ترجمان محکمہ لوکل گورنمنٹ و دیہی ترقی آزاد حکومت ریاست جموں وکشمیر نے واضح کیا ہے کہ گزشتہ ہفتے اسمبلی سے منظور ہونیوالے “دستور العمل برائے ترقیاتی پروگرام لوکل گورنمنٹ و دیہی ترقی ایکٹ ۲۰۲۵” کے حوالہ سے سوشل میڈیا پر غلط فہمیاں پھیلائی جارہی ہیں ، جو کہ حقائق کے منافی اور بے بنیاد ہیں ۔ اس بارہ میں ترجمان محکمہ لوکل گورنمنٹ و دیہی ترقی نے بتایا کہ لوکل گورنمنٹ ایکٹ ۱۹۹۰ مکمل طور پر بحال ہے جبکہ ترقیاتی امور کو نبٹانے کے لیے نیا ایکٹ لایا گیا ہے جس کی دفعہ ۸ کے تحت منتخب بلدیاتی نمائندگان کو ترقیاتی منصوبہ جات کی نشاندہی کرنے کے لیے پہلی مرتبہ باضابطہ سٹیک ہولڈر کے طور پر شامل کیا گیا ہے۔ ترجمان نے مزید بتایا کہ حکومت بلدیاتی نمائندگان کی کمیٹی کے ساتھ کیے گئے متفقہ فیصلہ جات کے مطابق 01 ارب 60 کروڑ روپےکی رقم بلدیاتی ادارہ جات کے لیے پہلے ہی ریلیز کر چکی ہے۔ وارڈ لیول تک رقم کی تقسیم کا طریقہ کار بھی آبادی کی بنیاد پر منتخب چئیرمین اور مئیرز کی کمیٹی نے ہی تجویز کیا ہے آئندہ چند روز میں یہ رقم تمام بلدیاتی ادارہ جات کو واگزار کر دی جائیگی ، حکومت بلدیاتی ادارہ جات کو انتظامی اور مالی لحاظ سے باختیار بنانے کے اصول پر کاربند ہے ۔ بلدیاتی ادارہ جات جمہوریت کی نرسریاں ہیں اور سروس ڈیلیوری کا معیار انہی اداروں نے بہتر کرنا ہے، اسلیے منفی اور بے بنیاد پراپیگنڈہ سے گریز کیا جائے۔

سپیکر قانون ساز اسمبلی چوہدری طارق فاروق کی زیر صدارت آزادجموں وکشمیر قانو ن ساز اسمبلی کے اجلاس میں سابق وزیرا عظم و ممبر اسمبلی فیصل ممتاز راٹھور،اپوزیشن لیڈر و ممبر اسمبلی چوہدری محمد یاسین،ممبر اسمبلی چوہدری محمد اسماعیل،ممبر اسمبلی سید بازل علی نقوی،ممبر اسمبلی محترمہ سحرش قمر،ممبر اسمبلی چوہدری محمد رخسار،ممبر اسمبلی محترمہ فرزانہ یعقوب کی جانب سے قراردادیں پیش کیں گئیں۔جنہیں متفقہ طور منظور کر لیا گیا۔
سپیکر قانون ساز اسمبلی چوہدری طارق فاروق کی زیر صدارت آزادجموں وکشمیر قانو ن ساز اسمبلی کے اجلاس میں سابق وزیرا عظم و ممبر اسمبلی
