وزیراعظم آزادحکومت ریاست جموں و کشمیر چوہدری انوارالحق نے کہا ہے کہ برطانیہ میں بھارت کے سفارت خانے کے سامنے مظاہرہ کریں گے

وزیراعظم آزادحکومت ریاست جموں و کشمیر چوہدری انوارالحق نے کہا ہے کہ برطانیہ میں بھارت کے سفارت خانے کے سامنے مظاہرہ کریں گے ، بھارت نے اگر پاکستان میں جارحیت کی تو گھس کر ماریں گے ، بھارت آزاد کشمیر میں بدامنی کے لیے بھی سرمایہ لگا رہا ہے، پاکستان کی ساری قیادت پولرائزیشن میں یکجہتی کا مظاہرہ کرے، اگر مملکت خداداد پاکستان کے عوام ، مسلح افواج پاکستان اور عسکری قیادت وزیراعظم آزادکشمیر کے بیانیے کے پیچھے نہ کھڑے ہوں تو آپ خود اندازہ لگائیے کہ منظر نامہ کیا ہو؟ پھر مجھے اس منصب پر بیٹھ کر اپنے الفاظ کی ادائیگی میں اس ذمہ داری کو بھی محسوس کرنا ہوتا ہے کہ کوئی ایسی گفتگو نہ کی جائے کہ جو پاکستان کو بین الاقوامی سطح پر زیر بار کرے ، بطور کشمیری مسئلہ کشمیر پر بات کرنا اور پھر ایسے وقت میں کرنا کہ جب 2019 کے بعد پہلی مرتبہ جمود ٹوٹا ہے ، اب اگر ہم باہمی شکوے کریں تو اس چھت کے نیچے بیٹھے تمام کے تمام انفرادی یا اجتماعی طور پر اس جمود کا حصہ رہے ہیں ، اللّہ کے فضل و کرم سے ہندوستان اپنے ایک کیے گئے اقدام کے نتیجے میں مسئلہ کشمیر کو ایک ایسے موڑ پر لے آیا ہے کہ ہم 5 اگست 2019 سے قبل کی صورتحال پر چلے گئے ہیں ، یہ بہترین موقع ہے ، جہاں تک حریت قیادت کی اونر شپ کی بات ہے ، ان کی ایک کوئی ایسی دعوت نہیں ہے جس میں انہوں نے مدعو کیا ہو اور میں شامل نہ ہوا ہوں ، یہاں ایک معزز ممبر نے جس کونسل کی تشکیل کی بات کی ہے وہ کونسل تشکیل پائی تھی تو ہم نے آزادکشمیر میں 3 جلسے کیے تھے ، کہا جاتا ہے کہ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے پاکستان کے علاؤہ کوئی اور کیوں نہیں بولتا ؟ یہ ایک نازک بات ہے ، اس کو ہمیں سمجھنا ہے ، اس سے موازنہ کرتے ہوئے ہم فلسطین کی مثال دیتے ہیں ، فلسطین میں پوری دنیا کے ہوتے ہوئے جس قدر “نسل کشی”ہو رہی ہے اس صورتحال کا بھی ادراک کر لیجیے ، ہمارے ساتھ یہاں پاکستان ہے اور عملی طور پر ہے ، پاکستان ایک ایٹمی قوت ہے ، اگر یہ ملک ہے تو تب ہی وزیراعظم آزادکشمیر حریت کانفرنس کے پروگرام میں برملا جرات اور قوت سے “جہاد” کی بات کرتا ہے ،مجھے تو اس دن معلوم نہیں تھا کہ آنے والے دنوں میں ایونٹس کیسے “ان فولڈ” ہوں گے ، اسی تقریب میں میرے ایک وزیر جن کا نام میں نہیں لیتا ، انھوں نے واپسی پر جاتے ہوئے کہا کہ پی ایم صاحب “ آپ کو گھر جانے کی جلدی ہے؟” یہ ہمارا مائنڈ سیٹ ہے ، سب کو یہ بات سمجھنی چاہیے کہ جو جرآت