چئیرپرسن بی آئی ایس پی، سینیٹر روبینہ خالد نےمحکمہ زراعت، لائیوسٹاک، آبپاشی و اسماء کے زیر اہتمام منعقدہ زرعی کانفرنس 2026 سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آزاد کشمیر میں قدرتی وسائل کا بے پناہ پوٹینشل موجود ہے اور یہاں کے لوگوں میں بھی بہت پوٹینشل موجود ہے کمی صرف باہمی روابط کے فروغ اور منصوبہ بندی کی تھی جس خلا کو پر کرنے کیلئےوزیراعظم آزادکشمیر فیصل ممتاز راٹھور کی کاوشیں قابل ستائش ہیں آج کی یہ زرعی کانفرنس اس کی بہترین مثال ہے، وزیراعظم آزاد کشمیر فیصل ممتاز راٹھور کی قیادت میں آزاد کشمیر حکومت نے نامساعد حالات میں بہترین کام کیا ہے، خطے میں ترقیاتی منصوبہ جات کو دیکھ کر انتہائی خوشی ہوتی ہے۔خواتین کو بااختیار بنانے کیلئے خواتین کی عملی کامیابیوں پر مبنی دستاویزی فلم دیکھ کر فخر محسوس کررہی ہوں، آج کی عورت اگر با اختیار ہے اور ہر میدان میں کامیابی کے جھنڈے گاڑھ رہی ہے تو اس کے پیچھے شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کا ہاتھ ہے اور ان کے ویژن اور بے مثال عملی قیادت کی عکاسی ہے۔ خواتین کے معاشی استحکام کیلئے شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کا انکم سپورٹ پروگرام کی بہتری کیلئے آزاد کشمیر کے تمام سٹیک ہولڈرز کے ساتھ ملکر کام کریں گے۔ آزاد جموں و کشمیر حکومت کی جانب سے شعبہ زراعت کی ترقی کے لیے اٹھائے گئے اقدامات قابل تعریف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ معاشی ترقی کے لیے باہمی تعاون اور روابط کو مزید فروغ دینا ناگزیر ہے۔سینیٹر روبینہ خالد نے کہا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام اور آزاد جموں و کشمیر حکومت کے باہمی اشتراک سے خواتین کی معاشی خودمختاری کے لیے مزید اقدامات کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کی بااختیاری کا سہرا شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے وژن کو جاتا ہے اور ہماری بی آ ئی ایس پی بینیفشریز کو بی بی شہید کی دلیری اور ہمت سے سبق حاصل کرنا چاہیے۔ چئیرمین بی آئی ایس پی، سینیٹر روبینہ خالد نے مہمان خصوصی وزیر اعظم آزاد کشمیر فیصل ممتاز راٹھور، وزراء حکومت، پاکستان کے اداروں کے سربراہان، کاروباری طبقوں اور سول سوسائٹی کی کانفرنس میں بھرپور شرکت کو سراہا اور منتظمین کو بہترین انتظامات پر مبارکباد پیش کی۔وزیر زراعت، لائیو سٹاک، آبپاشی و اسماء سردار علی شان سونی نے زرعی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم آزادکشمیر فیصل ممتاز راٹھور کے ویژن اور خصوصی دلچسپی سے زرعی کانفرنس 2026 کا انعقاد ممکن ہوا ہے جس پر میں انہیں خراج تحسین پیش کرتا ہوں، فیصل ممتاز راٹھور کی قیادت میں حکومت نے چھ ماہ کے قلیل عرصے میں جو تاریخی اقدامات اٹھائے وہ پچھلی حکومت کی اڑھائی سالہ کارکردگی پر بھاری ہیں، وزیراعظم آزادکشمیر نے صحیح معنوں میں ثابت کیا ہے کہ وہ عوامی وزیراعظم ہیں، زراعت و لائیوسٹاک کے فروغ کیلئے وزیراعظم آزادکشمیر کی جانب سے دئے گئے منصوبے وزیراعظم آزادکشمیر کی اداروں کے استحکام اور عوامی فلاح کی ترجیحات کا تعین کرتی ہے،وزیر زراعت، لائیو سٹاک، آبپاشی و اسماء نے کشمیر نژاد فرانسیسی بزنس مین امجد عزیز مالوی کا کانفرنس میں شرکت پر شکریہ ادا کیا اور اپنے خوابوں کی تکمیل کیلئے ان کی بے مثال جد وجہد کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی خدمات نوجوانوں کیلئے مشعل راہ ہیں۔ انہوں نےکانفرنس میں زراعت کے مختلف شعبہ کے ماہرین جنگی بدولت شرکاء کے علم میں بے پناہ اضافہ ہوا کا ان کے شاندار اور معلوماتی سیشنز پر ان کا شکریہ ادا کیا۔وزیر زراعت نےمہمان خصوصی وزیراعظم آزادکشمیر فیصل ممتاز راٹھور ، چئیرپرسن بی آئی ایس پی، سینیٹر روبینہ خالد، وزراء حکومت، سیکرٹریز حکومت، محکمہ زراعت، لائیو سٹاک کے آفیسران، منتظمین، کانفرنس میں شریک کسانوں اور لوگوں کا شکریہ ادا کیا۔ سیکرٹری زراعت وجاہت رشید بیگ نے کانفرنس سے خطاب کرتے کہا ہے کہ آزاد کشمیر میں زراعت محض ایک شعبہ نہیں بلکہ ایک مکمل طرزِ حیات ہے، زراعت آزادکشمیر بھر میں معیشت، معاشرت اور ثقافت کا بنیادی ستون ہے، معیشت کو مستحکم کرنا ہماری ترجیحات میں شامل ہے ،آزاد کشمیر میں موجود خالصہ اراضی کو پانچ ایکڑ کے بلاکس میں تقسیم کر کے نوجوانوں کے حوالے کیا جانا چاہیے ، زرعی بینک و صنعتی اداروں کے ذریعے آسان قرضوں کی فراہمی یقینی بنانا ہو گی ، زراعت کو فروغ ملے گا تو روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے ، زراعت موسمیاتی تبدیلی، پانی کی قلت، زرعی رقبے میں کمی اور منڈیوں تک محدود رسائی جیسے مسائل سے دوچار ہے، ، موجودہ حکومت ان چیلنجز کو مواقع میں بدلنے کے لیے پرعزم ہے، حکومت زراعت کو جدید، منافع بخش اور پائیدار شعبہ بنانے کے لیے جامع حکمت عملی پر عمل پیرا ہے، اس کانفرنس کا بنیادی مقصد آگاہی دینا تھا ،کسانوں کی استعداد کار بڑھانے اور ٹیکنالوجی کے بہتر استعمال کے لیے حکومت ہر ممکن اقدامات اٹھائے گی ، انہوں نے کہا کہ اس فورم کے ذریعے ریاست کی زرعی صورتحال کا جامع جائزہ لے کر مستقبل کے لیے مؤثر حکمت عملی ترتیب دینا ہوگی ، کسان بھائیوں کی ترجیحات کو سمجھنا ہوگا ، انہوں نے کہا کہ اس وقت زراعت کو موسمیاتی تبدیلی، پانی کی قلت، زرعی رقبے میں کمی اور منڈیوں تک محدود رسائی جیسے سنگین چیلنجز کا سامنا ہے، ہماری ترجیح ہے کہ ان مشکلات کو مواقع میں تبدیل کیا جا ئے ، حکومت زراعت کو جدید، منافع بخش اور مضبوط شعبہ بنانے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔حکومت ہائی ویلیو فصلوں کے فروغ، فصلوں میں تنوع، جدید آبپاشی نظام، باغات، معیاری بیجوں کے استعمال اور تحقیق پر مبنی کاشتکاری پر توجہ دے رہی ہے۔ کسانوں کی استعداد کار بڑھانے، منڈیوں تک رسائی بہتر بنانے، لائیوسٹاک کی بہتر ی ، ویکسینیشن اور ویٹرنری سہولیات کی بہتری کے لیے بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔دیہی معیشت کو مضبوط بنانے کے لیے ڈیری فارمنگ اور پولٹری کے فروغ پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے، قومی وژن “اڑان پاکستان” کے ساتھ ہم آہنگ ہو کر غذائی تحفظ اور پائیدار ترقی کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ زرعی زمینوں کا تحفظ کیا جائے گا، موسمیاتی تبدیلی سے ہم آہنگ جدید طریقہ کاشت اپنائے جائیں گے ، خواتین و نوجوانوں کو زراعت اور لائیوسٹاک کے شعبے میں فعال کردار دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر میں موجود خالصہ اراضی کو پانچ ایکڑ کے بلاکس میں تقسیم کر کے نوجوانوں کے حوالے کیا جائے گا ، زرعی بینک و صنعتی اداروں کے ذریعے آسان قرضوں کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی تاکہ روزگار کے مواقع پیدا ہوں اور معیشت مستحکم ہو۔ انہوں نے کہا پائیدار ترقی کے لیے تسلسل کے ساتھ پالیسی کو لے کر چلنا ہوتا ہے موجودہ حکومت پائیدار ترقی کے لیے ذرائع میں تسلسل اضافہ کے لیے کوشاں ہے حکومت عوامی فلاح کے لیے ہر ممکن اقدامات اٹھاتی رہے گی ۔ڈائریکٹر جنرل لائیو سٹاک و ایگریکلچر ڈاکٹر محمد اعجاز نے زراعت کے سیکٹر سے وابستہ مختلف شعبہ جات کے ماہرین و دیگر سٹیک ہولڈرز کی سفارشات پر مبنی مستقبل میں آزاد کشمیر میں زرعی شعبے کی ترقی کیلئے روڈ میپ پر تفصیلی روشنی ڈالی، انہوں نے زرعی ترقی کیلئے حکومت کی جانب سے منظور کیے گئے مکمل ،جاری اور مجوزہ منصوبہ جات سے بھی شرکاء کو آگاہ کیا۔

سپیکر قانون ساز اسمبلی چوہدری طارق فاروق کی زیر صدارت آزادجموں وکشمیر قانو ن ساز اسمبلی کے اجلاس میں سابق وزیرا عظم و ممبر اسمبلی فیصل ممتاز راٹھور،اپوزیشن لیڈر و ممبر اسمبلی چوہدری محمد یاسین،ممبر اسمبلی چوہدری محمد اسماعیل،ممبر اسمبلی سید بازل علی نقوی،ممبر اسمبلی محترمہ سحرش قمر،ممبر اسمبلی چوہدری محمد رخسار،ممبر اسمبلی محترمہ فرزانہ یعقوب کی جانب سے قراردادیں پیش کیں گئیں۔جنہیں متفقہ طور منظور کر لیا گیا۔
سپیکر قانون ساز اسمبلی چوہدری طارق فاروق کی زیر صدارت آزادجموں وکشمیر قانو ن ساز اسمبلی کے اجلاس میں سابق وزیرا عظم و ممبر اسمبلی
