و دلیل کی بات کرنے کی کوشش کرتا ہے تو یہ لوگ (مودی اور اس کے حواری ) اس کی آواز اٹھنے سے پہلے ہی دبا دیتے ہیں ، یہ ہر آواز کے مخالف ہیں ، چاہے وہ آواز بھارتی فوج سے اٹھے یا بھارتی سیاست سے ، انھیں اس چیز کا کوئی فرق نہیں پڑتا ، یہ اسے دبا دیتے ہیں ، وزیراعظم آزادکشمیر نے کہا کہ جب اللّٰہ تعالیٰ نے کسی کی بربادی کے اسباب پیدا کرنے ہوں تو ایسے ہی حالات پیدا ہوجاتے ہیں جیسے حالات اس وقت بھارت میں جنم لے رہے ہیں ، اگر اس بھارت نے ٹوٹنا ہے اور اس کی ریاستوں نے الگ ہونا ہے تو آپ نے دیکھا کہ ایسی ( برتری ) کی سوچ سویت یونین کی بھی تھی ، سوویت یونین کا بہترین فوج رکھنے کے باوجود کیا حشر ہوا تھا ؟ اس کی ساری طاقت افغانستان سے ٹکرا کر پاش پاش ہو گئی تھی ، بھارت میں بھی مظالم حد سے زیادہ بڑھ چکے ہیں ، بھارت کی خواہش ایک زمانے میں یہ بھی تھی کہ انھیں سلامتی کونسل کا مستقل رکن بنایا جائے ، پہلگام فالس فلیگ آپریشن نے ان کی 15 سال کی محنت پر پانی پھیر دیا ہے ، اب ہندوستان اس فرسٹریشن کے نتیجے میں کوئی اور بلنڈر کرسکتا ہے کہ نہیں ، اس کا علم آنے والے دنوں میں ہو گا ، انہوں نے کہا کہ مجھے کوئی لالچ نہیں ہے ، مجھے میری والدہ محترمہ کی دعا ہے ، اگر مرنے کا ڈر ہو تو پھر کسی چیز کی فکر نہیں ہوتی ، جن کپڑوں میں آیا ہوں ، ان کپڑوں میں چلا جاؤں گا ، معاشی مفاد اٹھانا میری ترجیح ہی نہیں ہے ، میں نے وزیراعظم آزاد کشمیر بننے کے لیے اللہ پاک سے دعا کی تھی کہ مالک مجھے 6ماہ کا اقتدار دینا تاکہ میں نوجوانوں کے سامنے یہ ثابت کر سکوں کہ وزیراعظم کا منصب کوئی سٹاک ایکسچینج نہیں ہے کہ جس پر طاقتور سرمایہ دار ہی آسکتا ہے ، اگر ایک سیاسی کارکن بھی پورے عزم اور استقلال سے کھڑا رہے تو اسے بھی یہ منصب مل سکتا ہے ، جہاں تک گورننس کی بات ہے ، جب وزیراعظم خود کو قانون کے سامنے جوابدہ بنا لے تو پالیسی کے نفاذ میں مشکلات نہیں رہتیں ، جب مافیاز پر ہاتھ ڈالا ، گورننس سسٹم کو بہتر بنانے کے لیے بائیومیٹرک لائے اور پھر اس کے ساتھ ساتھ مؤثر کارگردی کے لیے نظام میں اصلاحات لائے تو جہاں جہاں “سٹیٹس کو” تھا اور جہاں جہاں سسٹم کے بنفشریز تھے، ان سب نے شدید ردعمل دیا ، دو سالوں میں 2000سے زائد مرتبہ عدم اعتماد کی دھمکیاں سنی ہیں ، اللّہ تعالیٰ کا فضل و کرم ہے، جب تک اللہ نے قلم میں اختیار رکھا ہے آئین کا پاسدار رہوں گا اور جب کسی مخالف کے پاس عددی اکثریت ہوئی تو چلا جاؤں گا ، انہوں نے کہا کہ دنیا اپنے مسائل میں سرگرداں ہے ، آپ دیکھیں کہ غزہ میں مسلمانوں کی نسل کشی کی گئی لیکن بین الاقوامی طاقتوں نے اس میں کیا کردار ادا کیا ؟ ہرملک کا اپنا مفاد ہے اور جہاں تک ہمارے حوالے سے کسی انٹرنیشنل پلئیر نے اپنا کردار ادا کرنا تھا تو وہ چین ہے اور چین نے اپنا بھرپور کردار ادا کردیا ہے ، چین کا کردار اہمیت کا حامل بھی ہے ، پھر کہہ دیتا ہوں کہ بھارت بین الاقوامی سرحد پر جارحیت کا سوچ بھی نہیں سکتا لیکن بھارت زیادہ سے زیادہ آزاد کشمیر میں متنازعہ علاقہ ہونے کی وجہ سے کوئی ایڈونچر کرنے کی کوشش کرسکتا ہے ، اس حوالے سے ہم سب متفق ہیں کہ بھارت نے فیس سیونگ کے لیے اگر آزاد کشمیر میں کوئی ایڈونچر کرنے کی کوشش کی تو بھارت کا “فیس” ہی بدل کر رکھ دیں گے ۔

Share This Post

More To Explore