ترجمان /سیکرٹری آزادجموں وکشمیر الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ 28 مارچ 2026کو منعقد ہونے والے سیاسی جماعتوں کے نمائندگان کے اجلاس میں بعض سیاسی نمائندگان نے انتخابی فہرستہاء میں غیر مسلم / قادیانیوں کی الگ فہرست مرتب کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ یہ معاملہ چونکہ قانون سازی سے متعلق ہے اس نسبت آزاد جموں و کشمیر الیکشن کمیشن نے قانون سازی کے لئے حکومت سے تحریک کر دی ہے۔ اس مطالبہ پر قانون سازی کے بعد ہی عملد رآمد ممکن ہو سکتا ہے۔ جبکہ بعض مہاجرین نمائندوں نے یہ مطالبہ بھی کیا تھا کہ جس طرح آزاد کشمیر کے حلقہ جات میں ایک ڈسٹرکٹ کا دوٹر دوسرے ڈسٹرکٹ کے انتخابی حلقہ سے الیکشن میں حصہ لے سکتا ہے اسی طرح مبا ترین کی نشست با پر جموں کے دوٹرز کو وادی کے حلقہ سے الیکشن لڑنے اور وادی کے دوٹرز کو جموں کے حلقہ سے الیکشن لڑنے کی اجازت دی جائے اس نسبت بھی قانون سازی درکار ہے۔ متذکرہ اجلاس میں سیاسی جماعتوں کی جانب سے پیش کردہ دیگر مطالبات جو الیکشن کمیشن سے متعلق تھے ان کے حل کے لئے آزاد جموں و کشمیر الیکشن کمیشن اپنی سطح پر کارروائی کر رہا ہے۔ اجلاس میں سیاسی نمائندگان کی جانب سے انتخابی فہرستہاء کی تیاری کے وقت میں اضافہ کی نسبت آزاد جموں و کشمیر الیکشن کمیشن نے مہاجرین مقیم پاکستان و آزاد کشمیر کی انتخابی فہرستہاء کی تیاری کے شیڈول میں مزید 05 ایام کا اضافہ کر دیا ہے۔ اس طرح اب انتخابی فہرست ہاء میں ووٹ کا اندراج 24 مارچ 2026 تا 07 اپریل 2026تک جاری رہے گا۔

سپیکر قانون ساز اسمبلی چوہدری طارق فاروق کی زیر صدارت آزادجموں وکشمیر قانو ن ساز اسمبلی کے اجلاس میں سابق وزیرا عظم و ممبر اسمبلی فیصل ممتاز راٹھور،اپوزیشن لیڈر و ممبر اسمبلی چوہدری محمد یاسین،ممبر اسمبلی چوہدری محمد اسماعیل،ممبر اسمبلی سید بازل علی نقوی،ممبر اسمبلی محترمہ سحرش قمر،ممبر اسمبلی چوہدری محمد رخسار،ممبر اسمبلی محترمہ فرزانہ یعقوب کی جانب سے قراردادیں پیش کیں گئیں۔جنہیں متفقہ طور منظور کر لیا گیا۔
سپیکر قانون ساز اسمبلی چوہدری طارق فاروق کی زیر صدارت آزادجموں وکشمیر قانو ن ساز اسمبلی کے اجلاس میں سابق وزیرا عظم و ممبر اسمبلی
