آزادجموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے سپیکر اور مسلم لیگ (ن) آزادجموں وکشمیر کے سیکرٹری جنرل چوہدری طارق فاروق نے کہا ہے کہ موجودہ صورتحال میں سیاست اور سیاستدانوں کو موثر کردار کا موقع ملنا چاہیے

آزادجموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے سپیکر اور مسلم لیگ (ن) آزادجموں وکشمیر کے سیکرٹری جنرل چوہدری طارق فاروق نے کہا ہے کہ موجودہ صورتحال میں سیاست اور سیاستدانوں کو موثر کردار کا موقع ملنا چاہیے، سیاستدان کے پاس موقع ہے کہ اپنے آپ کو قومی مقاصد کے مطابق ڈھالیں، سیاسی قیادت کی ذمہ داری راستہ نکالنا اور رہنمائی فراہم کرنا ہے، ماضی کے بجائے مستقبل کے لیے نئی راہیں تلاش کرنے کی ضرورت ہے، غلطیوں سے سبق سیکھنا دانشمندی ہے، آزادجموں و کشمیر اسمبلی کی مہاجرین نشستوں کے مستقبل کے حوالے سے وسیع البنیاد اتفاق رائے کی ضرورت ہے، تمام اداروں میں اصلاحات کا حامی ہوں، آزادجموں وکشمیر اتنے بڑے انتظامی ڈھانچے اور اخراجات کے حجم کے ساتھ ترقی نہیں کر سکتا، موجودہ حکومت نوجوانوں پر مشتمل ہے، اسے درست سمت میں آگے بڑھنے کیلئے موقع ملنا چاہیے، بجلی اور آٹے پر سبسڈی ختم نہیں ہو گی،، ڈیٹا کی بنیاد پر ٹارگٹڈ رعایت اور سہولت ملنی چاہیے، فاروق حیدر اور شاہ غلام قادر مسلم لیگ (ن) کی سینئر رہنما ہیں، حکومت ان سے رہنمائی اور مشاورت کرتی ہے ان خیالات کااظہار نہوں نے اپنی رہائش گاہ، سپیکر ہاؤس میں سینئر صحافیوں کے ساتھ گفتگوکرتے ہوئے کیا چوہدری طارق فاروق کا کہنا تھا کہ اگرچہ اقتدار طاقت ور ہوتا ہے تاہم سپیکر اسمبلی حکومت کا حصہ نہیں ہوتا، اسی طرح صدر ریاست بھی حکومت کا حصہ نہیں ہوتے، نومنتخب حکومت کو قائم ہوئے ابھی چند ہفتے گزرے ہیں، کابینہ کا دوسرا فیز ابھی باقی جو میاں محمد نواز شریف کی وطن واپسی کے ساتھ ہی مکمل کر لیا جائے گا، پارٹی کے سیکرٹری جنرل کی حیثیت سے جماعتی کارکنوں سے شناسائی ہے، بیورو کریسی کے حوالے سے بھی واقفیت ہے، اسمبلی حکومت نہیں بلکہ کابینہ اور وزیراعظم حکومت ہوتے ہیں، سینئر قیادت کو ایوان کے اندر موجود،نوجوانوں کے لیے سیکھنے کا موقع فراہم کرنا چاہیے، پونچھ ڈویژن کے 7حلقوں میں انتخاب کے زیر التواء ہونے کی وجہ سے حکومت اور کابینہ میں توسیع نہیں ہو ئی، ان علاقوں کی نمائندگی کے بغیر حکومت مکمل اور فعال نہیں ہو سکتی،پونچھ میں امن و امان اور حالات سدھارنے کیلئے صدر ریاست کی وساطت سے مذاکرات ہو رہے ہیں، جو غیر سرکاری ہیں، ان کے نتیجہ خیز ہونے تک میڈیا میں کسی بھی قسم کی قیاس آرائی نہیں ہونی چاہیے، بیک ڈور چینل سے بات چیت کے مثبت نتائج کی توقع ہے، ذاتی حیثیت میں بیرون ملک ڈائس پورہ کے ساتھ بات چیت کے لیے تیارہوں اور باہر جانا بھی چاہتا تھا، مگر الیکشن کے بعد حکومت سازی اور دیگر زیر التواء معاملات کی وجہ سے ایسا نہیں ہوسکا، بیرون ملک امریکہ، یورپ اور برطانیہ میں مرحوم بیرسٹر سلطان چوہدری کا کردار اور اثر ورسوخ رہا ہے،ان کے انتقال کے بعد اب صورتحال بدل گئی ہے،سوشل میڈیا کی وجہ سے بیرون ملک غلط معلومات نے ماحول خراب کیا ہے، کوشش ہے کہ قانون ساز اسمبلی سمیت تمام ریاستی جماعتوں کی قیادت پر مشتمل وفود بیرون ملک جائیں اور بداعتماد ی کے خاتمہ کے لیے اپنا کردار ادا کریں، حالات کی موجودہ خرابی میں ان بااختیار اور سیاسی لوگوں کا بھی کردار ہے جو اپنے بیانات اور موقف وقت کے ساتھ بدلتے رہے ہیں، یہ دوعملی کا نتیجہ ہے، پیپلزپارٹی نے مختصر دورانیے کے اقتدار کے دوران پونچھ کی صورتحال پر سیاسی مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کی، مرحلہ وار انتخاب پیپلزپارٹی کی رضامندی سے ہوئے، چوہدری طارق فاروق کا مزید کہنا تھا کہ صدر ریاست سمیت جملہ سیاسی قیادت کو باہر نکلنا چاہیے، اور مکالمے کے ذریعے مسائل کا حل تلاش کرنا چاہیے، سیاسی جماعتوں اور سیاسی قیادت پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنا کردار ادا کریں، سیاسی جماعتوں اور قیادت کو غیر متعلق اور غیر موثر کرنے کا عمل گزشتہ اسمبلی کے دوران شروع ہو ا، ہم نے ایک سال پہلے موجودہ صورتحال کے حوالے سے فیکٹ فائنڈنگ کمیشن کے قیام کا مطالبہ کیا تھا مگر کسی سیاسی جماعت بشمول صدر مسلم لیگ (ن) آزادکشمیر نے ہماری تائید نہیں کی۔

Share This Post

More To Explore