صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن آف پاکستان ہارون الرشید ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر کا حل عالمی برادری کی اخلاقی، قانونی اور انسانی ذمہ داری ہے، کشمیری عوام کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق دیے بغیر جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔

صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن آف پاکستان ہارون الرشید ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر کا حل عالمی برادری کی اخلاقی، قانونی اور انسانی ذمہ داری ہے، کشمیری عوام کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق دیے بغیر جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ 27 اکتوبر یومِ سیاہ اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ کشمیری عوام کی حقِ خودارادیت کے لیے جدوجہد اور قربانیوں کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔انہوں نے کہا کہ 27 اکتوبر 1947ء کو بھارتی افواج کی ریاست جموں و کشمیر میں آمد کشمیری عوام کی تاریخ کا ایک المناک واقعہ ہے۔ اس دن سے کشمیری عوام اپنے سیاسی مستقبل، آزادی اور بنیادی حقوق کے حصول کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ہارون الرشید ایڈووکیٹ نے کہا کہ مسئلہ کشمیر محض ایک علاقائی تنازع نہیں بلکہ حقِ خودارادیت، انسانی حقوق اور بین الاقوامی وعدوں کی پاسداری کا معاملہ ہے۔ اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کی روشنی میں اس مسئلے کے منصفانہ اور پُرامن حل کے لیے عالمی برادری کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کی قربانیوں اور مشکلات کو فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ انسانی حقوق کے عالمی اداروں اور بین الاقوامی برادری کو مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کے تحفظ اور کشمیری عوام کی جائز امنگوں کو اہمیت دینے کے لیے مؤثر اقدامات کرنے چاہئیں۔صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن آف پاکستان نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں امن، استحکام اور خوشحالی کے لیے مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل ناگزیر ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی حمایت کی ہے اور عالمی سطح پر اس مسئلے کو اجاگر کرتا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ 27 اکتوبر یومِ سیاہ منانے کا مقصد عالمی ضمیر کو بیدار کرنا اور کشمیری عوام کی جدوجہد کی جانب دنیا کی توجہ مبذول کرانا ہے۔ کشمیری عوام کو اقوام متحدہ کی قراردادوں اور ان کی امنگوں کے مطابق اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق ملنا چاہیے۔

Share This Post

More To Explore