چیف جسٹس آزاد جموں و کشمیر جسٹس راجہ سعید اکرم خان نے کہا ہے کہ وکلاء اور عدلیہ انصاف کے نظام کے اہم ستون ہیں۔ قانون کی بالادستی عدلیہ کے وقار ور عوام کو بروقت انصاف کی فراہمی کے لیے دلیہ اور وکلاء کے درمیان باہمی احترام، اعتماد اور تعاون ناگزیر ہے۔وکلاء اپنے مؤکلین کے مقدمات مکمل تیاری، ٹھوس دلائل اور قانونی تقاضوں کے مطابق پیش کریں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے سنٹرل بار ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔تقریب میں سینئر جج سپریم کورٹ جسٹس رضا علی خان،جج سپریم کورٹ جسٹس خالد یوسف چوہدری، صدر سنٹرل بار ایسوسی ایشن راجہ ضیغم افتخار، صدر ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن، جنرل سیکرٹری سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن اور سینئر وکلاء کی بڑی تعداد موجود تھی۔انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس کا منصب سنبھالنے کے بعد میری توجہ عدالتی نظام کی بہتری اور ادارہ جاتی اصلاحات پر مرکوز رہی۔ میرے ساتھی جج صاحبان انتہائی قابل اور باصلاحیت ہیں۔ سینئر جج سپریم کورٹ جسٹس رضا علی خان ایڈووکیٹ جنرل رہ چکے ہیں، سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ بار کے صدر رہے ہیں اور بار کونسل میں بھی خدمات انجام دے چکے ہیں اور انشاء اللہ مستقبل میں ریاست کے لیے بہترین چیف جسٹس ثابت ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ قرآن مجید میں ارشاد ہے کہ بعض فیصلے انسانوں کو گراں گزرتے ہیں، حالانکہ ان میں اللہ تعالیٰ کی مصلحت پوشیدہ ہوتی ہے۔ ہمیں اللہ تعالیٰ کے فیصلوں پر بھروسہ رکھنا چاہیے۔انہوں نے صدر سینٹرل بار ایسوسی ایشن راجہ ضعیم افتخار اور دیگر عہدیداران کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ جج صاحبان کو وکلاء ہی قانون کی روشنی میں رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔ عدلیہ اور وکلاء کا باہمی تعاون انصاف کی فراہمی اور قانون کی بالادستی کے لیے ناگزیر ہے۔انہوں نے کہا کہ وکلاء برادری کے ساتھ ہمیشہ گہرا تعلق رہا ہے اور اس تعلق کو باعثِ اعزازسمجھتا ہوں۔ اپنے فرائض کی ادائیگی کے دوران ہمیشہ وکلاء کے مؤقف پر توجہ دی ہے اور عدلیہ و وکلاء کے درمیان باہمی احترام اور تعاون کو فروغ دینے کی کوشش کی ہے۔وکلاء کو چاہیے کہ عدالتوں میں واضح، جامع اور متعلقہ قانونی نکات کی بنیاد پراپنے دلائل پیش کریں۔چیف جسٹس نے کہا کہ عدالتی نظام میں ہر فریق کی اپنی اپنی ذمہ داریاں ہیں۔ وکلاء اپنے مؤکلین کی مؤثر نمائندگی کریں۔ عدالتوں میں دلائل قانون اور حقائق کی بنیاد پر پیش کرناوکلا ء کی پیشہ ورانہ ذمہ داری کا اہم حصہ ہے، جبکہ فیصلے قانون اور شواہد کی روشنی میں کیے جاتے ہیں۔انہوں نے نوجوان وکلاء میں لائسنس دیتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ وہ محنت، دیانت داری اور پیشہ ورانہ ذمہ داری کے ساتھ اپنے فرائض انجام دیں گے اور انصاف کی فراہمی کے نظام کو مزید مؤثر بنانے میں اپنا کردار ادا کریں گے۔چیف جسٹس نے صدرسینٹرل بارایسوسی ایشن اور وکلاء برادری کی جانب سے عزت افزائی، محبت اور تعاون پر شکریہ ادا کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ عدلیہ اور وکلاء کے درمیان مضبوط روابط، باہمی احترام اور پیشہ ورانہ تعاون سے عوام کو انصاف کی بہتر فراہمی ممکن بنائی جا سکتی ہے۔صدر سینٹرل بار ایسوسی ایشن راجہ ضعیم افتخار نے چیف جسٹس آزاد جموں و کشمیر جسٹس راجہ سعید اکرم خان کو سینٹرل بار آمد پر دلی مبارکباددی اور خوش آمدید کہا۔ انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس آزاد کشمیر اور معزز جج صاحبان کی سینٹرل بار آمد ہمارے لیے باعثِ مسرت اور اعزاز ہے۔ انہوں نے چیف جسٹس آزاد کشمیر کی عدالتی خدمات اور بار کے ساتھ ان کی دیرینہ وابستگی کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ راجہ ضعیم افتخارنے کہا کہ وکلاء اور ججز کے درمیان باہمی احترام اور تعاون ہی انصاف کی مؤثر فراہمی کی بنیاد ہے۔ تقریب کے اختتام پر چیف جسٹس آزادکشمیر راجہ سعید اکرم خان، سینئر جج سپریم کورٹ جسٹس رضا علی خان اور جج سپریم کورٹ جسٹس خالد یوسف چوہدر ی نے نئے اینرول ہونے والے وکلا ء میں لائسنس تقسیم کیے۔

سپیکر قانون ساز اسمبلی چوہدری طارق فاروق کی زیر صدارت آزادجموں وکشمیر قانو ن ساز اسمبلی کے اجلاس میں سابق وزیرا عظم و ممبر اسمبلی فیصل ممتاز راٹھور،اپوزیشن لیڈر و ممبر اسمبلی چوہدری محمد یاسین،ممبر اسمبلی چوہدری محمد اسماعیل،ممبر اسمبلی سید بازل علی نقوی،ممبر اسمبلی محترمہ سحرش قمر،ممبر اسمبلی چوہدری محمد رخسار،ممبر اسمبلی محترمہ فرزانہ یعقوب کی جانب سے قراردادیں پیش کیں گئیں۔جنہیں متفقہ طور منظور کر لیا گیا۔
سپیکر قانون ساز اسمبلی چوہدری طارق فاروق کی زیر صدارت آزادجموں وکشمیر قانو ن ساز اسمبلی کے اجلاس میں سابق وزیرا عظم و ممبر اسمبلی
