چیف الیکشن کمشنر آزاد جموں و کشمیر جسٹس (ر) غلام مصطفیٰ مغل نے الیکشن کمیشن آف پاکستان کے مرکزی دفتر میں مہاجرین مقیم پاکستان کے حلقہ جات میں انتخابی فہرستوں کی تیاری کے حوالے سے صوبائی الیکشن کمشنرز، ریجنل الیکشن کمشنرز، ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنرز و اپیلنگ اتھارٹیز سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کیا۔

چیف الیکشن کمشنر آزاد جموں و کشمیر جسٹس (ر) غلام مصطفیٰ مغل نے الیکشن کمیشن آف پاکستان کے مرکزی دفتر میں مہاجرین مقیم پاکستان کے حلقہ جات میں انتخابی فہرستوں کی تیاری کے حوالے سے صوبائی الیکشن کمشنرز، ریجنل الیکشن کمشنرز، ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنرز و اپیلنگ اتھارٹیز سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کیا۔ اس موقع پر ممبر الیکشن کمیشن سید نظیر الحسن گیلانی، سیکرٹری الیکشن کمیشن راجہ محمد شکیل خان، اسپیشل سیکرٹری الیکشن کمیشن آف پاکستان سمیت دیگر افسران بھی موجود تھے۔چیف الیکشن کمشنر آزاد کشمیر نے مہاجرین مقیم پاکستان حلقوں کے لیے تعینات رجسٹریشن افسران کے انتخابی فہرستوں کی تیاری سے متعلق سوالات کے جوابات دیے اور اس ضمن میں تفصیلی رہنمائی فراہم کی۔ رجسٹریشن افسران سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس (ر) غلام مصطفیٰ مغل نے کہا کہ صاف، شفاف اور درست انتخابی فہرستیں منصفانہ انتخابات کی بنیاد ہیں، آزاد، منصفانہ اور شفاف انتخابات کا انعقاد الیکشن کمیشن کی اولین ترجیح ہے۔انہوں نے ہدایت کی کہ رجسٹریشن افسران انتخابی فہرستوں کی تیاری میں مکمل غیر جانبداری اور شفافیت کو یقینی بنائیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ تمام رجسٹریشن افسران کے تعاون سے مہاجرین حلقوں کے لیے جامع اور قابلِ اعتماد ووٹر فہرستیں مرتب کی جائیں گی، جو آئندہ عام انتخابات 2026 میں شفافیت کو یقینی بنائیں گی۔انہوں نے مزید ہدایت کی کہ 2021 کی انتخابی فہرست کو بنیاد بنا کر نئے ووٹرز کا اندراج کیا جائے، جبکہ نئے اندراج، درستگی اور تبدیلی کے لیے کوالیفائنگ ڈیٹ یکم اپریل 2026 مقرر کی گئی ہے۔ممبر الیکشن کمیشن سید نظیر الحسن گیلانی نے رجسٹریشن افسران سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مہاجرین مقیم پاکستان حلقوں میں ووٹر رجسٹریشن کے لیے سٹیٹ سبجیکٹ بنیادی شرط ہے۔ جموں سے تعلق رکھنے والے ووٹرز کا اندراج جموں کے حلقوں میں جبکہ ویلی کے سٹیٹ سبجیکٹ ہولڈرز کا اندراج ویلی کے حلقوں میں کیا جائے ، اور دونوں فہرستیں الگ الگ مرتب کی جائیں گی۔انہوں نے مزید کہا کہ آزاد کشمیر کے کسی بھی علاقے کا مستقل پتہ رکھنے والا شخص مہاجرین حلقوں کی ووٹر فہرست میں شامل نہیں ہو سکتا اور نہ ہی وہ ان حلقوں سے انتخاب لڑنے کا اہل ہے۔ اس ضمن میں رجسٹریشن افسران کو مکمل رہنما کتابچے فراہم کر دیے گئے ہیں جن میں آزاد کشمیر کے دس اضلاع اور 35 تحصیلوں کی تفصیلات درج ہیں۔شفافیت کو مزید یقینی بنانے کے لیے مختلف سیاسی جماعتوں کے نمائندگان پر مشتمل تصدیقی کمیٹیاں قائم کی گئی ہیں، جو ایسے ووٹرز کے کیسز کا فیصلہ کریں گی جن کے پاس سٹیٹ سبجیکٹ موجود نہ ہو۔ منگلا ڈیم کے متاثرین جو مہاجرین مقیم پاکستان کے حلقوں میں آباد ہیں، انہیں جموں کی ووٹر فہرست میں شامل کیا جائے گا۔انھوں نے یہ بھی واضح کیا گیا کہ فارم-ب رکھنے والے ایسے افراد جو کوالیفائنگ ڈیٹ سے قبل 18 سال کی عمر کو پہنچ چکے ہوں، انہیں ووٹر فہرست میں شامل کیا جا سکتا ہے، تاہم ووٹ ڈالنے کے وقت شناختی کارڈ کا ہونا لازمی ہوگا۔ اسی طرح وفات پا جانے والے افراد کے ووٹ ڈیتھ سرٹیفکیٹ کی بنیاد پر خارج کیے جائیں گے۔چیف الیکشن کمشنر آزاد جموں و کشمیر نے مزید کہا کہ الیکشن کمیشن جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے ذریعے انتخابی عمل کو مزید مؤثر اور قابلِ اعتماد بنانے کے لیے اقدامات کر رہا ہے۔انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ووٹر آگاہی مہم کو مؤثر بنایا جائے تاکہ اہل ووٹرز بروقت اپنے اندراج، تصحیح اور منتقلی کے عمل کو مکمل کر سکیں۔انہوں نے کہا کہ تمام متعلقہ اداروں کے باہمی تعاون اور مربوط حکمت عملی کے ذریعے آزاد کشمیر میں ایسے انتخابات کا انعقاد یقینی بنایا جائے گا جو قومی و بین الاقوامی معیار پر پورا اتریں۔ چیف الیکشن کمشنر نے تعاون پر چیف الیکشن کمشنر پاکستان سکندر سلطان راجہ اور دیگر افسران کا شکریہ ادا کیا۔

Share This Post

More To Explore