چیف جسٹس عدالت العالیہ آزاد جموں و کشمیر جسٹس سردار لیاقت حسین نے کہا ہے کہ ہم نے ڈوگرہ سامراج کے خلاف عملی جدوجہد کرکے ساڑھے چار ہزار مربع میل پر مشتمل خطہ آزاد کرایا۔ یہ آزادی کسی مذاکرات یا ٹیبل ٹاک کے نتیجے میں حاصل نہیں ہوئی، بلکہ ہمارے آباؤ اجداد نے گولی، لاٹھی اور بے شمار مشکلات کا سامنا کرتے ہوئے اپنے خون کے نذرانے پیش کیے اور کشمیر کے اس حصے کو آزاد کرایا جسے آج آزاد جموں و کشمیر کہا جاتا ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے کلچرل کمیٹی، سینٹرل بار ایسوسی ایشن مظفرآباد کے زیر اہتمام آزاد جموں و کشمیر کے 79ویں یومِ تاسیس کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب میں جج احتساب کورٹ مظفرآباد، ضلع قاضی مظفرآباد، ججز و قاضی صاحبان ڈسٹرکٹ کورٹس مظفرآباد، ممبران بار کونسل آزاد جموں و کشمیر، جنرل سیکرٹری سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن، سینئر وکلاء، نائب صدر، جنرل سیکرٹری اور دیگر عہدیداران سینٹرل بار ایسوسی ایشن مظفرآباد، چیئرپرسن کلچرل کمیٹی سینٹرل بار ایسوسی ایشن مظفرآباد بلقیس رشید منہاس ایڈووکیٹ، خواتین وکلاء سمیت وکلاء کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس عدالت العالیہ نے کہا کہ 24 اکتوبر 1947ء کو غازی ملت سردار محمد ابراہیم خان کی قیادت میں ایک انقلابی حکومت قائم ہوئی، جس نے تحریکِ آزادی کشمیر کو نئی سمت دی۔ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق جموں و کشمیر کے عوام کو یہ حق دیا گیا کہ وہ اپنی آزاد مرضی سے اپنے مستقبل کا فیصلہ کریں، تاہم مقبوضہ کشمیر میں بسنے والے ایک کروڑ سے زائد کشمیری آج بھی اپنے حقِ خودارادیت کے حصول کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔چیف جسٹس عدالت العالیہ آزاد جموں و کشمیر جسٹس سردار لیاقت حسین نے مزید کہا کہ مقبوضہ کشمیر کے عوام کی آزادی اور ان کے مستقبل کا فیصلہ ان کی خواہشات اور مرضی کے مطابق ہونا چاہیے۔ اقوام متحدہ اور عالمی برادری کی ذمہ داری ہے کہ وہ کشمیریوں کا مقدمہ سنے اور انہیں اپنے مستقبل کا آزادانہ فیصلہ کرنے کا حق دلانے کے لیے مؤثر کردار ادا کرے۔ اگر عالمی ادارے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام رہتے ہیں تو کشمیری عوام اپنی جدوجہدِ آزادی جاری رکھیں گے، کیونکہ جس عزم اور قربانی کے ساتھ آزاد کشمیر حاصل کیا گیا، وہی جذبہ آج بھی تحریکِ آزادی کشمیر کی بنیاد ہے۔ وکلاء کے کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے چیف جسٹس عدالت العالیہ نے کہا کہ تحریک پاکستان میں قائداعظم محمد علی جناحؒ نے بطور بیرسٹر اور مدبر رہنما تاریخی کردار ادا کیا، جبکہ آزاد کشمیر کے قیام میں بھی غازی ملت سردار محمد ابراہیم خان سمیت متعدد اہم شخصیات نے نمایاں خدمات انجام دیں۔ اگرچہ آزادی کی جدوجہد میں خطے کے عوام نے اجتماعی طور پر حصہ لیا، تاہم قانونی ماہرین اور وکلاء کی خدمات بھی تحریکوں کو سمت دینے میں اہمیت رکھتی ہیں۔ آج وکلاء برادری کی ذمہ داری ہے کہ وہ کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کے لیے اپنا مؤثر کردار ادا کرے اور مقبوضہ کشمیر کے عوام کی آواز کو اجاگر کرے۔ چیف جسٹس عدالت العالیہ آزاد جموں و کشمیر جسٹس سردار لیاقت حسین نے کہا کہ پاکستان کشمیری عوام کی حمایت اور سرپرستی کر رہا ہے، جبکہ کشمیری عوام پاکستان اور اس کی مسلح افواج کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ وہ دن دور نہیں جب مقبوضہ کشمیر کے عوام بھی آزادی کی منزل حاصل کریں گے اور اپنے مستقبل کا فیصلہ اپنی مرضی کے مطابق کر سکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی افواج کے ہاتھوں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور مظالم کی اطلاعات سامنے آتی رہتی ہیں، جبکہ کشمیری خواتین اور بیٹیوں کی عزت و حرمت کو بھی سنگین خطرات کا سامنا ہے۔ چیف جسٹس عدالت العالیہ نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کے تحفظ، کشمیری عوام کی مشکلات کے خاتمے اور مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل کے لیے اپنا مؤثر کردار ادا کرے۔تقریب سے چیئرپرسن کلچرل کمیٹی سینٹرل بار ایسوسی ایشن مظفرآباد بلقیس رشید منہاس ایڈووکیٹ، راجہ زاہد اکرم ایڈووکیٹ اور اقبال رشید منہاس ایڈووکیٹ نے بھی خطاب کیا۔ تقریب کے اختتام پر آزاد جموں و کشمیر کے 79ویں یوم تاسیس کی مناسبت سے کیک بھی کاٹا گیا۔

سپیکر قانون ساز اسمبلی چوہدری طارق فاروق کی زیر صدارت آزادجموں وکشمیر قانو ن ساز اسمبلی کے اجلاس میں سابق وزیرا عظم و ممبر اسمبلی فیصل ممتاز راٹھور،اپوزیشن لیڈر و ممبر اسمبلی چوہدری محمد یاسین،ممبر اسمبلی چوہدری محمد اسماعیل،ممبر اسمبلی سید بازل علی نقوی،ممبر اسمبلی محترمہ سحرش قمر،ممبر اسمبلی چوہدری محمد رخسار،ممبر اسمبلی محترمہ فرزانہ یعقوب کی جانب سے قراردادیں پیش کیں گئیں۔جنہیں متفقہ طور منظور کر لیا گیا۔
سپیکر قانون ساز اسمبلی چوہدری طارق فاروق کی زیر صدارت آزادجموں وکشمیر قانو ن ساز اسمبلی کے اجلاس میں سابق وزیرا عظم و ممبر اسمبلی