گفتار و جرآت اظہار وزیراعظم آزاد کشمیر کے پاس ہے اس کا عملی مظاہرہ آپ لوگوں نے کشمیر ہاؤس میں ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس میں بھی دیکھا ، وزیراعظم پر خودکش حملوں کی تیاریاں بھی کی گئیں ، گزشتہ 3، 4دنوں میں وزیراعظم آزاد کشمیر نے ٹی وی چینلز اور ڈیجیٹل میڈیا پر مسئلہ کشمیر کے حوالے سے جو گفتگو کی، اس کی وجہ سے وہ سب چینلز بھارت میں بند کر دئیے گئے ہیں، 3 روپے بجلی اور 2000 روپے من آٹا ،کے ساتھ ساتھ حقوق کی جنگ جس میں دشمن ہمیں خیبر پختونخوا سے لے کر بلوچستان تک جہاں لے کر جانا چاہتا تھا ہم وہاں نہیں گئے ، ان سارے چیلنجیز کا روزانہ کی بنیاد پر حکومت آزاد کشمیر نے مقابلہ کیا ہے ، جب آپ کسی بھی “سٹیٹس کو” کو چیلنج کرتے ہیں تو ردعمل آتا ہے ، میں اپنے دو پیش رو سابق وزرائے اعظم کا بھی مشکور ہوں کیونکہ جو اس منصب پر رہا ہے اسے معلوم ہے کہ کشمیر لبریشن سیل کی فعالیت، اس کا مینڈیٹ کیا ہے ؟ اسے کس حد تک اپنی آئینی ذمہ داریاں سر انجام دینی ہیں ؟آج میں بطور وزیراعظم یہ کہتا ہوں کہ کسی بھی سٹیک ہولڈر سے پوچھے بغیر وزیراعظم آزاد کشمیر کے دل کی جو بات ہے وہ اسے نیشنل میڈیا اور انٹرنیشنل میڈیا پر کہہ دیتا ہے ، ابھی تک کسی سٹیک ہولڈر نے یہ نہیں کہا کہ وزیراعظم صاحب آپ کا بیانیہ بہت سخت ہے ، اس میں تھوڑی ترمیم کی ضرورت ہے ؟ قطعی طور پر ایسی کوئی بات نہیں ہوئی ، اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کی اونر شپ مملکت خداد پاکستان لیتا ہے یعنی پوری دنیا کی اونرشپ ایک طرف اور مملکت خداداد پاکستان کی اونرشپ ایک طرف ، الحمد اللہ ہمیں بلکل بھی پریشانی کی ضرورت نہیں ہے ، برطانیہ میں مظاہروں کی تجویز اچھی بات ہے لیکن ہمیں اس کے لیے یکجہتی کامظاہرہ کرناہوگا ، آج ہم بین الاقوامی قرضوں کی دلدل میں پھنسے ہیں ، اس قرض کی شرائط ہمارے سامنے ہیں ، پھر بھی وزیراعظم آزادکشمیر یہ کہتا ہے کہ تم پہل کرو تو تمہیں اندر گھس کر ماریں گے ، بھارت جس طرح کی سفارتکاری کرتا ہے وہ اس جملے کو بھی استعمال کرسکتا ہے اور تحریک کو دہشتگردی کے ساتھ جوڑ سکتا ہے ، میں نے سنا ہے کہ ایک تو وہ میرا نام درست نہیں لیتےجس کا مجھے ذاتی طور پر بھی دکھ ہے ، کسی کو دہشتگرد ڈکلئیر کرنے میں انھیں کیا زور لگتا ہے ؟