وزیر اعظم آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر چوہدری انوارالحق نے کہا ہے کہ بیس کیمپ کا پورا نظام تحریک آزادی کشمیر کی مرہون منت ہے ، 3 افراد کے لیے قلم کا حساب ہے ، ایک وقت کاقاضی القضاء ، وقت کا امام اور وقت کا حاکم ، ان کی پکڑ بھی دوگنی ہے اور ان کی جزاء بھی دوگنی ہے ، یہ قطعی درست نہیں ہے کہ آپ مال کا اسراف کر رہے ہوں اور ریاست کے عوام کو آپ کیڑے مکوڑے سمجھ کر گزر جائیں تو پوچھ نہیں ہوگی، 600 ارب روپے کی ٹیکس چوری کرنے والے مافیا پر ہاتھ ڈالا ہے ، اسی پلندری میں جب میں وزیراعظم بنا تو آٹا لوٹنے کی خبریں آرہی تھیں ، آج ایسا نہیں ہورہا کیوں ؟ 20 اپریل کو 2 سال پورے ہوئے ، اس عرصے میں ایک لمحہ ایسا نہیں آیا جب عدم اعتماد کی گونج نہ سنی ہو ، نہ کوئی ٹی اے ڈی اے لیتا ہوں اور اور نہ ہی تنخواہ ، جب تک اللہ تعالیٰ کی رضا شامل حال رہی کام کرتا رہوں گا ، جس منصب پر ہوں اس کے ایک ایک لمحے کا حساب مالک الملک لے گا ، میرٹ کے لیے قیمت دی ہے ، سب جانتے ہیں کہ پہلے پبلک سروس کمیشن کیسے بنتا تھا ؟ این ٹی ایس کو میرٹ پر لاکر 3000ہزار بچے بچیاں میرٹ پر بھرتی کیے ، تبدیلی بتدریج عمل ہے یہ فوری طور پر ممکن نہیں ہے ، مولانا صاحب نے جن 2 سڑکوں کا کہا ہے ان دو سڑکوں کا اعلان کرتا ہوں ، میں یہاں آپ لوگوں کی سماجی خدمات کا اعتراف کرنے آیا ہوں ، مخلوق کی بھلائی کے لیے جتنا کام کیا جائے ، کم ہوتا ہے ، میں اسی کام کے لیے منتخب ہوا ہوں کہ آپ کا دکھ درد بانٹوں ، اگر ماؤں بہنوں اور بیٹیوں کی عزتیں محفوظ نہ ہوں ، مذہبی اور سیاسی آزادیاں میسر نہ ہوں تو ہم نے پھر تعمیر و ترقی کا کیا کرنا ہے ؟ اللّہ تعالیٰ کے دین کی ناموس کی خاطر اگر موت مل جائے تو اس سے بڑی نعمت کیا ہے ؟ جب 71 روپے بجلی فی یونٹ تھی تو 70 فیصد چوری تھی اب 3 روپے یونٹ بجلی ہے تو 71 فیصد چوری ہے ، ٹیکس نہیں دینا تو تعمیر و ترقی کا نظام کیسے چلے گا ؟ حقوق کے نام پر کہا جاتا ہے متنازعہ علاقہ ہے ٹیکس نہیں دینا ہے لیکن متنازعہ علاقے کے نام پر ہر سہولت مل جانی چاہیے ، اللّہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ مالک نے ہمیں آزاد خطے کی نعمت سے نوازا ہوا ہے ، میں بھمبر میں خود ایل و سی کے پاس رہتا ہوں ، وہاں پر پورے حلقے کی آبادی کے لیے ایک بی ایچ یو ہے ، وہ بھی انسان ہیں ، اس علاقے پر اللّہ تعالیٰ کا فضل و کرم ہے ، جب تک ہم عوام کی زہن سازی نہیں کریں گے تو یہ نحوست دور نہیں ہوسکتی ، میں نے ڈی ایچ او کو کہا ہے کہ ایمبولینس کے ساتھ یہاں ایک ایل ایچ وی اور ایک ڈرائیور کی پوسٹ بھی دے دیں ،مولانا کی شخصیت قابل احترام ہے ، کچھ شخصیات ایسی ہوتی ہیں جن کے سامنے نہ نہیں ہوتی ، پونچھ کی دھرتی بڑی خوبصورت دھرتی ہے ، اس دھرتی پر روڈ انفراسٹرکچر کی بہتری کے لیے اگر موقع ملا تو ہنگامی بنیادوں پر اس انفرسٹرکچر کو بہتر بناؤں گا ، گزشتہ دو سالوں میں پونچھ کا کوئی ایک حلقہ ایسا نہیں جہاں ہیلتھ انفراسٹرکچر کے لیے ایک ارب سے زیادہ کے فنڈز نہیں دئیے ، فی حلقہ 50 کلو میٹر سڑکیں دی ہیں ، اللہ پاک سے دعا کرتا ہوں اور کہتا ہوں کہ گزشتہ دو سالوں میں بڑی مزدوری کی ہے محنت کر کے سسٹم کو منظم کیا ہے دعاگو ہوں کے میرے بعد آنے والا اس قافلے کا رہنما بنے ، راہزن نہ بنے ، اس خزانے کو بھرنے کے لیے میں نے دن رات محنت کی ہے ،ان خیالات کا اظہار وزیراعظم آزادکشمیر نے تھوراڑ میں خیر الناس ویلفیئر ٹرسٹ کے زیر اہتمام منعقدہ تقریب سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا، وزیراعظم آزادکشمیر چوہدری انوار الحق نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی بدترین پامالیاں ہو رہی ہیں جبکہ آزاد کشمیر کے عوام کو مکمل آزادیاں حاصل ہیں۔ یہاں کے لوگوں کے آباؤ اجداد نے جو تاریخ رقم کی اس کی حفاظت ہماری قومی ذمہ داری ہے ، ہم اپنے کردار کو بہتر بنا کر ہی نظام کو درست کر سکتے ہیں۔وزیراعظم نے دو اہم سڑکوں کی تعمیر کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ عوام کے ٹیکسوں کا پیسہ ایمانداری سے عوام پر ہی خرچ کیا جائے گا۔ ٹیکس، ٹمبر اور سگریٹ مافیا کے خلاف سخت کارروائیاں کی گئیں، جن کے مثبت اثرات عوام کو پہنچ رہے ہیں، معزز دنیا میں پبلک کے ٹیکسیز کے پیسے پر تختی نہیں لگائی جاسکتی ، تختی صرف آپ اپنے پیسوں سے لگا سکتے ہیں ، تقریب کی صدارت امیر جمعیت علمائے اسلام آزاد کشمیر مولانا سعید یوسف خان نے کی۔ اس موقع پر وزیر زراعت سردار میر اکبر خان، وزیر صحت ڈاکٹر انصر ابدالی ، وزیر خوراک چوہدری محمد اکبر ابراہیم، مشیر حکومت سردار احمد صغیر خان بھی موجود تھے. تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم آزاد کشمیر کا مزید کہنا تھا کہ اس علاقے میں دستیاب سہولیات دیگر علاقوں سے بہتر ہیں۔ پبلک سروس کمیشن اور این ٹی ایس جیسے اداروں کا قیام میرٹ کی بحالی کی طرف ایک اہم پیش رفت ہے۔ وزیر اعظم نے خیر الناس ٹرسٹ کے منتظمین کو عوامی خدمت پر خراجِ تحسین پیش کیا اور کہا کہ حکومت عوامی مطالبات کے حل کے لیے سنجیدہ ہے، باقی مطالبات بھی ترجیحی بنیادوں پر پورے کیے جائیں گے ، وزیر اعظم نے ٹرسٹ کی طرف سے تعمیر سڑک ، ایمبولینس کی فراہمی اور سکول کی عمارت کی تعمیر کا افتتاح بھی کیا، اس موقع پر امیر جمعیت علمائے اسلام آزاد کشمیر مولانا سعید یوسف خان ، مشیر حکومت سردار احمد صغیر ، ویلفیئر ٹرسٹ کے سرپرست سردار محمد اعظم خان ، مولانا طارق مسعود ، سابق سیکرٹری حکومت سردار فاروق تبسّم سمیت دیگر نے بھی خطاب کیا.

سپیکر قانون ساز اسمبلی چوہدری طارق فاروق کی زیر صدارت آزادجموں وکشمیر قانو ن ساز اسمبلی کے اجلاس میں سابق وزیرا عظم و ممبر اسمبلی فیصل ممتاز راٹھور،اپوزیشن لیڈر و ممبر اسمبلی چوہدری محمد یاسین،ممبر اسمبلی چوہدری محمد اسماعیل،ممبر اسمبلی سید بازل علی نقوی،ممبر اسمبلی محترمہ سحرش قمر،ممبر اسمبلی چوہدری محمد رخسار،ممبر اسمبلی محترمہ فرزانہ یعقوب کی جانب سے قراردادیں پیش کیں گئیں۔جنہیں متفقہ طور منظور کر لیا گیا۔
سپیکر قانون ساز اسمبلی چوہدری طارق فاروق کی زیر صدارت آزادجموں وکشمیر قانو ن ساز اسمبلی کے اجلاس میں سابق وزیرا عظم و ممبر اسمبلی
