آزاد جموں و کشمیر کلچرل اکیڈمی اور کشمیر انسٹیٹیوٹ آف انٹرنیشنل ریلیشنز (کے آئی آئی آر) کے اشتراک سے موسمیاتی تبدیلی کے آزاد جموں و کشمیر کی تہذیب، ثقافت اور لسانی شناخت پر اثرات کے موضوع پر سیمینار منعقد کیا گیا، جس میں ماہرین، علمی و ادبی شخصیات اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔

آزاد جموں و کشمیر کلچرل اکیڈمی اور کشمیر انسٹیٹیوٹ آف انٹرنیشنل ریلیشنز (کے آئی آئی آر) کے اشتراک سے موسمیاتی تبدیلی کے آزاد جموں و کشمیر کی تہذیب، ثقافت اور لسانی شناخت پر اثرات کے موضوع پر سیمینار منعقد کیا گیا، جس میں ماہرین، علمی و ادبی شخصیات اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔ سیمینار میں ماحولیاتی تبدیلیوں کے ثقافتی اثرات اور خطے کے تاریخی و تہذیبی ورثے کے تحفظ کے لیے مؤثر حکمتِ عملی کی ضرورت پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ڈائریکٹر جنرل آزاد جموں و کشمیر کلچرل اکیڈمی فیضان خان مغل نے کہا کہ وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر بیرسٹر افتخار گیلانی کے وژن کے مطابق موسمیاتی تبدیلی کے ثقافتی اثرات کو اجاگر کرنے اور خطے کے تہذیبی ورثے کے تحفظ کے لیے جامع منصوبہ بندی پر توجہ دی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے پالیسی سازی، تحقیقی سرگرمیوں اور عملی اقدامات کے ذریعے آزاد کشمیر کی ثقافتی شناخت، علاقائی زبانوں اور روایات کے تحفظ کو مؤثر انداز میں آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ان شاء اللہ آنے والے دنوں میں اس ضمن میں عملی پیش رفت ہوگی اور اس اہم شعبے میں مثبت اقدامات سامنے آئیں گے۔سیمینار میں موسمیاتی تبدیلی، قدرتی آفات، آبادیوں کی نقل مکانی اور ان عوامل کے نتیجے میں مقامی ثقافتوں، روایتی طرزِ زندگی اور علاقائی زبانوں کو درپیش خطرات کا جائزہ لیا گیا۔ مقررین نے اس امر پر زور دیا کہ ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات کو صرف قدرتی ماحول اور معاشی نقصانات تک محدود نہیں سمجھنا چاہیے، بلکہ ان کے تہذیبی، ثقافتی اور لسانی پہلوؤں کو بھی اہمیت دینا ضروری ہے۔سیمینار کے دوران ڈاکٹر شفیق عباسی، ڈائریکٹر انوائرنمنٹل ایجنسی، نے پروجیکٹر کی مدد سے تقریباً ایک گھنٹے پر مشتمل تفصیلی لیکچر دیا، جس میں موسمیاتی تبدیلی کے آزاد جموں و کشمیر کی تہذیب، ثقافت اور لسانی شناخت پر اثرات کا جامع جائزہ پیش کیا گیا۔اس موقع پر ڈائریکٹر کشمیر انسٹیٹیوٹ آف انٹرنیشنل ریلیشنز سردار ولید، عثمان جہانگیر مغل اور محترمہ خضرہ منظور نے بھی خطاب کیا اور موضوع کی اہمیت پر اظہارِ خیال کیا۔ سیمینار میں پرنسپل ماڈل سائنس کالج محترمہ شگفتہ بخاری،، محترمہ رخسانہ اور دیگر شخصیات نے بھی شرکت کی۔فیضان خان مغل نے اپنے خطاب میں کہا کہ آزاد جموں و کشمیر کی تہذیب و ثقافت ماحولیاتی تبدیلیوں اور قدرتی آفات کے تناظر میں خصوصی توجہ کی متقاضی ہے۔ بالخصوص 8 اکتوبر 2005 کے تباہ کن زلزلے کے بعد خطے کے سماجی اور ثقافتی منظرنامے میں نمایاں تبدیلیاں رونما ہوئیں۔ متعدد آبادیاں تباہ ہوئیں، بہت سے خاندان نقل مکانی پر مجبور ہوئے اور کئی علاقوں میں صدیوں سے رائج طرزِ زندگی اور روایتی سماجی روابط متاثر ہوئے۔