اسی آئی ایم ایف کے پروگرام کے دوران سپہ سالار پاک فوج تحریک آزادی کشمیر کے لیے مظفر آباد کی دھرتی پر کھڑے ہو کر کہتے ہیں کہ کشمیر کے لئے 3 جنگیں لڑی ہیں 7 اور بھی لڑنا پڑیں تو لڑیں گے ، مطلب واضح ہے کہ جذبہ ایمانی کا امتحان آئی ایم ایف سے مشروط نہیں ہے ، وہ ایک قوت ہے جو مالک الملک عطا کرتا ہے ، اس صورتحال میں آزادکشمیر کی سیاسی قیادت اور حریت کانفرنس ایک پیج پر ہیں ، کسی بھی کمی کوتاہی کو دور کرنے کے لیے تیار ہوں ، ہر چیز کا حل موجود ہے ، غوروفکر اس بات پر کرنا ہے کہ جس مسئلہ کے لیے 3 نسلیں گنوا چکے ہیں ، اس مسئلہ کشمیر کو آگے لے کر کیسے چلنا ہے ،آج ایل او سی کے 14 حلقوں کے حوالے سے جو چیزیں بیان کی جاسکتی ہیں ان کے حوالے سے قانون ساز اسمبلی میں بتایا ہے کہ ہم کیا کرنے جارہے ہیں ؟ کچھ اقدامات پر قومی سلامتی کے تقاضوں کی وجہ سے گفتگو نہیں کی جاسکتی لیکن کچھ اقدامات ایسے اٹھائے ہیں جن پر جب ردعمل آئے گا تو دنیا کو نظر آئے گا ، میں ضمیر کی آواز کو میٹھے لہجے میں بیان نہیں کرسکتا ، میرے منصب کا تقاضا ہے کہ کوئی ایسی بات نہیں کرنی جس کی وجہ سے سلامتی کا پہلو زیر بار ہو ، جس یکجہتی کا مظاہرہ اس فورم سے کیا گیا ، ایسا یکجہتی کا مظاہرہ ہم پاکستان میں دیکھنے سے محروم ہیں ، اگر حریت کانفرنس کی قیادت میں آزادکشمیر کی ساری قیادت اتفاق کرے تو یہ پورا فورم میزبان بن جائے اور پاکستان کی ساری مذہبی اور سیاسی قیادت کو مظفر آباد یا کشمیر ہاؤس میں اکھٹا کر لے ،آپ سب اپنی اپنی “مدر پارٹیز” کی اونر شپس لیں ، جہاں میرا حصہ بنتا ہے وہاں میں حصہ ڈالوں گا، اب جب پاکستان کی ساری قیادت پولرائزیشن میں یکجہتی کا مظاہرہ کرے گی تو یاد رکھیے ، اس کی جو طاقت ہے وہ کئی ایٹم بمبوں سے زیادہ ہوگی ، دشمن آپ پر وار ہی اسی وقت کرتا ہے جب وہ سمجھتا ہے کہ قوم تفریق کا شکار ہے ، اتحاد کی صورت میں بھارت کی یہ جرآت ہی نہیں کہ کچھ کر پائے ،آئی ایم ایف کے پروگرام کے دوران بھی مسئلہ کشمیر پر سپہ سالار پاک فوج نے دوٹوک موقف اپنایا ، ان خیالات کا اظہار وزیراعظم آزاد کشمیر چوہدری انوار الحق کا مظفر آباد میں منعقدہ آل پارٹیز کشمیر کانفرنس سے خطاب میں کیا ۔ وزیراعظم آزاد کشمیر چوہدری انوار الحق نے کہا کہ آل پارٹیز کشمیر کانفرنس میں بین الاقوامی مظاہروں بارے انتہائی باوزن تجویز سامنے آئی ہے ہمیں برطانیہ میں ایک انتہائی طاقتور مظاہرہ کرنا چاہیے ، برطانیہ میں مظاہروں میں کم افراد کی شرکت کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ یہاں پولیٹیکل پولرائزیشن تھی ،جب یہاں سے سیاسی قیادت جاتی تھی تو وہاں کارکنان شدید اختلافات کا شکار ہو جاتے ہیں لیکن اگر یکجہتی اور اتحاد کا مظاہرہ کرتے ہوئے آل پارٹیز کشمیر کانفرنس کے فورم سے سیاسی قیادت برطانیہ جانا چاہے تو آزاد کشمیر کا لبریشن سیل معاونت کے لیے مکمل طور پر تیار ہے ، تیاری کیجیے ، جائیے اور