وزیر اعظم آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر فیصل ممتاز راٹھور نے سون منجھاڑی تراڑکھل سڑک کا سنگ بنیاد رکھ دیا

وزیر اعظم آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر فیصل ممتاز راٹھور نے سون منجھاڑی تراڑکھل سڑک کا سنگ بنیاد رکھ دیا۔وزیر اعظم آزاد کشمیر کی خصوصی ہدایت پر سون منجھاڑی تراڑکھل شاہراہ منصوبہ دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ 12.75 کلومیٹر طویل اس اہم شاہراہ کے لیے 906.840 ملین روپے کی خطیر لاگت کا تخمینہ منظور کیا گیا ہے، جبکہ منصوبہ تین سال کی مدت میں مکمل کیا جائے گا۔اس موقع پر سابق صدر و وزیر اعظم آزاد کشمیر سردار یعقوب خان، سابق وزیر اعظم سردار تنویر الیاس خان، مشیر حکومت سردار احمد صغیر خان، سردار فہد یعقوب خان، ممبر کشمیر کونسل سردار عدنان سیاب خالد، سابق وزیر حکومت سردار عابد حسین عابد، سردار سعود صادق خان سمیت دیگر بھی موجود تھے۔سنگ بنیاد رکھنے کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم آزاد کشمیر فیصل ممتاز راٹھور نے کہا منصوبہ کی تکمیل کے لیے رواں سال کی اے ڈی پی میں فنڈز رکھے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت کو صرف چھ ماہ ملے جو بہت مختصر وقت تھا اس میں نہ صرف منصوبہ جات کا آغاز ہوا بلکہ کئی منصوبے تکمیل کو بھی پہنچے۔ اسی دور حکومت میں عوام کا حکومت پر اعتماد بحال کیا۔سیاسی قیادت جو کے غیر متعلقہ ہو گئی تھی اسے واپس بحال کیا۔ ہونے والے کام فوری کیے۔بقیہ مطالبات بھی پورے کیے جائیں گے۔لوگوں کے کام آج بھی ہو رہے ہیں کل بھی ہوں گے۔عوام اعتماد کرتے ہیں۔پیپلز پارٹی ایک نظریہ کا نام ہے والد کا کوئی اثاثہ نہیں تھا۔سنگ بنیادکی تقریب شاہراہ غازی ملت پر سون کے مقام پر منعقد ہوئی۔یہ شاہراہ غازی ملت شاہراہ کو براستہ منجھاڑی تراڑکھل شہر سے ملائے گی، جس کے نتیجہ میں ہجیرہ، عباسپور اور حویلی کہوٹہ کے عوام کو اسلام آباد اور راولپنڈی تک رسائی کے لیے ایک مختصر اور آسان ترین راستہ میسر آئے گا۔ عوامی و تجارتی حلقوں نے اس منصوبہ کو خطہ کی ترقی کے لیے ایک سنگ میل قرار دیا ہے۔ سڑک کی تعمیر سے نہ صرف آمد و رفت کی جدید سہولیات میسر آئیں گی بلکہ علاقہ میں سیاحت کے فروغ کے بھی روشن امکانات پیدا ہوں گے۔ خوبصورت قدرتی مناظر سے مالا مال یہ علاقہ بہتر شاہراہ کی بدولت سیاحتی سرگرمیوں کا مرکز بن سکے گا، جس سے مقامی معیشت کو تقویت اور لوگوں کے معیار زندگی میں بہتری آئے گی۔ مختصر روٹ کی دستیابی سے سفر کے اخراجات اور وقت میں نمایاں کمی آئے گی، جبکہ تجارتی سرگرمیوں میں اضافہ ہونے سے کاروبار اور روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔ دفاعی نقطہ نظر سے بھی اس شاہراہ کو انتہائی اہمیت ہے اور یہ سڑک ایک مؤثر ڈیفنس روٹ کے طور پر بھی کام کرے گی۔واضح رہے کہ سون منجھاڑی تراڑکھل شاہراہ علاقہ کے عوام کا ایک دیرینہ مطالبہ تھا۔ یہ منصوبہ پہلی مرتبہ 2002 میں شروع کیا گیا تھا اور ابتدائی سطح پر کچھ تعمیراتی کام بھی ہوا، تاہم بعد ازاں مختلف وجوہات کی بنا پر یہ منصوبہ تعطل کا شکار ہو گیا تھا۔ موجودہ حکومت نے وزیر اعظم آزاد کشمیر فیصل ممتاز راٹھور کی خصوصی دلچسپی کے باعث اس اہم منصوبہ کو دوبارہ فعال کر دیا ہے، جس پر عوامی حلقوں نے اطمینان اور خوشی کا اظہار کرتے ہوئے حکومت کے اس اقدام کو خوش آئند قرار دیا

Share This Post

More To Explore