جموں و کشمیر لبریشن سیل(راولپنڈی سینٹر) اور نیشنل پریس کلب کے اشتراک سے 27 اکتوبر یوم سیاہ کے حوالے سے سیمینار ”بھارتی غیر قانونی قبضہ اور جارحیت کے 79 سال” کا انعقاد کیا گیا ۔سیمینار میں چییرمین پارلیمانی کشمیر کمیٹی رانا قاسم نون ،سپیکر قانون ساز اسمبلی چوہدری طارق فاروق ،سابق صدر و وزیراعظم آزادجموں و کشمیر سردار محمد یعقوب خان ،سابق کنوینر حریت کانفرنس محمد فاروق رحمانی ،قومی اسمبلی کی رکن محترمہ مہہ جبین عباسی امیر جماعت اسلامی آزادجموں و کشمیر و گلگت بلتستان ڈاکٹر محمد مشتاق ،پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ کے صدر افضل بٹ ،محترمہ شمیم شال ،الطاف حسین وانی ،ڈاکٹر عابد عباسی ،غلام نبی بٹ ،آر آئی یو جے کے سیکرٹری جنرل راجہ بشیر عثمانی ،سیکرٹری فنانس این پی سی عابد عباسی ،ڈائریکٹر لبریشن سیل راجہ خان افسر خان ،سابق ڈائریکٹر لبریشن سیل سرور گلگتی،سردار نجیب الغفور ،راجہ راشد رضا ،خواجہ عمران الحق،سردار شوکت محمود،اصغر حیات ،راجہ رئیس، قاری حسام رشید ، راجہ ریاض ،چوہدری شبیر و دیگر نے شرکت کی ۔پارلیمانی کشمیر کمیٹی کے چییرمین رانا قاسم نون نے کہا کہ پاکستان کشمیریوں کے ساتھ ہے ،ہم 27 اکتوبر کو یوم سیاہ منا کر دنیا کو یہ پیغام دے رہے ہیں کہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر پر غاصبانہ قبضہ کیا ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان 14 اگست کو معرض وجود میں آیا مگر غازی ملت،سابق صدر سردار محمد ابراہیم خان نے 19 جولائی 1947 کو قرارداد الحاق پاکستان منظور کر کے اپنا لائحہ عمل دیا اس طرح کشمیریوں کیلیے پاکستان 19 جولائی کو ہی بن گیا تھا ۔انہوں نے کہا کہ وی پی مینن اور پٹیل نے مہاراجہ سے ایک جھوٹا معاہدہ کروایا پھر بھارتی فوج سری نگر اتری اور مقبوضہ کشمیر پر غیر قانونی قبضہ کیا ،بھارت نے جونا گڑھ ،حیدر آباد پر فوجی قبضہ کیا ،جنوبی ایشیاء میں ایک نئی جیو پولیٹیکل حیثیت ہے ،غزہ اور مقبوضہ کشمیر میں مماثلت ہے بھارت اکھنڈ بھارت کی بات کرتا ہے نیتن یاہو بھی گریٹر اسرائیل کی بات کرتا ہے ،غزہ میں بھی genocide ہے ،نقل مکانی ہے ،عمارتیں منہدم کرنا ،اپنی املاک سے بے دخل کرنا ہے مقبوضہ کشمیر میں بھی یہی صورتحال ہے ۔جموں میں ڈھائی لاکھ کشمیری شہید کیے گئے ۔کشمیر پاکستان کا قومی کاز ہے جس نے اس کاز سے غداری کی اس نے شہداء کشمیر سے غداری کی ،تمام سیاسی جماعتیں مسئلہ کشمیر کے حوالے سے متفق ہیں ،کشمیریت اور پاکستانیت ایک ہیں جہاں ہم یہ کہتے ہیں کشمیر پاکستان کی شہہ رگ ہے وہی کشمیریوں کے دل بھی پاکستان کے ساتھ دھڑکتے ہیں ۔10 لاکھ بھارتی فوج مقبوضہ کشمیر میں تعینات ہے دنیا کا سب سے زیادہ فوج تعیناتی کا علاقہ ہے ،اسوقت غیر کشمیریوں کو جعلی ڈومیسائل کے ذریعے آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ،انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں ،کشمیریوں کی خواہشات کے برعکس ان کے حقوق کو بھارت پامال کر رہا ہے ،کشمیر ایک نیوکلئیر فلیش پوائنٹ بن چکا ہے ،انہوں نے کہا کہ حال ہی میں اقوام متحدہ ، کنٹیکٹ گروپ ،او آئی سی میں مسئلہ کشمیر کے حوالے سے بھرپور آواز اٹھائی گئی ۔وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف نے اقوام متحدہ میں جرات ،بہادری اور دلیری سے مسئلہ کشمیر کو اجاگر کیا ۔وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف نے ایک مدبر کی حیثیت سے اقوام متحدہ میں خطاب کیا ۔معرکہ حق میں ہماری بہادر افواج نے چیف آف ڈیفنس فورسز ،فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے بھارت کا غرور خاک میں ملا دیا ،ہمارے شاہینوں نے اپنے پروفیشنل ازم کی دھاک بٹھا دی ،پاکستان نے بھارت سے کشمیر پر پانچ جنگیں لڑی ہیں ہم کبھی کشمیر کو نہیں بھول سکتے ۔ہاکستان نے ہمیشہ امن کی بات کی ہے بامقصد مذاکرات کی بات کی ہے ۔یہ ہماری کامیابی ہے کہ فاروق عبداللہ جیسا شخص کہہ رہا ہے پاکستان نے کشمیریوں کو بچا رکھا ہے ۔حریت کانفرنس کی لیڈر شپ کے ساتھ ملکر مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرتے رہیں گے ۔بھارت کالے قوانین کے ذریعے کشمیریوں کے حقوق پامال کر رہا ہے ۔آج ہم عہد کرتے ہیں کہ کشمیر کاز کیلیے بھرپور جدوجہد کریں گے اور کشمیر بنے گا پاکستان کو آگے لے کر چلیں گے الحاق پاکستان کی تکمیل پاکستان ہے۔سپیکر قانون ساز اسمبلی چوہدری طارق فاروق نے کہا کہ وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف کی صورت میں ،اس وقت جو لیڈر شپ ہے وہ دنیا میں بات کر سکتی ہے ،اس وقت مسئلہ کشمیر پر اپنی بات آگے بڑھانے کی ضرورت ہے ،سیاسی طور پر فیصلے کرنا ہونگے ،بیس کیمپ کی حکومت کو زیادہ کام کرنا ہے ،نظریاتی اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوے اپنی آنے والی نسل کا تحفظ یقینی بنانا ہو گا ،شہداء کشمیر کو سلام عقیدت پیش کرتے ہیں ۔بھارت کا ظلم ،زیادتی اور جابرانہ قبضہ کوئی کشمیری تسلیم نہیں کرتا ،ہمیں اپنی جدوجہد حکمت ،دانائی سے کرنی ہے اب جنگوں کا زمانہ نہیں ہے آپ کو دلائل سے بات کرنی ہے اور بات منوانے ہے ۔کشمیر پر بات کرنے والی تنظیموں ،سیاسی جماعتوں اور دیگر فورموں کو ملکر کام کرنا ہے تاکہ کشمیری اپنی جدوجہد میں کامیاب ہو سکےسابق صدر و وزیراعظم سردار محمد یعقوب خان نے کہا کہ پاکستان کی حکومت ،پاک فوج اور پاکستانی عوام کے مشکور ہیں جنہوں نے کشمیری عوام کا ساتھ جاری رکھا ہے اور جدوجہد آذادی کشمیر کو سیاسی ،سفارتی اور اخلاقی حمایت فراہم کر رہا ہے ۔بیس کیمپ کا ہر شخص یقین رکھتا ہے پاکستان ہمارا ہے اور ہم پاکستانی ہیں ۔اپنے بہادر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں ،پاک فوج کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں پاک فوج ہماری محافظ فوج ہے ۔سابق وزیراعظم۔