ایک طاقتور اور مضبوط بیانیہ بھارت کے سفارتخانے کے سامنے دیجیے ، حکومت آزادکشمیر اس معاملے میں مکمل طور پر آپ کے ساتھ کھڑی ہے ، اس حوالے سے رہنما جے کے پی پی حسن ابراہیم صاحب جائیں ، باقی جو دوست جانا چاہیں ، جاسکتے ہیں ، ہر عمل کا ایک ردعمل ہوتا ہے ، ہم جتنی گفتگو یہاں کر رہے ہیں اور جس طرح بات اب گفتگو سے آگے عملی اقدامات کی طرف چلی گئی ہے ، آپ کیا سمجھتے ہیں اس کا ردعمل نہیں آئے گا ؟ اب کچھ باتیں میں آپ لوگوں کو بتا نہیں سکا کہ ہم نے یہاں پر دہشتگردی کے کیسے نیٹ ورکس پکڑے ہیں ؟ ، ان سے ہمیں کیا معلومات ملی ہیں ؟ بھارت آزاد کشمیر میں بدامنی کے لیے کتنا سرمایہ لگا رہا ہے ؟ بھارت کتنے فیک اکاؤنٹس یورپ اور برطانیہ سے لاکھوں ڈالر خرچ کرکے چلا رہا ہے ؟ وزیر اعظم آزادکشمیر کی مجبوری یہ ہے کہ خدانخواستہ اگر یہاں آگ لگ جائے تو ہم ایل او سی پار کشمیریوں کی کیا مدد کریں گے ؟ گھنٹے تو صرف 24 ہیں، ان 24 گھنٹوں میں گزشتہ دو سالوں کے دوران چیزوں کو جس طرح میں نے “ان فولڈ “ ہوتے دیکھا ہے اس کو میں جانتا ہوں یا میرا اللہ جانتا ہے ، شہدا کا ہم پر اجتماعی قرض ہے ،وزیراعظم آزادکشمیر نے کہا کہ ہمارے آباؤاجداد جو “سٹیٹس کو” دے کر گئے ہم سب ان کے مقروض ہیں ، اللہ تعالی معاف کرے ، اس سٹیٹس کو میں اگر ہم بہتری نہیں لا سکے تو پھر اس “سٹیٹس کو” کو ریورس بھی نہیں ہونے دیں گے ، خوش قسمتی یہ ہے کہ یہاں پر نظریاتی آلودگی نہیں پائی جاتی ، کہنا چاہتا ہوں کہ کچھ عملی اقدامات کی طرف ہم نے جانا ہے ، اس کے بعد ایک انتہائی طاقتور فورم کے ذریعے دفتر خارجہ سے گزارش کریں گے کہ صورتحال سے متعلق ڈپٹی پرائم منسٹر آف پاکستان و وزیرخارجہ پاکستان صورتحال بارے اس فورم کو آن بورڈ لیں ، وزیراعظم آزادکشمیر نے کہا کہ یہ بھی انتہائی مؤثر اور اچھی تجویز ہے کہ یہاں آزاد کشمیر میں وزیراعظم پاکستان کا عوامی جلسے میں فقیدالمثال استقبال کیا جائے ، اس یکجہتی کو عوامی جلسے، جلسوں اور ریلیوں میں بھی قائم رکھنا ہے ، اس کے لیے ہم سب کو اپنے ظرف میں تھوڑا اضافہ کرنا ہوگا ، اگر ہم ایل او سی کے 14 حلقوں کے ساتھ یہ یکجہتی منانا چاہتے ہیں تو پھر وہاں کے پروگراموں میں ساری سیاسی جماعتوں کی قیادت شامل ہو تو پھر یہ حقیقی معنوں میں یکجہتی ہے ، اگر یہ یکجہتی پوائنٹ سکورنگ کے لیے ہوتو پھر یہ یکجہتی گلے کا پھندا بن جائے گی ، وزیراعظم آزادکشمیر نے کہا کہ کسی بھی ایک حلقے میں کوئی پروگرام رکھا جاتا ہے تو پھر وہاں اس حلقے کی ساری جماعتوں کی قیادت ہو ، یہ بھی ہمیں دیکھنے کی ضرورت ہے کہ اگر ہم نے الفاظ کو عملداری کی