انہوں نے کہا کہ ثقافت محض رسم و رواج، لباس یا لوک موسیقی تک محدود نہیں، بلکہ اس میں مقامی زبانیں، لوک ادب، روایات، اجتماعی یادداشت اور نسل در نسل منتقل ہونے والا علم بھی شامل ہے۔ جب کوئی گاؤں تباہ ہوتا ہے یا اس کے باشندے مستقل طور پر دوسرے علاقوں میں منتقل ہو جاتے ہیں تو اس کے اثرات صرف گھروں اور معاشی سرگرمیوں تک محدود نہیں رہتے، بلکہ مقامی زبان، ثقافتی روایات اور اجتماعی شناخت بھی متاثر ہو سکتی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اگر کسی ایسے گاؤں کی آبادی منتشر ہو جائے جہاں ایک مخصوص علاقائی زبان یا بولی رائج ہو تو اس زبان کے معدوم ہونے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ زبانوں کے ساتھ ان سے وابستہ لوک داستانیں، کہاوتیں، گیت اور روایتی معلومات بھی رفتہ رفتہ ناپید ہو سکتی ہیں۔ اس لیے ثقافتی ورثے کے تحفظ کو موسمیاتی تبدیلی اور قدرتی آفات سے متعلق پالیسی سازی اور تحقیقی سرگرمیوں کا حصہ بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ڈائریکٹر جنرل کلچرل اکیڈمی نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر کی تہذیبی شناخت اس کے پہاڑوں، وادیوں، دیہی آبادیوں، علاقائی زبانوں اور صدیوں پرانی روایات سے جڑی ہوئی ہے۔ ماحولیاتی تبدیلیوں اور قدرتی آفات سے متاثرہ آبادیوں کی بحالی کے منصوبوں میں مقامی ثقافت، زبانوں اور روایتی طرزِ زندگی کے تحفظ کو بھی مناسب اہمیت دی جانی چاہیے، تاکہ ترقی اور بحالی کے عمل کے دوران خطے کی تاریخی و تہذیبی شناخت محفوظ رہ سکے۔سیمینار میں اس امر پر زور دیا گیا کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کا جائزہ لیتے ہوئے ثقافتی ورثے اور لسانی تنوع کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ ماہرین، تعلیمی اداروں، ثقافتی تنظیموں اور متعلقہ سرکاری اداروں کے درمیان تعاون کے ذریعے ان اثرات کی نشاندہی، دستاویز بندی اور تدارک کے لیے مؤثر اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔تقریب کے اختتام پر ڈائریکٹر کشمیر انسٹیٹیوٹ آف انٹرنیشنل ریلیشنز سردار ولید نے ڈائریکٹر جنرل آزاد جموں و کشمیر کلچرل اکیڈمی فیضان خان مغل کو یادگاری شیلڈ پیش کی۔ بعدازاں فیضان خان مغل اور سردار ولید نے سیمینار میں شرکت کرنے والی مختلف شخصیات میں بھی یادگاری شیلڈز تقسیم کیں۔اس موقع پر فیضان خان مغل نے آزاد جموں و کشمیر کلچرل اکیڈمی کے زیرِ اہتمام شائع ہونے والی کتاب ”لہو لہو کشمیر“ سردار ولید اور عثمان جہانگیر مغل کو پیش کی، جبکہ تقریب کے دیگر شرکا کو بھی کتاب کے نسخے پیش کیے گئے۔ کتابوں کی پیشکش کو علمی، ادبی اور ثقافتی روابط کے فروغ اور کشمیری تاریخ و ادب کو اجاگر کرنے کی کوششوں کے تناظر میں اہم قرار دیا گیا۔شرکا نے اس نوعیت کی علمی و تحقیقی سرگرمیوں کو اہم قرار دیتے ہوئے اس ضرورت پر زور دیا کہ آزاد جموں و کشمیر کے ثقافتی ورثے، مقامی زبانوں اور روایتی علوم کو محفوظ بنانے کے لیے مربوط کوششیں کی جائیں، تاکہ آنے والی نسلیں اپنی تہذیبی شناخت اور ثقافتی تاریخ سے وابستہ رہ سکیں۔

Share This Post

More To Explore