سردار تنویر الیاس خان نے کہا کہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں فوج اتارنے کا جو جواز بنایا وہ جعلی ہے ،بھارت نے ہر طرح کا ظلم و جبر کیا مگر وہ کشمیریوں کو ان کی جدوجہد سے نہیں روک سکا ،کشمیریوں کا اول و آخر صرف پاکستان ہے ،کشمیر کے تمام قدرتی راستے مملکت خداداد پاکستان سے جڑے ہیں ،مسئلہ کشمیر پر کوئی سیاست نہیں ہے اس پر پوری قوم اور تمام سیاسی جماعتیں متفق ہیں ۔ مقررین نے کہا کہ وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں جنہوں نے مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے کیلیے ٹھوس اقدامات کئے ۔27 اکتوبر کو بھارت نے کوشش کی کہ وہ سری نگر کو دو قومی نظریہ سے ہم آہنگ نہ ہونے دے ،مگر مہاراجہ اور اسکے سرپرست ناکام ہوے ہیں کیونکہ کشمیری آج بھی اپنے حق خودارادیت کیلیے سرگرم عمل ہیں ،کشمیریوں کا عزم بھارت سے آزادی ہے انہوں نے بھارتی فوج کے سامنے سرنڈر نہیں کیا ہے اور اپنی شہادتوں کے ذریعے مسئلہ کشمیر کو ژندہ رکھے ہوے ہیں ۔میڈیا کو مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے میں اپنا فعال کردار ادا کرنا ہو گا ۔حضرت قائد اعظم علیہ الرحمہ نے کہا تھا کشمیر پاکستان کی شہہ رگ ہے انشاءاللہ کشمیری الحاق پاکستان کی منزل کو حاصل کر کے شہداء کے مشن کو مکمل کریں گے ۔ 27 اکتوبر ایک سانحہ تھا جس کا شکار جموں و کشمیر کے عوام ہوے ،بھارت نے غیر قانونی طور پر سرینگر میں فوجیں اتاریں اور کشمیریوں کی مرضی و منشاء کے برعکس جموں و کشمیر کے ایک بڑے حصے پر غیر قانونی قبضہ کیا ۔یہ انسانی تاریخ کا بدترین دن ہے جس کے بعد سے کشمیری عوام بھارتی فوج کے ظلم و ستم کا شکار ہیں اس وقت بھی مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی جانب سے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں جاری ہیں ۔انہوں نے کہا آج کے دن نے جنوبی ایشیاء کی Geopolitical ہسٹری کو تبدیل کیا ،ہمارے آباو اجداد نے اپنی جدوجہد سے جو ریاست آزاد کروائی وہی تحریک آزادی کا بیس کیمپ ہے ۔ڈائریکٹر لبریشن سیل (راولپنڈی سینٹر )راجہ خان افسر خان اور نیشنل پریس کلب کے فنانس سیکرٹری عابد عباسی نے مہمانان گرامی کا شکریہ ادا کیا ۔سیمینار کی نظامت کے فرائض انچارج سوشل میڈیا سردار نجیب الغفور نے ادا کیے سیمینار کے اختتام پر شہداء کشمیر و پاک فوج کے درجات کی بلندی ،پاکستان کی ترقی و خوشحالی اور تحریک آزادی کشمیر کی کامیابی کیلیے خصوصی دعا کی گئی

سپیکر قانون ساز اسمبلی چوہدری طارق فاروق کی زیر صدارت آزادجموں وکشمیر قانو ن ساز اسمبلی کے اجلاس میں سابق وزیرا عظم و ممبر اسمبلی فیصل ممتاز راٹھور،اپوزیشن لیڈر و ممبر اسمبلی چوہدری محمد یاسین،ممبر اسمبلی چوہدری محمد اسماعیل،ممبر اسمبلی سید بازل علی نقوی،ممبر اسمبلی محترمہ سحرش قمر،ممبر اسمبلی چوہدری محمد رخسار،ممبر اسمبلی محترمہ فرزانہ یعقوب کی جانب سے قراردادیں پیش کیں گئیں۔جنہیں متفقہ طور منظور کر لیا گیا۔
سپیکر قانون ساز اسمبلی چوہدری طارق فاروق کی زیر صدارت آزادجموں وکشمیر قانو ن ساز اسمبلی کے اجلاس میں سابق وزیرا عظم و ممبر اسمبلی