طرف لے جانا ہے تو پھر یکجہتی کو درست معنوں میں نافذ کرنا پڑے گا ، اس کے لیے کنوئینر حریت کانفرنس سے گزارش ہے کہ اس آل پارٹیز کشمیر کمیٹی کی سب کمیٹی بنا لیجیے ، اس میں جو ذمہ داری حکومت آزاد کشمیر کے ذمے آپ لوگ لگائیں گے اسے ہم پورا کریں گے ،اس کے لیے اگلے دو ، تین دن میں پھر بیٹھتے ہیں ، آزاد کشمیر میں ہم جس فورم پر آج بیٹھے ہیں ، ایمرجنسی حالات میں اس فورم سے زیادہ سے زیادہ استفادہ لینے کی ضرورت ہے ، آپ جتنی دفعہ اس فورم پر بیٹھ کر اجتماعیت کے حوالے سے جو بھی فیصلہ کریں گے ،اس کا توڑ دشمن کے پاس موجود نہیں ہے ، اور یہی آزادکشمیر کی سیاست کا حسن ہے کہ یہاں نفرت سیاسی بیانیے کی حد تک تو ضرور ہے لیکن احترام کا عنصر ملحوظ خاطر رکھا جاتا ہے ، وزیراعظم آزادکشمیر نے کہا کہ یہاں کوئی ریڈ لائن کراس نہیں کرتا ، اگر ہم برطانیہ جانا چاہیں تو وہاں 10 ، 12 ہزار بندوں کا مظاہرہ بلکل معمولی بات ہے ، وہاں اختلافات اس وجہ سے ہوتے ہیں کہ یہاں پاکستان میں پولرائزیشن کا اثر وہاں بھی پڑتا ہے ، اگر ہم یہ طے کر لیں کہ یہ سیاسی نہیں بلکہ حریت کانفرنس کے زیر اہتمام مسئلہ کشمیر کے حوالے سے مظاہرہ ہے تو پھر وہاں پر کوئی مخالف نعرہ بھی نہیں لگے گا ، پھر تمام سیاسی جماعتوں کے کارکنان آزادکشمیر کی اس قیادت کو خوش آمدید بھی کہیں گے ، اس کے لیے مسلم لیگ (ن) اور دیگر سیاسی جماعتوں کی قیادت سے بھی گزارش کروں گا کہ یہ مناسب وقت ہے ، وزیراعظم آزادکشمیر نے کہا کہ اس وقت آزاد کشمیر میں ایک بڑے عوامی جلسے سے وزیراعظم پاکستان کو خطاب کرنا چاہیے ، اگر پاکستان کی باقی قیادت بھی آئے تو یہ تو سونے پر سہاگہ ہے کہ یہاں پیپلز پارٹی کی قیادت بھی ہو اور مذہبی قیادت بھی ہو ، اس سے قبل ہمیں اس عزم کا اظہار بھی کرنا ہے کہ پاکستان کی ساری سیاسی و مذہبی قیادت کو بھی درخواست کریں کہ آپ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے اپنے سارے معاملات کو ایک طرف رکھتے ہوئے اس فورم کی دعوت پر آئیں ،انتظامات کی ذمہ داری حکومت آزاد کشمیر کی ہے ، وزیراعظم آزادکشمیر نے کہا کہ ان مناسب تجاویز کے ساتھ اور سارے دوستوں کی تجاویز کی توثیق کرتے ہوئے کہتا ہوں کہ انشاء اللہ تعالی مسئلہ کشمیر کو ایک بار پھر منظر نامے پر لانے اور مقبوضہ کشمیر کے مظلوم عوام کی دبی ہوئی آواز کو اجاگر کرنے سمیت آزاد کشمیر کی قیادت کو بھی قومی ذمہ داریوں کو نبھانے کا جو موقع ملا ہے ،انشاءاللہ اس موقع کو بروئے کار لاتے ہوئے مسئلہ کشمیر کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے ۔

Share This Post

More To Explore